Browsing: لکھاری

تاریخ کی مسکراتی آنکھوں کی چمک بتا رہی ہے 1400 سال پہلے فیصلہ ہو چکا کہ یہ شہر رے کسی ظالم غارت گر کو روٹی کا ایک ٹکڑا تک دینے پر آ مادہ نہیں ہوگا۔۔یہ فیصلہ تاریخی حقیقت نہیں بلکہ خدائی بیانیہ ہے کہ ہمیشہ اہلِ کوثر اہل تکاثرِ پر فتح پاتے رہیں گے کیونکہ کوثر کے ہاں لہو مقصد کی طاقت کو بڑھاتا اور نعمتوں کو خیر میں تبدیل کرتا رہتا ہے۔۔اور خیر کبھی نہیں مرتا!! کبھی نہیں جھکتا!!

یہ کتنی عجیب بات ہے کہ سینٹ جوڈ جیسے اداروں کے ممالک اپنے سرمایہ دارانہ مفادات کی تکمیل کے لیے غریب ملکوں پر حملے کرتے ہیں اور انہیں تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ سینٹ جوڈ جیسے ادارے اپنے ہی ملک کے ہاتھوں تباہ شدہ انہی ممالک کے سرطان زدہ بچوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ میں ان اداروں سے وابستہ افراد پر کوئی الزام نہیں رکھتا ، میں صرف ان اندوہناک تضادات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جنہیں مارکسزم کے سوا دنیا کا کوئی مذہبی، اخلاقی، سماجی یا سیاسی نظریہ اس وضاحت کے ساتھ بیان نہیں کر سکتا۔

ایکس پر خواجہ آصف کے ڈیلیٹ کیے ہوئے بیان کا متن ہی واضح کرتا ہے کہ ان کا بیان کسی حد تک تاریخ اور سفارتی صورت حال کی غلط تفہیم و تعبیر پر استوار ہے۔ انہوں نے لکھا: ’ اسرائیل شیطان ہے اور انسانیت کے لیے لعنت ہے۔ اسلام آباد میں امن مذاکرات جاری ہیں، لبنان میں نسل کشی کی جا رہی ہے۔ بے گناہ شہریوں کو اسرائیل کے ہاتھوں قتل کیا جا رہا ہے۔ پہلے غزہ، پھر ایران اور اب لبنان، خونریزی بلا روک ٹوک جاری ہے۔ میں امید اور دعا کرتا ہوں کہ وہ لوگ جنہوں نے یورپی یہودیوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے فلسطینی سرزمین پر یہ سرطان جیسی ریاست قائم کی، جہنم میں جلیں‘۔

اسرائیل کے علاوہ بھارت کوبھی پاکستان کا ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کے حوالے سے مؤثر کردار ہضم نہیں ہورہا۔ اس کا وزیر خارجہ بھارت سے چند ممالک کا دورہ کرنے نکل پڑا ہے۔ جو ملک اس نے دورے کے لئے چنے ہیں وہ بھی ایران،امریکہ مذاکرات سے خوش نہیں۔ انہیں بھڑکانا مقصود ہے۔ تفصیلات میں جانے سے مگر گریز بہتر ہے۔

“یہ جنگ کسی نے جیتی نہیں، مگر سب ہارنے سے بچ گئے ہیں…”
اور یہی اصل کہانی ہے۔
آخر میں بات وہی آ کر ٹھہرتی ہے کہ یہ پندرہ دن کی جنگ بندی محض ایک وقفہ ہے—سوچنے کا، اپنی حکمت عملی کو ازسرِ نو ترتیب دینے کا، اور شاید اگلی چال کی تیاری کا۔ دنیا ایک بار پھر اسی موڑ پر کھڑی ہے جہاں امید بھی ہے اور خدشہ بھی۔

ایک شام میں نے بھٹہ بلڈنگ پر نیشنل عوامی پارٹی کے دفتر کا سائن بورڈ دیکھا اور فوراً اندر جانے کا فیصلہ کر لیا۔ دفتر کی تلاش میں جب اندر پہنچا تو دیکھا کہ چھ سات کارکن ایک دری پر بیٹھے ہیں۔ یہیں میرا تعارف اشفاق احمد خان، راؤ سلیمان، حشمت وفا اور جہاں تک مجھے یاد ہے معروف دانشور اشفاق سلیم مرزا سے ہوا۔
میں نے ان دوستوں اور سیاسی کارکنوں کو التمش روڈ کے ایک ریسٹورنٹ میں مدعو بھی کیا، لیکن کالج میں اساتذہ اور دوستوں کے ساتھ میری سیاسی گفتگو پروفیسر ایف ایم خان کو پسند نہ آئی

ایران کو پتھر کے زمانے میں بھیجنے کی دھمکیاں دینے والا اور تہذیب کو بے نشان کرنے کی مجرمانہ نیت ظاہر کرنے والا بدتہذیب انسان کیا جانے کہ تاریخ اپنے نوشتے میں اسے مجرم قرار دے چکی ہے۔۔
شہید صدر آیت اللہ رئیسی کی زوجہ جو خود پی ایچ ڈی ڈاکٹر ، مجتہدہ اور عالمہ ہیں انہوں نے کراچی میں کیا خوب جملہ نظرِ سامعین کیا مسکراتے ہوئے کہنے لگیں کہ ہماری تہران یونیورسٹی کے درختوں کی تاریخ امریکی تاریخ سے زیادہ پرانی ہے۔۔۔

1914کے موسم بہار میں ویانا کا ایک نوجوان مصنف اسٹیفن زیوگ فرانس کے ایک تھیٹر گھر میں فلم دیکھ رہا تھا۔ اچانک کسی تکنیکی خرابی سے سکرین پر جرمنی کے شہنشاہ ولہلم دوم کی تصویر نمودار ہوئی۔ لمحوں میں تمام تماشائی عورتوں اور بچوں سمیت نفرت انگیز نعرے لگاتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ اسٹیفن زیوگ خوفزدہ ہو گیا۔ اسے پہلی بار معلوم ہوا کہ جنگی جنون میں اچھے بھلے انسان کس پاگل پن پر اتر آتے ہیں۔

بھولا دِکھتا مگر حقیقتاً بہت کائیاں ٹرمپ آبنائے ہرمز کھلوانے میں نہیں بلکہ ا یران کو پتھر کے زمانے میں دھکیلنے کے لئے فضائی حملوں ہی پر انحصار کو ترجیح دے گا۔ اس کی تقاریر اور پیغامات تواتر سے اب ایران میں رجیم چینج نہیں بلکہ پوری ایرانی قوم کو بلااستثنا فروری 1979ءسے امریکہ کو مسلسل ذلت کا نشانہ بنانے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان سے بدلہ لینے کا اظہار ہیں۔ ایران کی کامل تباہی وبربادی اس کا حتمی ہدف بن چکی ہے۔