Browsing: لکھاری

اپریل 2022 کے بعد آنے والی تبدیلیاں عمران خان کے سیاسی حیطہ خیال سے ماورا ہیں۔ عمران خان تو آج بھی مقتدرہ کے دریوزہ گر ہیں لیکن ان کے حامی نوجوانوں کی اکثریت اس تاریخی پس منظر سے واقف ہے اور نہ اس کے فکری پہلو سمجھتی ہے۔ ان کی نظر میں عمران خان کو مسیحا نہ سمجھنے والا ہر پاکستانی لبرل اور گردن زدنی ہے۔

حالت جنگ میں فریقین اپنی پوزیشن اور دشمن کی کمزوری کے بارے میں مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہوئے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں۔ یہی صورت حال اس وقت ایران کے خلاف جنگ جوئی میں بھی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکہ تمام تر طاقت کے باوجود نہ تو تہران میں حکومت تبدیل کرا سکا ہے اور نہ ہی اب جنگ بند کرنا اس کے اختیار میں دکھائی دیتا ہے۔ دنیا کے امن اور اس ریجن کے استحکام کے لیے یہ صورت حال نہایت تشویشناک ہے۔

ایک موقع پر جب عوامی اجتماع میں بلاول بھٹو زرداری سے علی وزیر کی رہائی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اس معاملے کے لیے “ان لوگوں کے پاس جائیں جن کے پاس انہیں رہا کرنے کی طاقت ہے۔” یہ مختصر سا جملہ دراصل پاکستان کی سیاست کی ایک گہری حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے۔

اس قسط کی دنیا میں انسان ایک عجیب مشین کا پرزہ بن چکا ہے۔ لوگ دن بھر بند کمروں میں سائیکل چلاتے ہیں اور اس کے بدلے ڈیجیٹل سکے کماتے ہیں جنہیں “میرٹس” کہا جاتا ہے۔ یہی سکے ان کی خوراک، تفریح اور زندگی کی دوسری ضرورتوں کا ذریعہ ہیں۔ چاروں طرف اسکرینیں ہیں، اشتہارات ہیں اور ایک ایسا نظام ہے جو انسان کے وقت، محنت اور جذبات سب کو بازار کی اشیا میں تبدیل کر دیتا ہے۔

کچھ باتیں کبھی پرانی نہیں ہوتیں، جیسے کہ رمضان کے احترام کے نام پر روا رکھا جانے والا امتیازی سلوک۔ مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آ سکی کہ ہم نے خود پر وہ پابندیاں کیوں لگا رکھی ہیں جو خدا اور اُس کے رسول اللہﷺ نے بھی نہیں لگائیں۔ مثلاً مسافر، بیمار اور خاص طور پر ان خواتین کے لیے جو اپنے مخصوص ایام سے گزر رہی ہوں، روزہ نہ رکھنے کی باقاعدہ رخصت ہے لیکن مجال ہے جو ہمارا معاشرہ اللہ کی دی ہوئی اس چھوٹ کو ہضم کر لے۔ ہم تقویٰ کے زعم میں خدا کے احکامات سے بھی (معاذ اللہ) دو ہاتھ آگے جانا چاہتے ہیں۔ ابھی کل ہی کی بات ہے، ہم نے خواتین کا عالمی دن بڑے زور و شور سے منایا، اخبارات میں مضامین چھپے، دانشوروں نے بھاشن دیے اور مذہبی طبقے نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اسلام نے عورت کو کتنا بلند مقام دیا ہے لیکن ہماری جامعات اور اُن میں خواتین کے ہاسٹلز کا یہ حال ہے کہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی اُن کی کینٹین، کیفے ٹیریا اور کچن پر غیر اعلانیہ مارشل لاء لگ جاتا ہے۔

بھائی چوڑے بازار کی گلیوں میں ادھر اُدھر گھوم رہے تھے کہ ایک سکھ نے انہیں پہچان لیا اور کہا کہ آپ کی ایک امانت ہمارے گھر میں محفوظ ہے۔ اندر گیا اور جزدان میں لپٹا ہوا کلام مقدس کا نسخہ اٹھا لایا اور عقیدت سے چوم کر بھائی کے ہاتھوں پر رکھ دیا۔

بعض لیڈروں کا کہنا تھا کہ جنگی حالات کی وجہ سے عبوری سربراہی کونسل معاملات دیکھ رہی تھی اور اس انتخاب میں جلدی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ یوں بھی آیت اللہ علی خامنہ ای اپنی زندگی میں اپنے بیٹے کو نیا لیڈر بنانے کے خیال کو مسترد کرچکے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انقلابی حکومت میں موروثیت نہیں ہونی چاہے۔ 1979 میں برپا ہونے والا ایرانی انقلاب درحقیقت شاہی موروثیت ہی کے خلاف تھا۔ البتہ کسی نہ کسی عذر کی بنا پر مرحوم لیڈر کے بیٹے کو نیا لیڈر بنا کر اسلامی انقلابی حکومت نے خود موروثیت کی بنیاد رکھ دی ہے۔

ایران کیخلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کو مذہبی رنگ کون دے رہا ہے؟ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تو جنگ کا اصل مقصد ایران کی ایٹمی صلاحیت کو ختم کرنا قرار دیا تھا لیکن اوول آفس میں مسیحی پادریوں اور مذہبی لیڈروں کے ہمراہ جنگ میں کامیابی کیلئے خصوصی دعا کا اہتمام کس نے کیا؟ عالمی میڈیا نے اس خصوصی دعا کی ایک تصویر نشر کی ہے جس میں پادری گریگ لاری سمیت کئی مذہبی لیڈر ٹرمپ کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر ایران کیخلاف جنگ میں کامیابی کی نوید دے رہے ہیں- یہ سب لوگ سال ہا سال سے امریکیوں کو ظہورِ دجال سے پہلے ایک بڑی جنگ کیلئےتیار کر رہے تھے جسے Armageddon (ہر مجدون) کہا جاتا ہے ۔ برطانوی اخبار ’’دی گارڈین “سمیت کئی مغربی اخبارات نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی فوج میں مذہبی آزادی کے تحفظ کیلئے کام کرنے والے ادارے (ایم آر ایف ایف) کو اب تک دو سو سے زائد شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کے کمانڈرز اپنے ماتحتوں کو بتا رہے ہیں کہ ٹرمپ کو حضرت عیسٰی علیہ السلام نے ایران پر حملے کا اشارہ دیا ہے کیونکہ وہ زمین پر واپس آنیوالے ہیں اور یہ وہی ہرمجدون ہے جس کا ذکر بائبل میں بھی آچکا ہے ۔