Browsing: سید مجاہد علی

نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات کی وجہ سے ٹرمپ کے لیے اس مشکل اور غیر مقبول جنگ سے جلد نکلنا بے حد ضروری ہے۔ دوسری طرف ایران کی رجیم کو دکھائی دے رہا ہے کہ اگر امریکہ کے ساتھ کوئی معاہدہ ہوجاتا ہے تو اسے جنگی تباہی کے مشکل مسئلہ سے نمٹنے کے علاوہ ملک میں معاشی بے چینی، بیروزگاری اور بدحالی و غربت کے مسائل کا سامنا ہوگا۔

عمر فاوق ظہور ناروے میں ایک جانی پہچانی پاکستانی کاروباری شخصیت کے ہاں پیدا ہؤا تھا۔ اس نے 18 سال کی عمر میں ایک ٹریول ایجنسی کھول کر اوسلو میں ہی کاروباری زندگی کا آغاز کیا۔ تاہم سفری دستاویزات کے فراڈ میں اسے اوسلو کی ایک عدلت نے ایک سال قید کی سزا دی۔ لیکن وہ کبھی عدالت میں پیش نہیں ہؤا۔ 2010 میں اس نے مبینہ طور پر دھوکہ دہی سے ایک مقامی بنک نورڈیا سے 60 ملین کرونر حاصل کیے۔ وہ خود اس الزام سے انکار کرتا ہے۔ لیکن کبھی ناروے آکر اپنے خلاف الزامات کا دفاع بھی نہیں کرسکا۔

ہرجانے کی ضد پر قائم رہنے سے عرب ممالک بھی اپنے انفرا اسٹرکچر کو ہونے والے نقصان کا ازالہ چاہیں گے۔ اس میں تو شبہ نہیں ہے کہ ٹرمپ کی ایران پر مسلط کی ہوئی جنگ غیر قانونی تھی۔ لیکن اس وقت امریکہ کسی ضابطے یا ا صول کو نہیں مانتا، اقوام متحدہ بے وقعت ہوکر رہ چکی ہے۔ ان حالات میں کسی بھی طرح دانشمندی سے امریکی جارحیت کا راستہ روکنا ضروری ہے۔

ٹرمپ دنیا میں امن قائم کرانے، اور تنازعات ختم کرانے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ اسی لیے ان کا کہنا ہے کہ تاریخ میں نوبل امن انعام کا ان سے بڑا حقدار پیدا نہیں ہوا۔ لیکن بدقسمتی سے بسیار گوئی اور انا کے اسیر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے رویہ کی وجہ سے دنیا کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔

ایکس پر خواجہ آصف کے ڈیلیٹ کیے ہوئے بیان کا متن ہی واضح کرتا ہے کہ ان کا بیان کسی حد تک تاریخ اور سفارتی صورت حال کی غلط تفہیم و تعبیر پر استوار ہے۔ انہوں نے لکھا: ’ اسرائیل شیطان ہے اور انسانیت کے لیے لعنت ہے۔ اسلام آباد میں امن مذاکرات جاری ہیں، لبنان میں نسل کشی کی جا رہی ہے۔ بے گناہ شہریوں کو اسرائیل کے ہاتھوں قتل کیا جا رہا ہے۔ پہلے غزہ، پھر ایران اور اب لبنان، خونریزی بلا روک ٹوک جاری ہے۔ میں امید اور دعا کرتا ہوں کہ وہ لوگ جنہوں نے یورپی یہودیوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے فلسطینی سرزمین پر یہ سرطان جیسی ریاست قائم کی، جہنم میں جلیں‘۔

ایران میں قیادت کا بحران دکھائی دیتا ہے۔ یہ درست ہے کہ ایرانی نظام نے اعلیٰ قیادت کی ہلاکت کے باوجود حکومتی نظام برقرار رکھا ہے۔ لیکن یہ غیر واضح ہے کہ سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان رابطوں اور اعتماد کی کیا صورت حال ہے۔ اس ماحول میں رہبر اعلیٰ مجتبی خامنہ ای کی غیر حاضری محسوس کی جاتی ہے۔

پاکستانی جھنڈے کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے بارے میں بھی یہ غلط فہمی عام کی گئی ہے کہ یہ سب آئل ٹینکرز تھے اور سیدھے پاکستان آرہے تھے۔ حالانکہ یہ درست نہیں ہے۔ یہ ٹینکرز تیل کے علاوہ مختلف مصنوعات لے کر مختلف ممالک کی طرف جا رہے تھے۔ پاکستانی جھنڈے کے ساتھ گزرنے کی اجازت دے کر ایرانی حکومت نے جنگ بندی کی پاکستانی کوششوں کے ساتھ رضامندی کا مظاہرہ کیا تھا۔ حکومت کو اپنے عوام کو اس بارے میں حقیقی تصویر دکھانا چاہیے تھی۔
بدقسمتی .