وزیر اعظم شہباز شریف نے دو روز پہلے پیٹرول کی قیمت میں ڈیڑھ سو روپے کے لگ بھگ اضافے کا اعلان ہونے کے بعد رات گئے اس میں 80 روپے کمی کرنے کا اعلان کیا۔ اب وزرا اور اعلیٰ افسروں کے ایک اجلاس میں پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنے کے لیے سبسڈی نظام کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس مقصد سے صوبوں سے وسائل اکٹھے کرکے عوام میں ’تقسیم‘ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے خاص طور سے پیٹرول کی قیمت میں 80 روپے کمی کا کریڈٹ لیتے ہوئے وعدہ کیا کہ مشکل حالات میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔ شہباز شریف بلند بانگ دعوے کرنے اور لچھے دار گفتگو سے من موہ لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن پوری دنیا کی طرح اس وقت پاکستان کو جن حالات کا سامنا ہے، وہ انتہائی سنگین اور شدید خطرات کا پتہ دے رہے ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ جوئی کب تک جاری رہے گی اور آبنائے ہرمز کب کھلنے کا امکان پیدا ہوگا۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ اس اچانک معاشی بوجھ کی وجہ سے ملکی معیشت پر جو اثرات مرتب ہوئے ہیں، ان کا مختلف شعبوں اور عوام کے گھریلو بجٹ پر کیا اثر پڑے گا۔
ماہرین مختلف قسم کے جائزے ترتیب دے رہے ہیں ،جن میں تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل سے بڑھ جانے کے امکان کے علاوہ پیٹرولیم مصنوعات کی کمیابی اور دیگر اشیائے صرف کی نقل و حرکت متاثر ہونے کا امکان ہے۔ اس طرح ایک تو سپلائی لائن متاثر ہوگی ، جس سے مارکیٹ میں اسٹور کی گئی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔ منافع خور عناصر متحرک ہوں گے اور ان کے لالچ کی قیمت عام شہریوں کو ادا کرنا پڑے گی۔ سپلائی لائن متاثر ہونے سے زرعی شعبہ اور صنعتی پیداواری اداروں کو خام مال کی فراہمی متاثر ہوگی۔ فیول کی مد میں اخراجات بڑھنے سے تنگ آئے ہوئے صنعتکار ان حالات میں فیکٹریاں بند کرکے مزدوروں کو بیروزگار کرنا جائز کاروباری طریقہ سمجھیں گے۔ پاکستان میں چونکہ سوشل سکیورٹی کا کوئی انتظام موجود نہیں ہے ، اس لیے بیروزگاروں کی پہلے سے بڑی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔ اس سے ملک میں احتیاج اور مفلسی کا نیا طوفان دیکھنے میں آئے گا۔ زرعی شعبہ کو بیج اور کھاد نہ ملنے یا ان کی قیمت میں غیر معمولی اضافے سے زرعی پیداوار متاثر ہوگی ۔اس طرح کاشتکار خود بھی ناتواں ہوگا اور ملک کے لیے ضروری غذاائی اجناس پیدا کرنے سے بھی قاصر رہے گا۔
یہ ایک پیچیدہ اور مشکل تصویر ہے جس کی ساری تفصیلات ملک کی وزارت خزانہ اور وزیر اعظم کے علم میں ہوں گی۔ اس کے باوجود اگر وزیر اعظم صرف سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کے لیے ایسے اعلانات کرنا ضروری سمجھتے ہیں جن کے بعد وہ خود اور ان کے وزرا واہ واہ کا شور مچانے لگیں تو اس سے عوام کی سہولت کا کوئی منصوبہ شروع ہونا محال ہے۔ پاکستان جیسی معیشت سے کام چلانے والی حکومت سے زیادہ مطالبے نہیں کیے جاسکتے لیکن یہ تو ضرور کہا جاسکتا ہے کہ وزیر اعظم اور ان کے نمائیندے سچ بولنا شروع کریں، مسائل کو خوبصورت الفاظ میں چھپا کر عوام کو گمراہ کرنے کا کام نہ کریں اور ملک کو ان مشکل حالات کے لیے تیار کیاجائے جو ممکنہ طور پر آئیندہ چند ماہ میں پیش آسکتے ہیں۔
وزیر اعظم نے ٹرانسپورٹ کے شعبہ میں سبسڈی کے جس منصوبے پر غور کرنے کے لیے آج کا اجلاس طلب کیا تھا، وہ اس وسیع تصویر میں بے معنی اور غیر ضروری کوشش سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ اول تو پاکستان معیشت چلانے کے لیے آئی ایم ایف سے مدد ملنے کا محتاج ہے اور آئی ایم ایف سبسڈی کے نظام کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی ۔ وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے سرکاری اعانت سے فری معیشت استوار کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس سے ایک طرف آئی ایم ایف کی مالی شرائط پوری ہوتی ہیں ،دوسرے منڈیوں میں سرعت و تیزی سے نجی شعبہ کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کی امید کی جاتی ہے۔ لیکن اب اگر وزیر اعظم ایک بار پھر خود کو ’ہیرو‘ ثابت کرنے کے لیے سبسڈی کے نئے راستے تلاش کرنا شروع کریں گے تو اس سے وہ معاشی منصوبہ منہ کے بل زمین بوس ہوجائے گا جس کی بنیاد پر حکومت پاکستانی معیشت کو ڈیفالٹ سے بچانے کا دعویٰ کرتی رہی ہے۔
اس دوران یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ متحدہ عرب امارات نے پاکستانی زرمبادلہ کو مستحکم رکھنے کے لیے جو دو ارب ڈالر دیے تھے، اب انہیں واپس مانگا جارہا ہے۔ حکومت نے بھی اپریل کے دوران یو اے ای کو ساڑھے تین ارب ڈالر واپس کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر نت نئی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ کوئی اسے حکومت کی ناکامی کہتا ہے اور کسی کا خیال ہے کہ متحدہ عرب امارات پاکستان کی خارجہ پالیسی سے ناراض ہوکر اپنے وسائل واپس مانگ رہا ہے۔ وزارت خارجہ نے ضرور ایک مناسب پریس ریلیز میں اس معاملہ کو عمومی مالی معاملہ قرار دے کر سنسنی خیزی کم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن صرف ایک بیان سے نہ تو لوگوں میں پیدا ہونے والی بے چینی کم ہوگی اور نہ ہی اس سے ملک کے مالی مسائل حل ہوں گے۔ البتہ حقیقی مشکلات میں گھرے ملک میں گمراہ کن خبروں اور پروپیگنڈے کے ذریعے حالات ضرور خراب کیے جاتے رہیں گے۔ ان حالات میں منفی بیانیہ بنانے والوں کا پیچھا کرنے اور انہیں ملک دشمن قرار دینے کے مباحث شروع کرنے کی بجائے، بہتر ہوگا کہ حکومت نئے حالات میں عوام کے ساتھ مواصلت کا تعلق قائم کرے۔ انہیں تمام حالات سے آگاہ کیا جائے، وزیر اعظم سمیت تمام وزرا ہر سطح پر عوام کے مشکل سوالوں کا جواب دیں اور بتائیں کہ حکومت اس مسئلہ کو حل کرنے میں کیا ٹھوس اقدمات کررہی ہے اور بچت کرنے یا وسائل کے مؤثر استعمال کے کون سے منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔
سبسڈی کا نظام کسی بھی ملک کے معاشی نظام پر بوجھ بننے کے علاوہ پاکستانی سسٹم میں بدعنوانی کے راستے کھولتا ہے۔ وزیر اعظم نے سبسڈی کی تقسیم کے لیے ڈیجیٹل طریقہ متعارف کرانے کا اعلان کرتے ہوئے یہی کہا ہےکہ اس سے بدعنوانی روکی جائے گی۔ گویا ملک کا چیف ایگزیکٹو مان رہا ہے کہ بدعنوانی ملک کا اہم ترین مسئلہ ہے۔ لیکن ایک کرپٹ معاشرے میں یہ کیسے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ڈیجیٹل ٹرانسفر کا نظام حریص و بدعنوان عناصر کی دسترس سے محفوظ رہے گا؟
ملک کو درپیش داخلی و خارجی مسائل کا تقاضہ ہے کہ حکومت اعتماد سازی کے لیے اقدامات کرے۔ لوگوں کو وقتی طور سے مطمئن اور خوش کرنے کے لیے عارضی اور جعلی منصوبے نہ بنائے جائیں اور نہ ہی یہ کہا جائے کہ چند ہفتوں میں سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ ہوسکتا ہے کہ کسی امن معاہدہ کے بعد حالات ٹھیک ہوجائیں لیکن یہ کوئی نہیں جانتا کہ یہ جنگ کتنی طویل اور پیچیدہ ہوسکتی ہے۔ اس لیے حکومت نہ صرف ایک طویل بحران کے لیے خود تیار ہو بلکہ عوام کو بھی اس کے لیے تیا رکیاجائے۔ حکومت کو اس مشکل سے نکلنے کے لیے ہر سطح پر عوامی حمایت کی ضرورت ہوگی۔ اس لیے نعروں کی بجائے ٹھوس اقدامات کی طرف توجہ مبذول کرنا بہتر ہوگا۔
معلومات کی محدود یا ناقص فراہمی اعتماد سازی میں معاون نہیں ہوسکتی۔ آج بھی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ملک میں ایندھن کے مناسب ذخائر موجود ہیں۔ لیکن یہ تفصیل فراہم نہیں کی گئی کہ کون سے ایندھن کے کتنے ذخائر کہاں اور کس کے پاس محفوظ ہیں۔ یا ملکی ضروریات کا اندازہ لگاتے ہوئے کتنے ہفتے یا مہینوں کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس بیان میں یہ تفصیلات جان بوجھ کر شامل نہیں کی گئیں تاکہ کنفیوژن موجود رہے اور حکومت کو جعلی دعوے کرنے کا موقع ملتا رہے۔ اور جب کوئی آفت کسی آسمانی بجلی کی طرح سروں پر آ گرے تو یہ کہہ کر جان چھڑا لی جائے کہ یہ اچانک صورت حال ہمارے علم میں نہی تھی۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ جو حقائق اور اچھے برے حالات حکومت کے علم میں ہیں، انہیں عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔
ملک میں جمہوری نظام کا تقاضہ تو یہی ہے کہ ایسے موقع پر پارلیمنٹ فعال ہو۔ حکومت حقائق عوامی نمائیندوں کے سامنے رکھے اور اپوزیشن اپنا نقطہ نظر پیش کرے تاکہ کوئی متفقہ لائحہ عمل بنایا جاسکے۔ لیکن پاکستان کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ اپوزیشن اے پی سی بلا کر مسائل حل کرنا چاہتی ہے اور حکومت دعوؤں اور وعدوں سے کام چلانے کی خواہش رکھتی ہے۔ لیکن مسائل جوں کے توں اپنی جگہ موجود رہتے ہیں۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

