Browsing: لکھاری

پنجاب ٹیکسٹ بورڈ نے’ نظریہ پاکستان اور نصابی کتب ‘کے عنوان سے ایک تین روزہ سیمینار منعقد کیا جس میں پاکستان بھر سے اسلام پسند دانشور مدعو کیے گئے۔ اس مذاکرے میں صرف جسٹس حمود الرحمن، پروفیسر حمید احمد خان اور انتظار حسین کو سچ بولنے کی توفیق ہو سکی۔ پروفیسر وارث میر کی تقریر تو مذہبی منافرت کا شاہکار تھی۔

اگر ہم آج تک کے حالات کا تجزیہ کریں تو تعطل یا بند گلی والی صورتحال ہے۔ جوہری طاقت بننے کے بعد اسرائیل کو مٹانا ممکن نہیں۔ دو ریاستی حل فریقین یعنی اسرائیل اور حماس جیسی فلسطینی تنظیموں کو قبول نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جنگ سے ایرانی رجیم کو ہٹانا بھی تقریبا ناممکن ہے۔ اس جنگ نے پوری دنیا کو معاشی بحران میں مبتلا کیا ہے۔ لیکن اس سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔

ملتان میں ایک علی گڑھ اسکول تھا جہاں عرش صدیقی،اے بی اشرف،مبارک مجوکہ اورابنِ حنیف اردو اکادمی کے اجلاس کرتے تھے ان کے ساتھ سلطان صدیقی ایڈووکیٹ بھی تھے جو علیگ تھے جن کی کتاب عرفانِ غالب تھی،یہاں فیضان احمد انصاری،ان کی بیگم نشاط(جن کے سرپرستوں میں مخدوم سجاد حسین قریشی تھے )،بھتیجی نوشابہ نرگس تھیں مولوی سلطان عالم بھی تھے جن کی وفات کے بعد اس تعلیمی ادارے کو ضلعی انتظامیہ نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا،کچھ علیگیوں کو اکٹھا کرکے اس کی انتظامی کمیٹی بحال کرائی جائے۔

جدوں جہاز تو لتھا تے شیروانی میرے ڈھڈ تے لش لش کردی پئی سی، میں ایمرجنسی لئی بریف کیس وچ دھوتی وی رکھی ہوئی سی۔ خیر میرے ایتھاں اپڑن دا ایہ مقصد وی سی جے قومی ترقی وچ دیگاں دی اہمیت تے چانن پاواں۔۔۔۔
مینوں دیگاں نال نکے ہوندیاں تو بڑا پریم سی، دیگاں گلی دی نکر تے پیاں ہوندیاں سی تے میں اُنہاں نوں ہلا ہلا کے سائنسی تجربے کردا رہندا سی۔

ایران اپنے جزیرے کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے آبنائے ہرمز کھولنے کو رضامند ہوسکتا تھا۔ ممکنہ رضامندی مگر دنیا کو اس کے جھک جانے کا پیغام دیتی نظر آئی تو وہ ہمسایہ ملکوں کو میزائلوں کی برسات کی زد میں لے کر ‘‘ہم توڈوبے ہیں…’’ والا ہولناک جواب بھی دے سکتا ہے ۔

اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں مزید حملے بھی کیے جن میں رہائشی عمارتوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حملوں میں سڑکوں، پلوں اور دیگر شہری انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ حملوں کے ساتھ ہی اسرائیل نے جنوبی لبنان میں انخلا کے عمل کو بھی تیز تر کردیا ہے۔

ایک نوجوان خاتون نے ایک دفعہ اسے کسی شاعرہ کی کتاب تحفۃً دی تھی۔ کتاب تو اسے اب یاد نہیں رہی، لیکن کتاب میں بسی خوشبو اسے اب بھی اچھی طرح یاد ہے۔
سنا ہے کہ خوشبوؤں کے حوالے سے انسانی یادداشت سب سے دیرپا ہوتی ہے۔ اس نے اچھی خوشبوئیں ہمیشہ یاد رکھی تھیں۔ وہ ہر اُس خوشبو سے جڑے واقعات بھی یاد رکھتا ہے جس سے وہ کبھی گزرا ہو۔

پاکستان سمیت علاقے کے تمام ممالک اور روس و چین کو بھی چاہیے کہ وہ مل کر ایرانی قیادت کو عرب ممالک کے ساتھ کسی سمجھوتے تک پہنچنے میں مدد کریں۔ اس طرح جنگ میں ایران کی پوزیشن بھی مضبوط ہوگی اور اس کے ختم ہونے کا امکان بھی روشن ہو سکے گا۔ اس کے برعکس عرب ممالک پر ایرانی حملے جاری رہنے کی صورت میں مغربی تجزیہ نگاروں کی یہ رائے مسلمہ ہو جائے گی کہ ایران خود تباہ ہوتے ہوئے پورے خطے اور دنیا کی معیشت کو شدید نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ اس رائے کے درست ہونے کی صورت میں ایران ہی کو ’بیڈ بوائے‘ قرار دیا جائے گا۔

اپریل 2022 کے بعد آنے والی تبدیلیاں عمران خان کے سیاسی حیطہ خیال سے ماورا ہیں۔ عمران خان تو آج بھی مقتدرہ کے دریوزہ گر ہیں لیکن ان کے حامی نوجوانوں کی اکثریت اس تاریخی پس منظر سے واقف ہے اور نہ اس کے فکری پہلو سمجھتی ہے۔ ان کی نظر میں عمران خان کو مسیحا نہ سمجھنے والا ہر پاکستانی لبرل اور گردن زدنی ہے۔