سوال یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟؟؟یاد رکھیے کہ آواز اٹھانا اور صدائے احتجاج بلند کرنا بڑے بڑے بے ضمیروں کو مشکل میں ڈال دیا کرتا ہے.. ایک مضبوط بیانیہ قوموں کے ضمیر جھنجھوڑ کر ان ظالموں کا ظلم کو خاک میں ملا دیتا ہے۔۔ملک کی تمام انسانی حقوق کی تنظیموں سے التماس ہے کہ اس وحشیانہ ظلم پر ضرور آواز اٹھائیں… تعزیتی ریفرنس تعزیتی کانفرنسز منعقد کریں.. فنڈز دینے والوں سے نہ ڈریں
Browsing: لکھاری
پاکستانی جھنڈے کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے بارے میں بھی یہ غلط فہمی عام کی گئی ہے کہ یہ سب آئل ٹینکرز تھے اور سیدھے پاکستان آرہے تھے۔ حالانکہ یہ درست نہیں ہے۔ یہ ٹینکرز تیل کے علاوہ مختلف مصنوعات لے کر مختلف ممالک کی طرف جا رہے تھے۔ پاکستانی جھنڈے کے ساتھ گزرنے کی اجازت دے کر ایرانی حکومت نے جنگ بندی کی پاکستانی کوششوں کے ساتھ رضامندی کا مظاہرہ کیا تھا۔ حکومت کو اپنے عوام کو اس بارے میں حقیقی تصویر دکھانا چاہیے تھی۔
بدقسمتی .
بچپن ہمیشہ رنگوں، ہنسی اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا نام رہا ہے۔ ایک معمولی سا کھلونا بھی بچے کے لیے دنیا کی سب سے قیمتی چیز…
صدر زرداری اسی رات دیر گئے چینی سفارت خانے گئے،جسکی سرکاری پریس ریلیزجاری نہیں کی گئی البتہ اس کے بعد انہوں نے جناب اسحاق ڈار سے کہا کہ چینی وزیرِ خارجہ آپ کے منتظر ہیں،جلد وہاں پہنچئے،عام طور پر چینی اپنے جذبات چھپانے کا فن جانتے ہیں تاہم سب نے میڈیا پر دیکھا کہ چینی وزیرِ خارجہ کے چہرے پر ہمدردی کے ایسے تاثرات تھے کہ اندر سے ہمارے وزیرِ خارجہ کا جی چاہا ہوگا کہ وہ ان سے گلے ملتے ہوئے ایک دو اشک بہا دیں
دن بدلیں گے جاناں رضی الدین رضی کا پہلا شعری مجموعہ ہے ۔۔ یہ کتاب پہلی بار 1995 میں شائع ہوا ۔۔یہ مزاحمت اور محبت کی شاعری ہے ۔۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن مدت سے مارکیٹ میں موجود نہیں تھا ۔۔ حال ہی میں اس کا نیا ایڈیشن شائع کیا گیا ہے ۔۔ قیمت صرف 600 روپے ہے ۔۔ کتاب حاصل کرنے کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں ۔۔ 03186780423 ۔۔ ۔۔ مکمل نظم پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں موجود لنک کھولیں
تاریخ کا یہ المیہ رہا ہے کہ جو شخص تہذیب کو نئی سمت دینے کی کوشش کرتا ہے، وہی سب سے پہلے نشانہ بنتا ہے۔ بھٹو کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ان کی مقبولیت، ان کی خودمختار خارجہ پالیسی اور ان کا عوامی بیانیہ عالمی اور مقامی طاقتوں کے لیے ناقابلِ برداشت بن گیا۔
مشتاق کھوکھر کی نرینہ اولاد کی تعداد چار تھی جو پیدائشی معذور تھی اور وہ سب بچے وقفہ وقعہ سے انتقال کر گئے پھر ان کی اہلیہ مقصودہ بیگم بھی دنیائے فانی سے کوچ کرگئیں۔بعدازاں مشتاق کھوکھر نے معذور بچوں کی دیکھ بھال کیلئے ’’مقصودہ بیگم میموریل سوسائیٹی ‘‘ کے نام سے ایک فلاحی ادارہ قائم کیا۔ اور پھر اسی ادارہ کے زیراہتمام بھرپور ادبی محافل کا انعقاد کرواتے رہے۔
ڈاکٹر محلے داروں کی عمومی عادات و طبی مسائل سے بھی واقف تھا۔ معائنہ کرتا، خود ہی دوا پیس کے پڑیاں بناتا اور ایک بوتل میں کوئی شربت نما شے بھر کے اس پر کاغذ کو قینچی سے کاٹ کر خوراک کی مقدار کے نشان کے طور پر چپکا دیتا۔ جس نے جتنے پیسے دیے بغیر گنے دراز میں رکھ لیے۔ آمدنی کم اور احترام بے شمار۔
یہاں یہ بحث غیر ضروری اور بے کار ہوگی کہ کیا یہ ٹوئٹ واقعی نسیم شاہ کے خیالات کا پرتو تھا یا یہ انہوں نے خود ہی لکھوایا تھا یا کسی نے اکاؤنٹ ہیک کرکے اسے مریم کی ’تضحیک‘ کے لیے استعمال کیا۔ کیوں کہ ٹوئٹ میں کیا جانے والا سوال بے حد معصومانہ تھا۔
تب بھی امتحانی مرکز اپنا اسکول نہیں ہوتا تھا مگر کچھ مضطرب صدر معلم بھی ’کھلّے اور بُجّے‘کو بھی اپنے اسکول کو زیادہ سے زیادہ وظیفے دلانے کے لئے استعمال کرتے تھے یعنی بظاہر کسی کو ڈانٹنے کے لئےبُجّہ دیتے مگر دونوں ہتھیلیوں پر ضروری جواب لکھے ہوتے اسی طرح وہ جوتا اچھالتے یا دکھاتے تو اس کے تلے پر موٹے قلم سے کچھ جواب لکھے ہوتےتھے
