پاکستانی وزارت خارجہ نے افغانستان کے لیے برطانوی نمائیندہ خصوصی رچرڈ لنڈسے کی طرف سے شہری زندگیوں کی حفاظت کرنے کے بیان کومسترد کیا ہے۔ لنڈسے نے ایکس پر ایک پیغام میں اقوام متحدہ کے افغان مشن کی اس رپورٹ کا حولہ دیا تھا جس میں پاکستانی حملوں کی وجہ سے مشرقی افغانستان میں درجنوں شہریوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔
ایک طرف انسانی جانوں کے ضیاع پر برطانیہ یا کسی بھی عالمی ادارے کی تشویش قابل فہم ہے تو دوسری طرف پاکستان کے اس مؤقف کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ جنگی حالات میں فریقین کی طرف سے یک طرفہ اور گمراہ کن خبریں عام کی جاتی ہیں ۔ بعض صورتوں میں غیر جانبدا ادارے اور ممالک کے نمائیندے بھی ایسی اطلاعات کو اپنے تبصروں و جائزوں کا حصہ بنا کر کوئی خاص نتیجہ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس پس منظر میں اقوام متحدہ یا برطانیہ کے نمائیندوں کے بیانات ناقابل فہم ہیں جن میں کابل حکومت کے ’انسان دوست‘ ہونے کا تاثر قوی ہوتا ہو۔
کابل میں طالبان کی حکومت قائم ہے جو انہیں 2021 میں امریکہ کے ساتھ دوحہ معاہدے کے نتیجہ میں حاصل ہوئی تھی لیکن طالبان کے انتہا پسند عناصر نے اقتدار ملنے کے بعد اس معاہدے یا دیگر عالمی قواعد و ضوابط کو ماننے کی بجائے اپنی پرانی ڈگر برقرار رکھی۔ پاکستان سمیت عالمی برادری کو خوش فہمی تھی طویل جد و جہد کے بعد ایک بار پھر اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان بنیادی انسانی حقوق اور اقدار کا خیال رکھیں گے۔ ان کی پالیسیاں نہ تو انسان دشمن ہوں گی اور نہ ہی وہ خواتین کے حقوق سلب کرنے کوشش کریں گے۔ بدقسمتی سے یہ توقعات پوری نہیں ہوسکیں۔ طالبان نے اپنا اقتدار مستحکم کرنے کے لیے سخت گیر ہتھکنڈے اختیار کیے، لڑکیوں کی تعلیم ممنوع قرار دی گئی اور شریعت کے نام پر ظلم کا راستہ اختیار کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کسی ملک نے بھی طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔ اگرچہ بعض ممالک اور عالمی ادارے افغان شہریوں کی سہولت کے لیے سفارتی طور سے متحرک رہے اور بعض علاقائی ممالک نے معاشی و دیگر مفادات کے لیے طالبان حکومت سے لین دین کا سلسلہ جاری رکھا۔ ان میں پاکستان، بھارت اور چین بھی شامل ہیں۔ اور بعض یورپی ممالک و عالمی ادارے بھی شہریوں کی مدد کے لیے لیے متحرک رہے ہیں۔
کابل میں افغان حکومت نے ایک طرف انسانی حقوق کو نظر انداز کیا تو دوسری طرف اقتدار سنبھالتے ہوئے عوام کی نمائیندہ حکومت کے قیام کا کوئی طریقہ وضع کرنے کا راستہ بھی اختیار نہیں کیا۔ اسی لیے طالبان کی نگرانی میں قائم حکومت عبوری حکومت کہی جاتی ہے۔ اس عبوری حکومت کی بنیادی ذمہ داری ملک کے لیے نئے آئین کی تیاری اور نئی اور مستقل حکومت کا قیام تھا جسے کسی نہ کسی سطح پر عوام کی تائید و حمایت حاصل ہو۔ لیکن سابقہ حکومت کا آئین مسترد کرنے کے باوجود لگ بھگ 5 سال گزر جانے کے باوجود طالبان ’عوامی نمائیندوں‘ کے ساتھ اقتدار بانٹنے پر آمادہ نہیں ہیں اور نہ ہی اس کا کوئی طریقہ تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ طالبان کا جبر صرف اپنے عوام کے حقوق سلب کرنے تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ انہوں نے دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے اس وعدے کا پاس بھی نہیں کیا کہ افغان سرزمین کو دہشت گرد گروہوں کی پناہ گا نہیں بننے دیا جائے گا۔
کابل حکومت کے ترجمان تسلسل سے دعوے کرتے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین سے کسی دوسرے ملک کے خلاف عسکری کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی افغان طالبان نے تحریک طالبان پاکستان کے عسکریت پسند گروہ کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملے کرنے کی کھلی چھٹی دی بلکہ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ افغان حکومت ان عناصر کی سرپرستی کرتی ہے۔ انہیں مہمان کے طور پر پناہ دی گئی ہے لیکن ان کی عسکری کارروئیوں کو روکنے کی بجائے انہیں منظم کرنے میں تعاون کیا جاتا ہے۔ بعد ازان بھارتی ایجنسیوں کے اثر و رسوخ پر بلوچستان کے علیحدگی پسند عسکری گروہوں نے بھی افغانستان کوا پنا گڑھ بنا لیا اور پاکستان پر حملوں کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔
گزشتہ 4 سال کے دوران خبر پختون خوا اور بلوچستان میں درجنوں دہشت گرد حملوں میں سینکڑوں افراد جاں بحق ہوئے۔ پاکستان کے بار بار توجہ دلانے کے باوجود کابل حکومت نے کوئی کارروائی کرنے سے گریز کیا۔ حتی کہ پاکستان نے کابل حکومت اور تحریک طالبان پاکستان کی ساز باز کے شواہد بھی پیش کیے۔ ان عناصر کی عسکری صللاحیت میں امریکہ کے چھوڑے ہوئے اسلحہ تک رسائی کی وجہ سے بے حد اضافہ ہؤا۔ یہ اسلحہ امریکی فوج عجلت میں افغانستان چھوڑتے ہوئے ساتھ نہیں لے جا سکی تھی اور نہ ہی اسے تباہ کیا جاسکا تھا۔ لیکن اس پر افغان طالبان نے قبضہ کیا تھا۔ البتہ ٹی ٹی پی کے ارکان اسے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کررہے تھے۔ گویا یا تو افغان حکومت خود ان عناصر کو مسلح کرتی رہی ہے یا طالبان کے بعض عناصر یہ اسلحہ بلیک مارکیٹ میں دہشت گرد گروہوں کو فروخت کرتے رہے ہیں۔
متعدد کوششوں اور سفارتی ذرائع استعمال کرنے کے باوجود کابل حکومت نے زبانی وعدوں سے زیادہ کوئی اقدام نہیں کیا۔ اس لیے فروری کے آخر میں پاکستان کو بالآخر مشرقی افغانستان میں دہشت گردوں اور ان کی حمایت کرنے والے عناصر کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے حملے کرنے پڑے۔ مارچ کے دوران پاکستان عارضی جنگ بندی پر راضی ہوگیا لیکن ابھی تک دونوں ملکوں کے درمیان باقاعدہ جنگ بندی معاہدہ نہیں ہوسکا اور نہ ہی تجارتی تعلقات بحال ہوسکے ہیں۔ پاکستان نے اس دوران عالمی برادری کو بھی افغانستان سے دہشت گردی کے خطرات سے آگاہ کرنے کی متعدد کوششیں کیں لیکن کسی ادارے یا ملک نے اس بارے میں پاکستان کی مدد نہیں کی۔ جس کے نتیجہ میں پاکستان کو مجبور ہوکر خود حالات درست کرنے کے لیے اقدام کرنا پڑا۔ جنگ میں انسانی جانوں کا ضیاع فطری بات ہے لیکن کسی بھی تنازعہ میں اس معاملہ کو جھوٹ کے ساتھ ملا کر پروپگنڈے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ افغانستان، پاکستان کی عسکری طاقت کا جواب دینے کی صلاحیت تو نہیں رکھتا لیکن اس نے شہریوں کی ہلاکتوں کا الزام عائد کیا اور ہر حملہ کے بعد دعویٰ کیا کہ اس میں صرف بچے و خواتین نشانہ بنیں۔ جبکہ دوسری طرف پاکستان اس قسم کے کسی کولیٹرل ڈیمیج کو تسلیم نہیں کرتا۔
جنگی نقصانات کے ان متضاد دعوؤں کی وجہ سے ہی برطانیہ یا اقوام متحدہ کے نمائیندے شہری نقصان کا حوالہ دے کر تشویش ظاہر کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف پاکستان کی خواہش ہے کہ اس نقصان کی بات کرنے کی بجائے، اس شہری نقصان کا ذکر کیا جائے جو دہشت گروہوں کے پاکستان میں حملوں کی وجہ سے پاکستانی شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے رچرڈ لنڈسے کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے یہی مؤقف اختیار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ،افغانستان سرحدی صورتحال پر برطانوی نمائندے کا بیان یک طرفہ ہے اور زمینی حقائق اور خطے کی پیچیدہ سرحدی صورتحال کی مکمل تفہیم سے قاصر ہے۔اس لیے یہ حقائق کی درست عکاسی نہیں کرتا۔ مارچ 2026 میں پاکستان کی جانب سے خیرسگالی کے طور پر جنگ میں عارضی وقفے کے باوجود افغان سرزمین سے سرحد پار جارحیت اور دہشت گردوں کی دراندازی کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔ اس دوران افغان طالبان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ اور حملوں کے ساتھ ساتھ بھارتی پراکسیز کی کارروائیوں کے نتیجے میں 52 شہری شہید اور 84 زخمی ہوئے۔پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مؤثر اور ہدفی کارروائیاں کی ہیں۔ جن میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور سہولت کار ڈھانچوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ دراندازی کی متعددکوششیں ناکام بنائی گئیں۔پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے کی صورتحال کو دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور اصولی مؤقف کی روشنی میں دیکھے اور حقائق پر مبنی غیر جانبدار رائے اختیار کرے۔
پاکستان ان حملوں میں شہری نقصان سے صریحاً انکار کرتا ہے جبکہ طالبان پاکستان میں دہشت گردی کو ملک کا داخلی مسئلہ قرار دیتے ہیں۔ عالمی برادری اس معاملہ میں زیادہ ملوث نہیں رہی ، اس لیے پاکستان کی یہ تشویش قابل فہم ہے کہ شہری نقصان کے بارے میں افغان مؤقف کو بیانیہ بنانے کے لیے استعمال کیا جائے۔ اس تناظر میں وزارت خارجہ نے سخت جواب دیا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ کوئی بھی فوج کسی جنگی صورت حال میں شہریوں کی مکمل حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ بیشتر دہشت گرد گروہ شہری آبادیوں میں ہی اپنے ٹھکانے قائم کرتے ہیں۔
اس مشکل سے نکلنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ کابل حکومت افغانستان میں ہمہ قسم عسکری گروہوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ٹھوس اور قابل تصدیق کارروائی کرے۔ ابھی تک طالبان حکومت اس بارے میں کوئی واضح وعدہ کرنے اور ان گروہوں کو غیر مسلح کرنے پر اتفاق نہیں کرسکی۔ چین نے گزشتہ کئی ہفتوں سے دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی رابطوں اور معاہدہ کے لیے اثر و رسوخ استعمال کیا ہے تاہم ابھی تک کوئی ایسا حل تلاش نہیں کیا جاسکا جس پر اسلام آباد اور کابل متفق ہوسکیں۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

