یہ امر باعث حیرت ضرور ہے کہ اپنی حمایت میں اسرائیل غیظ و غضب کا نشانہ بننے والی حزب اللہ کو ایران ، امریکہ کے ساتھ بات چیت کے دوران کیوں فراموش کیے ہوئے ہے؟ کیا تہران کے لیڈر اب مشرق وسطیٰ میں موجود اپنی پراکسیوں کی حمایت سے دست بردار ہورہے ہیں؟
Browsing: سید مجاہد علی
امریکہ ایران کا بلاکیڈ ختم کرنے اور جوہری ہتھیاروں پر حتمی معاہدے کے لیے دوسرے مرحلے میں اتفاق رائے پر بھی راضی ہے۔ اس کے باوجود تہران کی طرف سے مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اس کے جوہری ہتھیاروں کا معاملہ موضوع بحث ہی نہیں۔ حالانکہ یہ سارا تنازعہ ایران کے جوہری پروگرام ہی کی وجہ سے شروع ہؤا تھا
بہتر ہوگا کہ صدر ٹرمپ اور تہران کے لیڈر اب دھمکیوں کی زبان استعمال کرنا بند کریں اور ہوشمندی سے ایک ایسے تنازعہ کو ختم کرنے پر اتفا ق کریں جس سے دنیا کا ہر ملک اور ہر فرد عاجز ہے۔
صدر ٹرمپ اور سینیٹر لنزے گراہم نے تاثر دیا ہے پاکستان، سعودی عرب اور قطر وغیرہ نے ایران امن معاہدہ کے بعد اگر ابراہم معاہدہ کے…
معاہدہ ابراہیمی کی بات کرنا ایک سیاسی مؤقف ضرور ہے لیکن صدر ٹرمپ اس مؤقف کو معروضی و زمینی حقائق کے ساتھ مربوط کرنے کے لیے، اسرائیل کو اپنی عالمی ذمہ داریاں قبول کرنے پر مجبور کریں۔ اگر ٹرمپ یا امریکہ یہ کام کرنے سے قاصر ہے تو وہ علاقے کے ممالک سے مطالبہ نہیں کرسکتا کہ اسرائیل کو تسلیم کیا جائے۔بنیادی مسائل حل کیے بغیر اسرائیل کے لیے مشرق وسطیٰ میں کوئی احترام پیدا نہیں ہوسکتا۔
تہران میں سخت گیر ملا رجیم بدستور موجود ہے اور شدید مالی مشکلات کے باوجود اس بات کا امکان دکھائی نہیں دیتا کہ جنگ یا اس کے خاتمہ سے یہ حکومت ختم ہوجائے گی اور ایرانی سیاست ایرانی عوام کی خواہشات کے مطابق طے پاسکے گی۔ ایران کے عوام پہلے سے زیادہ غریب اور کرب کا شکار ہوں گے
مودی سوالوں کا جواب کیوں نہیں دیتے‘ والا سوال ، ایک ایسا ہتھوڑا ثابت ہؤا کہ بھارت میں تمام انتہاپسند عناصر اس کی ضرب سے تلملا رہے ہیں۔ اب ایک غیر متعلقہ مضمون اور اس میں شامل ہونے والے کارٹون کو بنیاد بنا کر بھارتی عوام کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ناروے میں بھارت میں انسانی حقوق کے بارے میں کیے جانے والے سوال درحقیقت سفید فام اور نوآبادیت کی ذہنیت کا عکاس ہیں۔
اب غیرجانبدار لوگ بھارت کی جمہوریت اور پریس فریڈم کے بارے میں سوال اٹھا رہے ہیں اور مودی سرکار اپنے انتہا پسند سوشل میڈیا ٹرولز کے ذریعے ایک چھوٹے ملک ناروے کی صحافی کو ہراساں کرکے اپنی بے بسی کو چھپانے کوشش کررہی ہے۔
جمہوری لیڈر عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں اور اپنی کارکردگی کے بارے میں کسی بھی سوال کا سامنا کرنے سے نہیں گھبراتے۔ لیکن بدحواس مودی کے ساتھ ناروے کی ایک صحافی نے وہی سلوک کیا ہے جو 1997 میں ریلیز ہونے والی فلم ’یشونت ‘ میں نانا پاٹیکر کے اس ڈائیلاگ سے نمایاں ہوسکتا ہے: ’ایک مچھر سالا آدمی کو ہجڑا بنا دیتا ہے ‘۔
کسی فوج کا مقصد اپنے لوگوں کو تباہی کی طرف دھکیلنا نہیں ہوتا بلکہ ان کی حفاظت، بہبود اور بھلائی ہی ہمیشہ اس کے پیش نظر ہونی چاہئے۔ پاکستان کو جغرافیے و تاریخ سے مٹانے کے شوق میں بھارتی فوج کو اپنے لوگوں پر ہلاکت مسلط کرنے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے۔
