امریکی صدر کے جارحانہ طرز عمل اور جنگ میں کامیابی کے بلند بانگ دعوؤں کے علاوہ ایرانی لیڈروں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والوں کو امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے کثیر انعامی رقوم کے اعلان سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ جنگ میں امریکہ کو حسب توقع پیش رفت حاصل نہیں ہو رہی۔ امریکی دباؤ اور اسرائیلی خواہش کے باوجود ابھی تک عرب ممالک نے ایرانی ڈرون و میزائل حملوں کا جواب دینے کا فیصلہ نہیں کیا۔
اس دوران ترکیہ کی طرف ایران سے جانے والے ایک تیسرے میزائل کو بحیرہ روم میں نیٹو کے اثاثوں نے ناکارہ بنا دیا۔ اس کے باوجود صدر رجب اردوان نے کہا ہے کہ ترکیہ اس جنگ میں ملوث نہیں ہو گا۔ امریکہ کے لیے اگرچہ یہ آئیڈیل صورت حال ہو سکتی تھی کہ عرب ممالک کے علاوہ ترکیہ ایرانی حملوں کے جواب میں ’ڈٹ‘ جاتے اور صرف دفاع تک محدود رہنے کی بجائے باقاعدہ حملوں کا آغاز کیا جاتا۔ اس طرح جنگ شروع کرنے کا الزام امریکہ کی بجائے ایران کی طرف منتقل ہو سکتا تھا اور عرب ممالک کو ایران کے خلاف جنگ میں جھونک کر امریکہ ہلاشیری کی حد تک جنگ کا حصہ رہتا۔ نہ امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا اندیشہ ہوتا اور نہ ہی جنگی مصارف کا بوجھ برداشت کرنا پڑتا۔ دوسری طرف داخلی طور سے بھی اس ’مختصر‘ جنگ کا سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی۔ البتہ جیسے جنگ میں تیزی سے کامیابی کی خواہش پوری نہیں ہو سکی اسی طرح فی الوقت یہ امریکی خواہش بھی پوری ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ اسی لیے صدر ٹرمپ اور ان کے ساتھیوں کا لب و لہجہ سخت اور ترش ہوتا جا رہا ہے۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ بھی آج پنٹاگون میں پریس کانفرنس کے دوران اسی دباؤ کا شکار تھے۔ وہ امریکی میڈیا سے قوم پرستی کا مطالبہ کرتے رہے۔ عام طور سے ایسی خواہش کا اظہار کمزور اور بے بس حکومتوں کی طرف سے دیکھنے میں آتا ہے کیوں کہ جب ان کی حکمت عملی ناکامی کا شکار ہو اور وہ عوام کی خواہشات پر پورا نہ اتر سکیں تو میڈیا کو مورد الزام ٹھہرا کر ’حب الوطنی اور قوم پرستی‘ کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ درحقیقت پریشانی و بدحواسی کا اظہار ہوتا ہے۔ اس لیے امریکہ جیسی طاقت ور حکومت کے نمائندے کی طرف سے ایسی باتیں حیران کرتی ہیں۔ اس پریس کانفرنس میں شریک بی بی سی کے نامہ نگار ٹام پیٹ مین نے اپنے تبصرے میں لکھا ہے کہ ’ان کی جھنجھلاہٹ، اس بات کی علامت محسوس ہوئی کہ امریکی انتظامیہ دباؤ میں ہے‘ ۔ یہ دباؤ جنگ کی طوالت، غیر ضروری و غیر متوقع اخراجات اور امریکی عوام کی معیشت پر اس کے منفی اثرات کی وجہ سے بڑھ رہا ہے۔ تاہم امریکی حکومت اس وقت ایران کو تباہ کردینے اور اس کی قیادت کا صفایا کرنے کے دعوے کرنے کے علاوہ جنگ سے نکلنے کا کوئی مناسب، محفوظ اور باعزت راستہ تلاش کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔
جنگ کو دو ہفتے بیت چکے ہیں۔ ایران نے پہلے دن سے ہی خلیجی ریاستوں اور عرب ممالک کو نشانہ بنایا ہے۔ یوں تو یہ حملے وہاں موجود امریکی اڈوں پر کیے جا رہے ہیں لیکن ان حملوں میں عام تنصیبات اور ہوئی اڈے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ان تمام ممالک کی معیشت بری طرح متاثر ہے اور اس پرائی جنگ میں اپنی حفاظت کے لیے اٹھنے والے مصارف اس کے علاوہ ہیں۔ ایران نے ہمسایہ ممالک پر حملوں کے باوجود مسلسل یہ اقرار بھی کیا ہے کہ وہ کسی ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات خراب کرنا نہیں چاہتا بلکہ اس کے حملے دفاعی نوعیت کے ہیں۔ عرب ممالک متعدد بار واضح کرچکے ہیں کہ وہ نہ تو امریکی جنگ کا حصہ ہیں اور نہ ہی امریکہ کو ان کی ائر سپیس استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ان تمام ممالک میں امریکہ کے فوجی اڈے موجود ہیں۔ قیاس ہے کہ وہاں سے امریکی حملے مربوط کرنے کے لیے الیکٹرانک و انٹیلی جنس رہنمائی فراہم ہوتی ہے۔ اس طرح کسی حد تک ایران کی یہ شکایت بجا ہے کہ ان اڈوں کو غیر فعال ہونا چاہیے۔
عرب ممالک ایرانی حملوں کو جارحیت قرار دینے کے باوجود ابھی تک جوابی کارروائی پر آمادہ نہیں ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ دکھائی دیتی ہے کہ ایسا کرنے کی صورت میں یہ پیغام عام ہو گا کہ عرب ممالک اسرائیل و امریکہ کی جنگ میں ایران کے خلاف برسر پیکار ہو گئے۔ اسے مسلمان ممالک میں عام طور سے اور ان ممالک کے عوام میں خاص طور سے پسند نہیں کیا جائے گا۔ دوسری طرف ان سب عرب ممالک کو علم ہے کہ ان کی مجموعی عسکری صلاحیت و ساز و سامان امریکہ کا فراہم کردہ ہے۔ وہ اگر جنگ میں براہ راست شریک ہو بھی جائیں تو امریکی فضائی طاقت سے زیادہ بھرپور طریقے سے جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس لیے اس صورت حال کو سفارتی طور سے ایران پر دباؤ کے لیے استعمال کرنا ہی سود مند پالیسی ہے۔
بطور خاص سعودی عرب پر ایرانی حملے اس وقت توجہ کا مرکز ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو حرمین شریفین کی وجہ سے سعودی عرب کی خصوصی اہمیت و حیثیت ہے لیکن یہ پہلو بھی توجہ طلب ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان نے گزشتہ سال ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس کے تحت ایک ملک پر حملہ دوسرے پر حملہ تصور ہو گا۔ اس طرح سعودی عرب پر ایرانی حملے براہ راست پاکستان کے لیے بھی چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ حالات کی نزاکت و حساسیت کی وجہ سے پاکستان اس معاملہ سے سفارتی چابکدستی سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان میں عام تاثر کے برعکس یہ کہنا مشکل ہے کہ اس معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے سعودی عرب نے پاکستان سے جنگ میں اس کا ساتھ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ابھی تک خود سعودی عرب نے ایران کے خلاف کسی جنگی کارروائی کا آغاز کرنے سے گریز کیا ہے تو وہ پاکستان سے اس جنگ میں کودنے کے لیے کیسے کہہ سکتا ہے؟ اس کے علاوہ سعودی حکام سے زیادہ کوئی اس بات کو نہیں جانتا کہ پاکستانی امداد ایران پر امریکی حملوں سے موثر اور مہلک نہیں ہو سکتی لیکن ایسا کوئی قدم اس آخری پل کو بھی جلا دینے کے مترادف ہو گا جو ایران اور عرب ممالک کے درمیان رابطہ کاری کے کام آ رہا ہے۔
اس پس منظر میں اگر امریکی حملے جاری رہتے ہیں اور ٹرمپ جنگ بند کرنے کا فیصلہ نہیں کرتے تو حالات تیزی سے تبدیل ہوسکتے ہیں۔ ایران کو دیکھنا ہو گا کہ عرب ممالک پر اس کے مسلسل حملے زیادہ سود مند نہیں ہوں گے۔ کیوں کہ ان حملوں سے امریکی حملوں کی شدت میں کمی نہیں لائی جا سکی۔ البتہ تمام ہمسایہ عرب ممالک کو نشانہ بنا کر ایران نے یہ نکتہ واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی وقت کسی بھی ایسے ملک کو نشانہ بنانے کی صلاحیت اور عزم رکھتا ہے جو امریکہ کا ’حلیف‘ ہو۔ البتہ اب اسے یہ حملے روک کر ہمسایہ ممالک کو یہ پیغام دینا چاہیے کہ وہ ان تمام ممالک کے ساتھ تعلقات کو احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اچھے ہمسایوں کی طرح پر امن طریقے سے رہنے کا خواہاں ہے۔ اس سے ایران کو ان عرب ممالک میں سفارتی پذیرائی ملے گی اور امریکہ کے لیے ایک سخت پیغام ہو گا کہ وہ اس جنگ میں تنہا ہے اور خطے کے عرب ممالک اس کے ساتھ شامل نہیں ہیں۔ اس کے برعکس اگر ایران عرب ممالک کو آسان ہدف سمجھ کر نشانہ بناتا رہا تو اس کے دوستوں میں کمی ہوگی اور سفارتی تنہائی میں اضافہ ہو گا۔ اگر کسی مشکل مرحلے پر کسی عرب ملک نے جنگ میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا تو یہ بحران کو شدید کرنے کا سبب بنے گا۔ ایرانی قیادت کو تمام تر دباؤ، مشکل اور تباہی کے باوجود یہ جاننا چاہیے کہ حالت جنگ میں دوستوں کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ دشمن کے حلیف کم کر کے اسے کمزور کیا جاسکتا ہے۔ عرب ممالک پر حملے نہ کرنے کا کوئی معاہدہ ایران کو ایسی ہی کامیابی سے ہمکنار کر سکتا ہے۔
پاکستان سمیت علاقے کے تمام ممالک اور روس و چین کو بھی چاہیے کہ وہ مل کر ایرانی قیادت کو عرب ممالک کے ساتھ کسی سمجھوتے تک پہنچنے میں مدد کریں۔ اس طرح جنگ میں ایران کی پوزیشن بھی مضبوط ہوگی اور اس کے ختم ہونے کا امکان بھی روشن ہو سکے گا۔ اس کے برعکس عرب ممالک پر ایرانی حملے جاری رہنے کی صورت میں مغربی تجزیہ نگاروں کی یہ رائے مسلمہ ہو جائے گی کہ ایران خود تباہ ہوتے ہوئے پورے خطے اور دنیا کی معیشت کو شدید نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ اس رائے کے درست ہونے کی صورت میں ایران ہی کو ’بیڈ بوائے‘ قرار دیا جائے گا۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

