ڈاکٹر نمرتا مدھوانی، جو لیاقت انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز میں بطور ریزیڈنٹ خدمات سرانجام دے رہی ہیں،گزشتہ ہفتے انہوں نے اپنے ایک کم عمر مریض عثمان کے بارے میں لنکڈ اِن پر پوسٹ لگائی۔ عثمان صرف چودہ برس کے تھے اور انہیں ایپلاسٹک انیمیا کی تشخیص ہوئی تھی۔ یہ مرض ہڈی کے گودے کو متاثر کرتا ہے اور رفتہ رفتہ خون کے سرخ و سفید خلیات اور پلیٹ لیٹس بننا بند ہو جاتے ہیں، نتیجتاً مریض شدید خون کی کمی، بار بار انفیکشن اور جان لیوا خون جاری ہونے کا شکار ہو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے اس بیماری میں بون میرو ٹرانسپلانٹ ہی واحد مؤثر علاج ہے۔
عثمان کئی ماہ سے ٹرانسپلانٹ کے انتظار میں تھے۔ انہیں گمبٹ ہسپتال میں داخلے کے لیے بھیجا گیا جہاں ایچ ایل اے ٹائپنگ کے لیے خون کا نمونہ لیا گیا۔ لیکن یہ نمونہ کلاٹ ہو جانے کے باعث رپورٹ نہ بن سکی اور اس کے بعد کوئی واضح پیش رفت نہ ہوئی۔ ڈاکٹر نمرتا نے گمبٹ ہسپتال کے کنسلٹنٹ ہیماٹولوجی سے رابطہ کیا مگر انہیں کوئی مثبت جواب نہ ملا۔ بالآخر انہوں نے 14 اگست کو ایک اور پوسٹ کی جس میں اپنی شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان بھر کے بون میرو ٹرانسپلانٹ مراکز سے عثمان کی مدد کی درخواست کی۔
ہمارے PKLI لاہور کے بون میرو ٹرانسپلانٹ سینٹر کی ایک ساتھی ڈاکٹر نے یہ پوسٹ ہمارے واٹس ایپ گروپ میں شیئر کی۔ اس کے بعد میں نے ذاتی طور پر ڈاکٹر نمرتا سے رابطہ قائم رکھا اور انہیں مشورہ دیا کہ عثمان کا ایچ ایل اے ٹائپنگ دوبارہ آغا خان لیب سے کروایا جائے، جہاں مستحق مریضوں کو درخواست پر پچاس فیصد رعایت مل جاتی ہے۔ مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ آج صبح ڈاکٹر نمرتا نے اطلاع دی کہ عثمان کا انتقال ہو گیا۔ وہ پچھلے کئی ہفتوں میں بار بار انفیکشن اور خون جاری ہونے کے باعث ہسپتال میں داخل رہے اور آخر کار دماغ میں خون جاری ہو جانے کے سبب اپنی زندگی کی بازی ہار گئے۔
پاکستان میں ہر سال تقریباً آٹھ سو پچاس نئے مریض ایپلاسٹک انیمیا کے ساتھ سامنے آتے ہیں، لیکن ریفرل نظام نہ ہونے کی وجہ سے ان میں سے اکثر بروقت ٹرانسپلانٹ تک نہیں پہنچ پاتے اور چند ماہ کے اندر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ ملک میں ٹرانسپلانٹ کی سہولت چند بڑے شہروں تک محدود ہے، جہاں یا تو اخراجات انتہائی زیادہ ہیں یا سرکاری نظام میں بیڈز اور وسائل ناکافی ہیں۔ نجی طور پر ٹرانسپلانٹ کا خرچہ پچاس سے اسی لاکھ روپے کے درمیان ہے، جو عام خاندان کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر مریضوں کے علاج کے لیے مالی مدد یا خیراتی اداروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ لاہور میں ہمارا بون میرو ٹرانسپلانٹ وارڈ چار بیڈز پر مشتمل ہے اور یہاں حکومتی اور غیر حکومتی تعاون کے ذریعے مستحق مریضوں کے لیے مفت ٹرانسپلانٹ کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ ٹرانسپلانٹ کے لیے عموماً مریض کے بھائی یا بہن جیسے قریبی رشتے دار سے مطابقت رکھنے والے خون بنانے والے خلیے درکار ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں ایسے مریضوں کے لیے رجسٹریز قائم ہیں جن کے ذریعے خاندان سے باہر کے لوگ بھی میچنگ کے بعد خلیے عطیہ کر سکتے ہیں۔ ہم پاکستان میں بھی اس رجسٹری کے قیام کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس عمل میں عطیہ دہندگان کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہوتا کیونکہ ان کے خلیے چند ہی دنوں میں دوبارہ بن جاتے ہیں، اور یہ علاج کسی بڑی سرجری کے بجائے ادویات کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
عثمان کی کہانی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہمارے ملک میں ریفرل سسٹم کی عدم موجودگی، لیبارٹری رپورٹنگ کی خامیاں، اور ٹرانسپلانٹ کی سہولت تک بروقت رسائی نہ ہونا کس طرح کم سن زندگیاں نگل لیتا ہے۔ اگر بروقت رابطہ، فوری تشخیص اور سہولت میسر ہو تو شاید ایسے کئی بچے بچائے جا سکتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مل کر ایک مربوط ریفرل سسٹم، قومی ڈونر رجسٹری اور مالی معاونت کے پائیدار حل کے لیے آواز بلند کریں، تاکہ اگلا عثمان ہم سے یوں بچھڑ نہ پائے۔
اگر آپ کے جاننے والوں میں کوئی ایسا مریض ہے جس کے لیے بون میرو ٹرانسپلانٹ تجویز کیا گیا ہے تو براہ راست پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ اینڈ ریسرچ سینٹر لاہور سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ تفصیل کے لیے یہ لنک ملاحظہ کیجیے:
👉 Pakistan Kidney and Liver Institute and Research Centre – PKLI https://share.google/FBgqmQ4KYM7z4W5Bv

