Browsing: لکھاری

امریکہ اور ایران کے مابین خفیہ،خاموش اور بالواسطہ روابط کی خبر ابھی تک کسی بھی مستند ذریعے سے منظر عام پر نہیں آئی ہے۔ اس کی عدم موجودگی میں یہ طے کرنا ممکن نہیں کہ منگل کی صبح تک ٹرمپ کے دئے 48گھنٹے گزرجانے کے بعد حالات کیا شکل اختیار کرچکے ہوں گے۔ کامل بے یقینی کی یہ کیفیت میں نے عمر تمام صحافت کی نذر کئے 40کے قریب برسوں میں ایک بار بھی محسوس نہیں کی ہے۔

امی کے جانے کے بعد یہ خاندان مکمل ہو گیا ۔۔ سب نے آج خوب دل کی باتیں کی ہوں گی ۔۔ نانی اماں نے گلے سے لگایا ہو گا ۔۔ دادی ہاتھ پکڑ کر ابو کے پاس لے گئی ہوں گی کہ تم اتنے برسوں سے اس کی راہ تک رہے تھے لو آ گئی ہے اب پوچھ لو کیوں دیر سے آئی اور امی نے کہا ہو گا ’’ تہاڈیاں امانتاں دی حفاظت نئیں کرنی سی ۔۔ ؟ سب نوں بنے لا کے آئی آں ‘‘ ( آپ کی امانتوں کی حفاظت نہیں کرنا تھی ؟ ۔۔ سب کو کنارے لگا کر آئی ہوں ) 

مریکی شرائط پر طے ہونے والا کوئی معاہدہ موجودہ رجیم کا آخری اہم فیصلہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں جو کام امریکی جنگ سے پورا نہیں ہؤا، وہ ایرانی عوام کا غم و غصہ پورا کردے گا۔ اگر ایرانی لیڈر پابندیاں اٹھوانے اور معاشی بحالی کے لیے کسی مثبت معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ، پھر امریکہ اور دنیا کو ایک نئی جوہری طاقت کے ظہور پزیر ہونےکا منتظر رہنا چاہئے۔

انہیں شبہ ہے کہ پاکستان دورمارمیزائلوں کے جدید ترین ورژن تیار کرنا چاہ رہا ہے ۔ جو متعددحساس معاملات پر ہمیں امریکہ کو انکار کے قابل بناسکیں۔
امریکہ کے جاسوسی کارندوں کی جانب سے پاکستان کے ایٹمی اور میزائل پروگرام پر شکوک وشبہات کا برسرعام اظہار عین ان دنوں دہرایا گیا ہے جب اسرائیل کے ساتھ مل کر امریکہ ایران ہی نہیں اس کے قدرتی وسائل سے مالا مال تمام خلیجی ہمسایوں کو کامل ابتری وانتشار کے سپرد کرنے میں مصروف ہے ۔

2012 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی صحت کے لئے خوشی کی افادیت کو تسلیم کرتے ہوئے باقاعدہ خوشی کا عالمی دن 20 مارچ 2013 کو منانے کا عندیہ دیا۔ یوں تب سے اب تک یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی خوش ہیں؟

یہ ایسی سہہ طرفہ جنگ ہے جو خدا کے نام پر خدا کی مخلوق سے لڑی جا رہی ہے۔ خدا جانے کیا نتیجہ نکلے گا۔
جب لوگ یہ کہتے ہیں خدا دیکھ رہا ہے
میں دیکھنے لگتا ہوں کہ کیا دیکھ رہا ہے
(سید مبارک شاہ)

اس وقت امریکہ ، ایران کو ’فتح‘ کرنے کے لیےجنگ کررہا ہے۔ اس حوالے سے بطور خاص سوشل میڈیا گوسپ کے ذریعے یہ ’معلومات ‘ عام کی جارہی ہیں کہ ایران کے بعد پاکستان، امریکہ کے نشانے پر ہوسکتا ہے۔ ایسے رائے اور تبصروں سے پاکستانی عوام میں احساس عدم تحفظ پیدا ہونا فطری ہے۔

مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا قیام 1974 میں ایک پارلیمانی قرارداد کے ذریعے عمل میں لایا گیا تھا تاکہ ملک بھر میں مذہبی تہواروں (عیدین اور رمضان) کا آغاز ایک ہی دن ہو سکے۔ چیئرمین کے علاوہ اس کمیٹی میں چاروں صوبوں کے نمائندے، محکمہ موسمیات اور سپارکو (Space & Upper Atmosphere Research Commission) کے ماہرین بھی شامل ہوتے ہیں۔

جدید تحقیق کی بدولت کسی فرد کی مخصوص جسمانی حرارت ریکارڈ کی جاسکتی ہے۔ ڈرون طیاروں یا دور مار میزائل میں نصب بارودی مواد فضا میں اچھالے جانے کے بعد اس حرارت کو تلاش کرتا ہے۔ گزرے جمعہ کو گویا علی لاریجانی کی جسمانی حرارت ریکارڈ کرلی گئی تھی۔ کیوں اور کیسے؟ اس سوال کا جواب فراہم کرنا میرے بس میں نہیں۔ ’’جسمانی حرارت‘‘ مگر ریکارڈ ہوسکتی ہے جو دشمن کے ہاتھوں کسی فرد کا دور مارہتھیاروں سے قتل ممکن بناسکتی ہے۔مکمل کالم پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں موجود لنک کھولیں