ایک ہفتہ مکمل ہونے کے باوجود ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کے حملے بند ہونے کا امکان دکھائی نہیں دیتا اور نہ ہی ایران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش کے مطابق ’غیر مشروط سرنڈر‘ کا اعلان کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ امریکی سینٹرل کمان(سینٹ کام) کے کمانڈر بریڈ کوپر نے آج معمول کی پریس بریفنگ میں امریکی حملوں کی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ڈرون اور میزائل حملوں میں بالترتیب 85 اور 90 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
تاہم اسی پریس کانفرنس میں وزیر دفاع پیٹ ہیگ سیتھ نے اعلان کیا کہ امریکی حملوں میں شدت آئے گی۔ وزیر دفاع کا بیان اس حد تک اپنے ہی کمانڈر کے دعوؤں سے میل نہیں کھاتا کہ اگر امریکی حملوں کے نتیجے میں میزائل چلانے کی ایرانی صلاحیتیں 90 فیصد تک کم ہوچکی ہیں تو اس پر حملوں میں شدت لانے کی کیا ضرورت ہے؟ اس دوران صدر ٹرمپ تسلسل سے یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ ایران کا دفاعی ڈھانچہ مکمل طور سے تباہ ہوچکا ہے۔ اس کی بحریہ نیست و نابود کردی گئی ہے، فضائیہ کا نام و نشان تک نہیں اور میزائل لانچر بڑے پیمانے پر تباہ ہوچکے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود جنگ بند کرنے کی بات نہیں کی جارہی۔ اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ امریکہ ابھی تک ایران پر بمباری کے اہداف حاصل نہیں کرسکا۔
اب صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ نہ صرف ملک میں اپنی مرضی کا ’رہبر اعلیٰ‘ لانا چاہتا ہے بلکہ اس کا ٹارگٹ پوری موجودہ قیادت کا صفایا کرنا ہے۔ ان باتوں سے بظاہر تو یہ محسوس کیا جاسکتا ہے کہ امریکہ کو موجودہ حکمرانوں میں سے کوئی بھی لیڈر پسند نہیں ہے۔ اس کا خیال ہے کہ نظام حکمرانی میں شامل ہر سطح کے لوگوں کو بڑی تعداد میں مار دیا جائے تو ایسے لوگ سامنے آسکیں گے جو امریکی خواہش کے مطابق کام کرسکیں۔ ٹرمپ گزشتہ روز ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ ایران میں بھی وینزویلا جیسا انتظام چاہتے ہیں جہاں اندر سے ہی کوئی ایسا لیڈر سامنے آئے جو ایرانی عوام کے لیے بھی سود مند یا قابل قبول ہو اور ٹرمپ بھی اس پر اعتبار کر سکیں۔ وینزویلا میں صدر مادورو کو اغوا کرنے کے بعد انہی کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز سے معاملات طے کرلیے گئے تھے۔ اس طرح وینزویلا کے خلاف امریکی جنگ جوئی چند گھنٹوں یا صدارتی محل سے صدر مادورو کو اغوا کرنے کے فوری بعد ہی انجام کو پہنچ گئی تھی۔ تاہم ایران میں آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کے باوجود ایسی صورت حال دکھائی نہیں دیتی۔
یہ کہنا بے حد مشکل ہے کہ ایران کتنی دیر تک امریکی حملوں کامقابلہ کرسکتا ہے اور موجودہ قیادت کب تک زمام اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھ سکتی ہے۔ اگرچہ ٹرمپ کی باتوں سے اب یہی واضح ہورہا ہے کہ انہیں ایران میں موجودہ نظام سے کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ اسے چلانے والے ان کے تابع فرمان ہوں اور امریکی مفادات کے مطابق کام کرسکیں۔ تاہم یوں لگتا ہے کہ امریکی حملے جاری رہنے کی صورت میں پورا نظام زمین بوس ہوگا اور ایران میں مکمل انارکی اور افراتفری پیدا ہوگی۔ یا موجودہ قیادت میں سے کوئی ایک ایسا شخص سامنے آجائے تو دوسروں کو روندتا ہؤا صدر ٹرمپ کی خواہش کے مطابق معافی مانگنے اور جنگ بند کرنے کی درخواست پر راضی ہو۔ اس قسم کا رویہ یا کوئی انتہائی جاہ پرست شخص اختیار کرسکتا ہے یا امریکہ کو بیرون ملک سے سابق ولی عہد رضا پہلوی یا اسی قسم کا کوئی شخص لاکر مسلط کرنا پڑے گا۔
ایک ہفتے کی بمباری سے البتہ یہ واضح ہؤا ہے کہ زمینی فوج بھیجے بغیر یہ مقصد حاصل کرنا شاید ممکن نہ ہو۔ اور نظام کے اندر سے امریکہ کا پسندیدہ شخص سامنے آنا اس لیے مشکل ہے کہ ایرانی نظام حکومت تہ دار ہے۔ وہاں عام فوج کے علاوہ طاقت ور پاسداران انقلاب بھی موجود ہیں جنہیں طاقت اور اثر و رسوخ حاصل ہے۔ اس کے علاوہ مذہبی لیڈروں کو عسکری و سیاسی قیادت کے تعاون سے ہی نظام میں کردار ادا کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اب تک چونکہ یہ نظام کسی رکاوٹ کے بغیر چلتا رہا ہے ، اس لیے بظاہر یہی لگتا ہے کہ ’رہبر اعلیٰ‘ کے ذریعے مذہبی لیڈر طاقت کا اصل مرکز ہیں۔ البتہ موجودہ صورت حال میں دکھائی دینے لگا ہے کہ ’رہبر اعلیٰ‘ بننے والے شخص کو نظام حکمرانی کے ہر طبقے کا اعتماد حاصل ہونا چاہئے۔ شاید یہی وجہ ہو کہ نیالیڈر منتخب کرنے میں تاخیر ہورہی ہے۔ کسی بھی رہبر اعلیٰ کو پاسداران انقلاب کا اعتماد حاصل ہونا ضروری ہے۔ اس وقت امریکہ کے خلاف مزاحمت کی سب سے بڑی علا مت بھی پاسداران ہی ہیں۔
اس نظام کو مرضی کے مطابق تبدیل کرنے کے لیے ہی امریکہ شاید مزید بمباری کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ مزاحمت کرنے والی ساری قیادت ختم ہوجائے اور پھر شکست خوردہ عناصر ٹرمپ کی خواہش کے مطابق سرنڈر کا اعلان کریں۔ البتہ محض فضائی بمباری سے یہ مقصد حاصل ہونے میں وقت درکار ہوگا۔ ٹرمپ نے یہ مدت چار پانچ ہفتے تک مقرر کی تھی لیکن زمینی حقائق کی روشنی میں یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ مقصد کیسے حاصل کیا جائے گا۔ نتیجے میں ایرانیوں کو مزید مشکلات و آلام کاسامنا کرنا ہوگا۔
شاید اسی لیے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ’چند ممالک نے ثالثی کی کوششوں کا آغاز کیا ہے‘۔ یہ بات واضح رہے کہ ہم خطے میں دیرپا امن چاہتے ہیں لیکن اپنی قوم کا وقار اور خودمختاری کا دفاع کرنے میں بالکل نہیں ہچکچائیں گے۔ ’ثالثی کے دوران ان سے بات کرنے کی ضرورت ہے جنہوں نے اس تنازع کو شروع کیا اور ایرانی عوام کے بارے میں غلط اندازہ لگایا‘۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پزشکیان جس خود مختاری کی حفاظت کرنے کی بات کررہے ہیں، اس کے لیے ان کے پاس کتنی طاقت ہے۔ اگر ایران جوابی حملوں کی صلاحیت سے محروم ہوگیا تو اسے ایران کی شکست ہی سے تعبیر کیا جائے گا۔ شاید اسی لیے ٹرمپ کا لہجہ درشت اور حاکمانہ ہے۔ ان کاکہنا ہے کہ ’ ایران کے ساتھ غیرمشروط سرینڈر کے علاوہ کوئی ڈیل نہیں ہو گی‘۔
اگرچہ یہ خوش آئیند ہے کہ چند ممالک اس جنگ کو بند کرانے کے لیے متحرک ہیں۔ البتہ ایسے ممالک کی تعداد بے حد کم ہے اور ان کا اثر و رسوخ بھی محدود ہوگا۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چند روز پہلے ہی سینٹ کو مطلع کیا تھا کہ پاکستان سفارتی ذرائع سے ایران پر حملے رکوانے کی کوشش کررہا ہے۔ البتہ پاکستان کو امریکہ پر اتنا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے کہ وہ اسے کوئی متوازن راستہ اختیار کرنے پر آمادہ کرسکے۔ جنگ کے پہلے ہی روز ایران نے خلیجی ممالک کے علاوہ سعودی عرب پر حملوں کا سلسلہ شروع کرکے جنگ کا دائرہ بہت وسیع کرلیا تھا۔ اب یہ ممالک خود ایران کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں۔ میزائل حملوں سے اگر سفارتی دوریاں پیدا نہ کی جاتیں تو سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک اپنی تمام تر امریکہ نوازی اور دو غلی حکمت عملی کے باوجود جنگ بند کرانے میں متحرک ہوتے۔ اگرچہ ان عرب ممالک کے اقتصادی مفادات کے لیے جنگ بند ہونا ہی واحد راستہ ہے لیکن بیشتر عرب دارالحکومت اس وقت ایران کی مکمل تباہی ہی کو اپنی نجات کا راستہ سمجھ رہے ہیں۔
ٹرمپ کے سخت گیر مؤقف اور ایران کی کمزوری کے علاوہ اسٹریٹیجک غلطیوں کی وجہ کسی بھی ثالث کے لیے کوئی ایسا معاہدہ کرانا ممکن نہیں ہوگا جو دونوں فریقوں کے لیے فیس سیونگ کا ذریعہ بنے۔ ٹرمپ فتح کی بات تو نہیں کرتے لیکن وہ ایران سے ’مکمل سرنڈر‘ کااعلان چاہتے ہیں۔ جارحیت کا ارتکاب کرنے والے کسی ملک کی طرف سے یہ مطالبہ مضحکہ خیز لگتا ہے لیکن دنیا میں طاقت ہی سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔ اسی لیے ٹرمپ خود ہی کسی سیز فائر کی شرائط طے کریں گے۔
پاکستان کے لیے یہ صورت حال نہ صرف ثالث کے طور پر سنگین چیلنج ہوگا بلکہ اسے اقتصادی، عسکری اور اسٹریٹیجک محاذوں پر بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں پاکستان کی مالی مشکلات میں اضافہ کریں گی اور ایران میں انتشار یا خانہ جنگی براہ راست پاکستان کی سرحدوں پر ایک نیا محاذ کھولنے کے مترادف ہوگا۔ ایک طرف اس کے دیرینہ حلیف عرب ممالک ہیں اور دوسری طرف ہمسایہ ایران ہے۔ پاکستان کے لیے کسی ایک کی مکمل حمایت یا مذمت ممکن نہیں ہے۔ جو عرب ممالک سفارتی کوششوں اور مالی مشکلات میں پاکستان کے ساتھ تعاون کرتے رہے ہیں، وہ جنگ طویل ہونے کی صورت میں پاکستان سے واضح مؤقف اختیار کرنے کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔پاکستانی فلمیں
خارجہ چیلنجز کے علاو پاکستان کے ہ داخلی مسائل ایک علیحدہ اور پریشان کن پہلو ہے۔ آیت اللہ خامنہ کی ہلاکت پر ملک میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور حکومت کی معمولی سی ٹھوکر سے حالات بے قابو ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف نہ صرف افغانستان کے خلاف عسکری کارروائی کے خلاف ہے بلکہ حکومت کی ایران پالیسی سے بھی مطئن نہیں ہے۔ یاد دلایا جارہا ہے کہ اگر عمران خان وزیر اعظم ہوتے تو وہ کیسے امریکہ کو ’ابسولوٹلی ناٹ‘ کہتے۔
پاکستانی عوام دو پاٹوں کے بیچ خاموش تماشائی بننے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے۔ بحرانوں اور بیرونی خطرے میں یک مشت ہوجانے والی قوم اس وقت شدید اندیشوں کی صورت حال کے باوجود کئی سطح پر تقسیم ہے اور قومی اتفاق رائے مشکل دکھائی دیتا ہے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

