Browsing: سید مجاہد علی

امریکہ کے ساتھ کسی قابل قبول معاہدے کے بغیر نہ تو ایران پر سے تمام پابندیاں ختم ہوں گی اور نہ عرب ممالک کے لیے خود سر ایران کی بالادستی ماننا ممکن ہوگا۔ یہ مسئلہ فتح کے شادیانے دھیمے کرکے بقائے باہمی کے اصول کے تحت علاقے کے تمام ملکوں کے ساتھ مفاہمانہ طرز عمل اختیار کرنے سے ہی حل ہوسکتا ہے۔

مارچ 2025 میں جعفر ایکسپریس پر دہشت گرد حملے کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی لاشوں کے حصول کے لیے احتجاج شروع کیا اور نامعلوم وجوہات کی بنا پر پر امن احتجاج کا راستہ ترک کرکے سکیورٹی فورسز کے ساتھ تصادم اور ٹکراؤ کاراستہ اختیار کیا۔ اسی تنازعہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے بیشتر لیڈر گرفتار ہوئے۔

عمران خان تین سال سے زائد مدت سے جیل میں بند ہیں۔ عدالتی حکم کے باوجود 6 ماہ سے ان کے وکلا و اہل خاندان کو ملاقات سے روکا جارہا ہے۔ ایسے یک طرفہ اور شدت پسندانہ انتظامی اقدامات ملک میں سیاسی ہم آہنگی کو شدید متاثر کررہے ہیں۔

ٹرمپ گزشتہ چند روز سے مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ پابندیاں ہٹانے اور حتمی امن کے لیے ایران کو اپنا طرز عمل تبدیل کرنا پڑے گا۔ البتہ مفاہمتی یادداشت میں تو ایسا کوئی تقاضہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ مفادات کے ٹکراؤ اور سیاسی دباؤ کی وجہ سے اس تاریخی کامیابی کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل اور پائیدارامن اب بھی ہنوز دلی دور است والا معاملہ ہے۔

بے شمار ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ میڈیا میں یک بیک موجودہ حکومت کے جانے کی باتیں بلکہ اس کے وداع کی تاریخ تک کا اعلان کیامعنی رکھتا ہے۔ کیا اس قسم کے مباحث کا مقصد جمہوریت اور موجودہ آئینی نظام پر لوگوں کے رہے سہے اعتماد کو ختم کرنا ہے

ایرانی قیادت کوخطے کی ناانصافیاں اور امریکی تسلط ختم کرنے کی بجائے اپنے عوام کی بہبود پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر بنیادی وسائل سے محروم ایرانی عوام کی صورت حال کو پیش نظر رکھا جائے تو ایران مزید ایک دن بھی جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔