اب غیرجانبدار لوگ بھارت کی جمہوریت اور پریس فریڈم کے بارے میں سوال اٹھا رہے ہیں اور مودی سرکار اپنے انتہا پسند سوشل میڈیا ٹرولز کے ذریعے ایک چھوٹے ملک ناروے کی صحافی کو ہراساں کرکے اپنی بے بسی کو چھپانے کوشش کررہی ہے۔
Browsing: سید مجاہد علی
جمہوری لیڈر عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں اور اپنی کارکردگی کے بارے میں کسی بھی سوال کا سامنا کرنے سے نہیں گھبراتے۔ لیکن بدحواس مودی کے ساتھ ناروے کی ایک صحافی نے وہی سلوک کیا ہے جو 1997 میں ریلیز ہونے والی فلم ’یشونت ‘ میں نانا پاٹیکر کے اس ڈائیلاگ سے نمایاں ہوسکتا ہے: ’ایک مچھر سالا آدمی کو ہجڑا بنا دیتا ہے ‘۔
کسی فوج کا مقصد اپنے لوگوں کو تباہی کی طرف دھکیلنا نہیں ہوتا بلکہ ان کی حفاظت، بہبود اور بھلائی ہی ہمیشہ اس کے پیش نظر ہونی چاہئے۔ پاکستان کو جغرافیے و تاریخ سے مٹانے کے شوق میں بھارتی فوج کو اپنے لوگوں پر ہلاکت مسلط کرنے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے۔
ٹرمپ کے حالیہ دورہ چین کے دوران یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی ہے۔ بیجنگ نے اپنی پوزیشن واضح کردی ہے۔ اب واشنگٹن اگر تصادم کا راستہ اختیا رکرتا ہے تو چین نے مقابلہ کرنے کا واضح اشار ہ دیا ہے۔
صدر مسود پزشکیان کی یہ تجویز ہی بہترین ہے کہ ایران کا مفاد سفارت کاری کے ذریعے باعزت معاہدہ کرنے میں ہی مستور ہے۔ بدقسمتی سے تہران میں اس اصول پر اتفاق رائے دکھائی نہیں دیتا۔ اور بادی النظر میں اسرائیل کا جنگجو وزیر اعظم اور ایران کے عسکریت پسند پاسداران ایک ہی مقصد کے لیے حالات خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
عمران خان اور ان کے سینکڑوں ساتھیوں کو ناجائز طور سے جیلوں میں بند رکھا گیا ہے بلکہ ان کے لیے انصاف حاصل کرنے کے دروازے بھی بند کیے گئے ہیں۔ عدالتیں نئی ترامیم کے تحت مجبور و پابند کردی گئی ہیں اور میڈیا پر عائد پابندیوں سے صحت مند اور اہم قومی مکالمہ کا راستہ مسدود ہوچکا ہے۔ اس وقت ریاست کی تمام تر طاقت تحریک انصاف کو دیوار سے لگانے اور عمران خان کے ساتھ ملاقاتوں پر پابندی نافذ رکھنے پر صرف ہورہی ہے۔ کیا یہ طریقہ ایک فاتح اور حوصلہ مند قوم کے لیڈروں کو زیب دیتا ہے؟
برطانیہ میں ریفارم یوکے پارٹی کی کامیابی یورپ کے دیگر ممالک فرانس، نیدر لینڈ ، ڈنمارک اور سویڈن وغیرہ میں دائیں بازو کی انتہا پسند تحریکوں اور پارٹیوں کی مقبولیت ہی کی طرز پر ایک ایسے رجحان میں اضافے کی نشاندہی ہے جو بین الثقافتی معاشرہ تبدیل کرکے اسے سفید فام اکثریتی خواہش کے مطابق تشکیل دینا چاہتاہے۔
پاکستان میں گزشتہ سال بھارت کے ساتھ ہونے والی جنگ یا جھڑپوں کی سالگرہ دھوم دھام سے منائی جارہی ہے۔ شہروں میں عسکری قیادت کے بینر لگائے گئے ہیں اور بڑے بڑے کمرشل ادارے اشتہارات میں افواج پاکستان کی بہادری کا ذکر کرتے ہوئے، ان کا شکریہ ادا کررہے ہیں۔ ایک غریب ملک میں کسی جنگ کو گلوری فائی کرنے کا یہ رویہ ناقابل فہم اور افسوسناک ہے۔
بنگال کے شہریوں کو عام طور سے باشعور اور ترقی پسند سوچ کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ایک دہائی سے بی جے پی کی مذہبی انتہاپسندی کو چیلنج کرنے والی ممتا بینر جی کامیابی سے بنگال میں حکومت کے ذریعے نریندر مودی کی غیر منصفانہ اور غیر معقول پالیسیوں کی سب سے بڑی ناقد رہی ہیں۔ البتہ ان انتخابات میں بنگالی ووٹروں نے ان سے آنکھیں پھیر لی ہیں۔
اس عمل میں جس تحمل اور صبر و ضبط کی ضرورت ہے، ٹرمپ جیسا جلد باز لیڈر شاید اس کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ اگرچہ سرکاری طور سے امریکہ کی فتح کا حوالہ دیتے ہوئے یہی کہا جاتا ہے کہ امریکہ کو جلدی نہیں ہے۔ وہ غیر معینہ مدت تک انتظار کرسکتا ہے۔
ا
