پاکستان میں نام نہاد ہائبرڈ نظام حکومت نے ملکی سیاسی منظر نامہ میں غیر یقینی پیدا کی ہے لیکن ایران امریکہ جنگ اور تیل کی بڑھتی…
Browsing: سید مجاہد علی
سوال دینی کتب کی خریداری کے بارے میں تھا، اس لیے اسے آسانی سے حرام قرار دے کر ملکی حکومت کو بے بس کرنے کی شعوری کوشش کی گئی جو کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے ذریعے ایک طرف ٹرمپ خاندان کو راضی کرنے کا جتن کررہی ہے تو دوسری طرف بعض زعما اس کاروبار سے اپنی دولت میں اضافہ کا خواب دیکھ رہے ہیں۔
مکمل تجزیئے کا لنک پہلے کمینٹ میں موجود ہے
اگر ایران نے عرب ممالک پر حملوں پر کنٹرول نہ کیا تو بعض ممالک نہ چاہتے ہوئے بھی اس تنازعہ کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اسی لیے یہ لڑائی پاسداران انقلاب کی طاقت سے زیادہ اسرائیلی حکمت عملی کی کامیابی میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
(
خامنہ ای کے جنازے پر آنسو بہانے والوں کا ایک سمندر موجود تھا لیکن اس سوگ کو پاسداران کی شدت پسندی کا تصدیق نامہ نہیں سمجھا جاسکتا۔ نہ ہی ان جلوسوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایرانی عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہوکر بھی موجودہ رجیم کا ساتھ دیتے رہیں گے۔
پاکستان میں خیرات کی ثقافت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ لوگ خیرات دے کر یا لے کر مطمئن ہوجاتے ہیں۔ کوئی یہ جاننا نہیں چاہتا کہ خیرات میں بانٹے جانے والے وسائل کو پیداواری سہولتوں میں صرف کرکے روزگار کے لاتعداد مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ سرکاری بجٹ میں ’بے نظیر انکم سپورٹ‘ پروگرام اس خیرات ثقافت کی نمائیندہ مثال ہے۔ اسی طرح پاکستانی اشرافیہ بھی درحقیقت اسی ’خیرات کلچر‘ کا حصہ ہے۔
یہ امید بھی کی جاسکتی ہے کہ جب فریقین ایک دوسرے کی طاقت کے بارے میں بدگمانیوں سے باہر نکل آئیں تو سفارت کاری کا راستہ از خود کھل جاتا ہے۔
کاہنہ کے ٹیوشن سنٹر کا حادثہ تو یہ خبر دیتا ہے کہ مجبور اور لاچار ماں باپ کسی بھی طرح اپنے بچوں کو وہ بنیادی تعلیم دلانے کے لیے کیسے اسکولوں میں بھیجنے پر مجبور ہیں، جو درحقیقت حکومت کی ذمہ داری ہے۔
پانی کے سوال پر دونوں ملکوں کے درمیان شروع ہونے والی کوئی جنگ مکمل تباہی کے بغیر ختم نہیں ہوگی۔ اس جنگ کی لپیٹ میں برصغیر ہی نہیں دیگر ممالک بھی آسکتے ہیں۔ یہ نوشتہ دیوار ہے۔ اسے جتنی جلدی پڑھ کر سمجھ لیا جائے دنیا کے امن کے لیے اتنا ہی بہتر ہوگا۔
یہ پہلو قابل غور ہونا چاہئے کہ ایران کے اعلیٰ ترین سفارت کار نے عرب ممالک کے ساتھ مشترکہ سکیورٹی نظام قائم کرنے کے بارے میں دورہ عراق کا انتخاب کیا ۔ انہوں نے یہ بات ا س تنازعہ کے ثالث پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت کے دوران نہیں کہی اور نہ ہی دیگر اہم عرب ممالک کے ساتھ گفتگو میں اس قسم کی کوئی تجویز پیش کی گئی ہے۔
مکمل تجزیئے کا لنک پہلے کمینٹ میں موجود ہے
تاریخ ہمیں یہی سبق سکھاتی ہے کہ دہشت گردی ختم کرنے کے لیے صرف فوجی طاقت کافی نہیں ہوتی بلکہ اگر صرف عسکری قوت پر انحصار کیا جائے تو عام طور سے مسائل کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے۔
