کابل میں طالبان کی حکومت قائم ہے جو انہیں 2021 میں امریکہ کے ساتھ دوحہ معاہدے کے نتیجہ میں حاصل ہوئی تھی لیکن طالبان کے انتہا پسند عناصر نے اقتدار ملنے کے بعد اس معاہدے یا دیگر عالمی قواعد و ضوابط کو ماننے کی بجائے اپنی پرانی ڈگر برقرار رکھی۔
Browsing: سید مجاہد علی
ایران کی انقلابی حکومت نے گزشتہ 47 سال میں اعتماد سازی کی بجائے انتشار اور بلیک میلنگ کی پالیسی اختیار کی۔ اب بھی آبنائے ہر مز کے سوال پر وہ پوری دنیا کی معیشت کو یرغمال بنا ایران کی مرضی مسلط کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
ایران میں چونکہ غیر عوامی حکومت مسلط ہے جو اپنے عوام کی بہبود پر توجہ دینے کی بجائے سیاسی اسلام پھیلانے میں دلچسپی لیتی رہی ہے، ا س لیے اسے اب بھی اپنے عوام کی پریشانیوں کا زیادہ احساس نہیں ہے۔ ایران میں نہ تو کسی کو رائے دینے کی اجازت ہے اور نہ ہی کوئی شخص حکومت سے سوال کرسکتا ہے کہ جنگ بند کرنے میں کیا قباحت ہے؟
حکومت سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے ملک میں عدلیہ کی آزادی کو دفن کرنے کا اہتمام کررہی ہے۔ لیکن اسے اندازہ نہیں ہے کہ وقت تبدیل ہونے کے ساتھ یہی طریقہ اس کے اپنے سیاسی مفادات کے برعکس استعمال ہوگا۔ عدلیہ کی خود مختاری پر ہونے والے حملے ججوں کو بے اختیار اور جمہوریت کو کمزور کرتے ہیں۔
یہ ملکی عدالتی نظام کا نقص ہے کہ غلط اور بلاجواز طورسے گرفتار کیے گئے لوگوں کو بھی اپنا مؤقف درست ثابت ہونے کے باوجود عدالتیں مقدمہ خارج نہیں کرتیں بلکہ ملزم ہی کو مالی بوجھ برداشت کرتے ہوئے وکیل کی فیس کے علاوہ زر ضمانت کا بھی اہتمام کرنا پڑتا ہے۔ اس معاملہ میں عدالت نے ذمہ داری کا ثبوت دیا اور نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی کے ایک غلط فیصلے کو مسترد کیا۔ اس کے باوجود مقدمہ جاری ہے اور متعلقہ صحافی کو غیر معینہ مدت تک کے لیے پیشیاں بھگتنا ہوں گی۔
اب امریکہ بلاکیڈ کو ایران پر دباؤ کے مؤثر ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ لیکن اس کے اثرات بھی زیادہ تر عوام ہی کو برداشت کرنا پڑیں گے۔ حکمران طبقے کو اس ناکہ بندی کے معاشی اثرات سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اس لیے تہران میں فیصلہ سازی کے سوال پر اختلافات موجود ہونے کے باوجود انہیں حل کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ اور شاید یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ بظاہر کوئی ایسا لیڈر موجود نہیں ہے جو عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان سوچ کا فرق ختم کر سکتا ہو۔
تہران سے فراہم ہونے والی اطلاعات کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی تین ممالک پاکستان، عمان اور روس کے دورہ پر اسلام آباد پہنچے ہیں۔ جمعہ کی رات کو پہنچنے کے بعد وہ ہفتہ کی دوپہر تک اپنی اگلی منزل کی طرف روانہ ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ایران نے کسی بھی سطح پرامریکہ سے براہ راست بات چیت شروع کرنے کا ارادہ ظاہر نہیں کیا ۔البتہ عباس عراقچی شاید امریکی تجاویز پر ایران کا جواب پاکستان تک پہنچانے کے لیے یہاں آرہے ہیں۔
پاکستانی قیادت کو ایران امریکہ مصالحت میں شاندار سفارت کاری کی وجہ سے عالمی طور سے ہی نہیں بلکہ اندرون ملک بھی سراہا جارہا ہے۔ اگرچہ…
تہران میں جاری اقتدار و اختیار کی رسہ کشی کی صورت حال میں یہ کہنا تو مشکل ہے کہ ایران کب تک امریکہ کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت سے معاملہ طے کرے گا البتہ صدر ٹرمپ کے بیانات سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ ٹرمپ اب بھی ایران کے ساتھ بات چیت سے معاملہ طے کرنا چاہتے ہیں۔ شاید اسی لیے اب انہوں نے جمعہ تک مذاکرات کا اشارہ دیا ہے۔ تاہم وہ چاہتے ہیں کہ جلد ہی کوئی ڈیل ہوجائے تاکہ وہ اس تنازعہ سے نکل کر امریکہ کے مڈٹرم انتخابات پر توجہ مبذول کرسکیں۔
اگرچہ ایران کا مؤقف اصولی اور قابل فہم لگتا ہے کہ کسی ملک کو دھمکیوں کے ساتھ بات کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن ایرانی لیڈروں کو یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ ڈونلڈ ٹرمپ قطعی مختلف وضع کے لیڈر ہیں اور ان کے بیانات کی روشنی میں مؤقف اختیار کرنے کی بجائے ایران کو بچانے، اس کے نظام کی حفاظت اور ایرانی عوام کی بہبود کو پیش نظر رکھ کر فیصلے کیے جائیں۔
