تہران :ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ پڑوسی ممالک کیخلاف کوئی حملہ یا میزائل حملے نہیں کیے جائیں گے۔
ایک بیان میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ گزشتہ دنوں ہونے والے حملوں پر پڑوسی ممالک سے معذرت خواہ ہیں،ہمارا دوسرے ممالک پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
ایرانی صدر نے یہ بھی کہا کہ عبوری لیڈر شپ کونسل نے پڑوسی ممالک کیخلاف کوئی حملہ یا میزائل حملہ نہ کرنےکی منظوری دے دی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پڑوسی ممالک کے خلاف کوئی حملہ یا میزائل حملے نہیں کیے جائیں گے، جب تک ان ممالک کی سرزمین سے ایران پر حملہ نہ کیا جائے۔
مسعود پزشکیان کا کہنا تھا ایران، امریکا اسرائیل کےسامنے سرینڈرنہیں کرےگا، دشمن کو ایرانی عوام کے ہتھیار ڈالنے کی خواہش کو قبر میں لےجاناپڑےگا۔
واضح رہے ایران پر امریکی اور اسرائیل حملے کے بعد ایران کی جانب سے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے باعث بیشتر شہری بھی زخمی ہوئے۔
بی بی سی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان ایک سادہ سفید دیوار کے سامنے ایک سادہ کرسی پر بیٹھے ہوئے، بظاہر غیر تحریری خطاب میں نمودار ہوئے۔ ان کے ساتھ ہی اب وفات پا جانے والے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصویر تھی۔ قریب ہی ایک چھوٹا ایرانی جھنڈا اور ایک پودا ہے۔
یہ ترتیب ایران کی عبوری قیادت پر دباؤ کو ظاہر کرتی ہے۔
ایران کی عبوری قیادت کونسل کے رکن کی حیثیت سے مسعود پزشکیان نے دو اہم پیغامات دیے۔ اُنھوں نے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران ’آخر تک لڑے گا۔‘
اس کے ساتھ ہی، اُنھوں نے حالیہ دنوں میں نشانہ بنائے گئے پڑوسی ممالک سے معافی مانگی، یہ بتاتے ہوئے کہ کچھ حملے گذشتہ سنیچر کے روز شروع ہونے والے حملوں کے بعد جاری کردہ ’اپنی مرضی سے فائر‘ کے احکامات کے بعد ہوئے۔
اُنھوں نے کہا کہ کونسل نے مسلح افواج کو حکم دیا ہے کہ وہ پڑوسی ریاستوں کو نشانہ بنانا بند کر دیں جب تک کہ ایران پر حملے ان کی سرزمین سے شروع نہ ہوں۔
ایران کے اندر اس پیغام کا مجموعی طور پر خیر مقدم نہیں کیا گیا۔ کچھ سخت گیر لوگوں نے لہجے کو کمزور قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے، جو ایک نئے سیاسی لمحے کی عکاسی کرتی ہے جس میں کئی سینئر سخت گیر شخصیات ختم ہو چکی ہیں جبکہ نچلے درجے کے لوگ ملک کی سمت کے بارے میں بے چین ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریر کی مختلف تشریح کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے معافی مانگ لی ہے اور اپنے ہمسایوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔
فرق ایک سوال پیدا کرتا ہے: کیا یہ تحمل کا حقیقی اشارہ ہے، یا محض ایک عبوری قیادت کی طرف سے وقت حاصل کرنے کی کوشش ہے جس کو سنجیدگی سے لیا جائے۔
( بشکریہ جیو نیوز /بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

