یہاں یہ بحث غیر ضروری اور بے کار ہوگی کہ کیا یہ ٹوئٹ واقعی نسیم شاہ کے خیالات کا پرتو تھا یا یہ انہوں نے خود ہی لکھوایا تھا یا کسی نے اکاؤنٹ ہیک کرکے اسے مریم کی ’تضحیک‘ کے لیے استعمال کیا۔ کیوں کہ ٹوئٹ میں کیا جانے والا سوال بے حد معصومانہ تھا۔
Browsing: سید مجاہد علی
جس ملک کے بارے میں یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ امریکہ کی طرف سے جنگ بندی کی مزاحمت کررہا ہے، وہ متحدہ عرب امارات ہوسکتا ہے۔ یو اے ای نے اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے اور پاکستان و ترکیہ کی طرف سے امن کی کوششوں میں بھی اس نے کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی۔ دوسری طرف ایرانی ذرائع متنبہ کرتے رہے ہیں کہ ایرانی جزائر پر حملوں کے لیے (جن میں تیل کی برآمدات میں کلیدی اہمیت کا حامل جزیرہ خرگ بھی شامل ہے) متحدہ عرب امارات امریکی فوج کی سہولت کاری کررہا ہے ۔
ایرانی مطالبے یک طرفہ ہونے کے ساتھ فریق مخالف کو فیس سیونگ کا کوئی موقع فراہم کرنے میں ناکام ہیں جبکہ امریکی شرائط میں ایران کی حکومت کو ماننے کے علاوہ اس پر عائد مالی پابندیاں ختم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ اس طرح یہ نکات مذاکرات شروع کرنے کے لیے مناسب بنیاد بن سکتے ہیں۔
مریکی شرائط پر طے ہونے والا کوئی معاہدہ موجودہ رجیم کا آخری اہم فیصلہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں جو کام امریکی جنگ سے پورا نہیں ہؤا، وہ ایرانی عوام کا غم و غصہ پورا کردے گا۔ اگر ایرانی لیڈر پابندیاں اٹھوانے اور معاشی بحالی کے لیے کسی مثبت معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ، پھر امریکہ اور دنیا کو ایک نئی جوہری طاقت کے ظہور پزیر ہونےکا منتظر رہنا چاہئے۔
اس وقت امریکہ ، ایران کو ’فتح‘ کرنے کے لیےجنگ کررہا ہے۔ اس حوالے سے بطور خاص سوشل میڈیا گوسپ کے ذریعے یہ ’معلومات ‘ عام کی جارہی ہیں کہ ایران کے بعد پاکستان، امریکہ کے نشانے پر ہوسکتا ہے۔ ایسے رائے اور تبصروں سے پاکستانی عوام میں احساس عدم تحفظ پیدا ہونا فطری ہے۔
پاکستان سمیت علاقے کے تمام ممالک اور روس و چین کو بھی چاہیے کہ وہ مل کر ایرانی قیادت کو عرب ممالک کے ساتھ کسی سمجھوتے تک پہنچنے میں مدد کریں۔ اس طرح جنگ میں ایران کی پوزیشن بھی مضبوط ہوگی اور اس کے ختم ہونے کا امکان بھی روشن ہو سکے گا۔ اس کے برعکس عرب ممالک پر ایرانی حملے جاری رہنے کی صورت میں مغربی تجزیہ نگاروں کی یہ رائے مسلمہ ہو جائے گی کہ ایران خود تباہ ہوتے ہوئے پورے خطے اور دنیا کی معیشت کو شدید نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ اس رائے کے درست ہونے کی صورت میں ایران ہی کو ’بیڈ بوائے‘ قرار دیا جائے گا۔
حالت جنگ میں فریقین اپنی پوزیشن اور دشمن کی کمزوری کے بارے میں مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہوئے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں۔ یہی صورت حال اس وقت ایران کے خلاف جنگ جوئی میں بھی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکہ تمام تر طاقت کے باوجود نہ تو تہران میں حکومت تبدیل کرا سکا ہے اور نہ ہی اب جنگ بند کرنا اس کے اختیار میں دکھائی دیتا ہے۔ دنیا کے امن اور اس ریجن کے استحکام کے لیے یہ صورت حال نہایت تشویشناک ہے۔
بعض لیڈروں کا کہنا تھا کہ جنگی حالات کی وجہ سے عبوری سربراہی کونسل معاملات دیکھ رہی تھی اور اس انتخاب میں جلدی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ یوں بھی آیت اللہ علی خامنہ ای اپنی زندگی میں اپنے بیٹے کو نیا لیڈر بنانے کے خیال کو مسترد کرچکے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انقلابی حکومت میں موروثیت نہیں ہونی چاہے۔ 1979 میں برپا ہونے والا ایرانی انقلاب درحقیقت شاہی موروثیت ہی کے خلاف تھا۔ البتہ کسی نہ کسی عذر کی بنا پر مرحوم لیڈر کے بیٹے کو نیا لیڈر بنا کر اسلامی انقلابی حکومت نے خود موروثیت کی بنیاد رکھ دی ہے۔
سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا اس بیان کو ویسا ہی ’سرنڈر‘ سمجھا جاسکتا ہے جیسا صدر ٹرمپ نے اسے بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ ٹرمپ کے بیان سے تو یہ بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس بیان کو ایران کا سرنڈر کہہ کر اور دوسری طرف ایرانی دفاعی صلاحیتوں کو مکمل طور سے تباہ کرنے کا دعویٰ کرنے کے بعد امریکہ یک طرفہ طور سے اس جنگ کو بند کرنے کاا علان کرے جس کے بعد اسرائیل بھی امریکی تقلید میں جنگ بندی پر راضی ہوجائے۔ گو کہ یہ سب سے سہل اور خوش کن طریقہ ہوگا تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے لیے صرف مسعود پزشکیان کا ایک بیان شاید کافی نہ ہو۔ وہ اس سے پہلے ایران میں من پسند لیڈر کے انتخاب کو بھی جنگ بندی کی اہم شرط کے طور پر پیش کرچکے ہیں۔
پاکستانی عوام دو پاٹوں کے بیچ خاموش تماشائی بننے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے۔ بحرانوں اور بیرونی خطرے میں یک مشت ہوجانے والی قوم اس وقت شدید اندیشوں کی صورت حال کے باوجود کئی سطح پر تقسیم ہے اور قومی اتفاق رائے مشکل دکھائی دیتا ہے۔
