Browsing: لکھاری

راولپنڈی کی عدالتوں کے ریکارڈ کے مطابق ایک سال کے دوران دس ہزار سے زیادہ خاندانی تنازعات اور طلاق کے مقدمات درج ہوئے۔ اسی طرح لاہور میں ہزاروں خواتین نے خلع کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا۔ یہ اعداد و شمار صرف قانونی فائلوں تک محدود نہیں بلکہ بدلتے ہوئے معاشرتی رویوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ گویا ہمارے معاشرے میں رشتوں کی مضبوطی کو نظر نہ آنے والی دراڑ لگ چکی ہے۔

’’ زبان محض الفاظ کا تبادلہ نہیں ہوتی بلکہ ایک پوری تہذیب کی منتقلی ہے۔ رائے کے جملوں میں جو مزاح طنز اور داخلی تضاد ہے، اسے اردو میں منتقل کرنا کبھی کبھی کٹھن مرحلہ بن جاتا۔ مثال کے طور پر جب وہ اپنی ماں کی سخت مزاجی کو طنز آمیز لہجے میں بیان کرتی ہیں تو اردو میں اس کا ترجمہ محض شکایت بہنے کا خطرہ رکھتا تھا۔ مجھے بار بار یہ دیکھنا پڑا کہ کہاں پر لفظوں کو سیدھا رکھوں اور کہاں پر ان میں چھپی ہوئی معنوی لہر کو کھول دوں ۔ ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مترجم خود بھی مصنف کے ساتھ شریک تخلیق بن جاتا ہے ۔

گرمیوں کی آمد آمد ہے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں جہاں زرعی ادویات نے پرندوں کے لیے قدرتی خوراک کے وسائل کم کر دیے ہیں، وہاں ہماری چھوٹی سی توجہ بہت بڑا فرق پیدا کر سکتی ہے۔ اگر ہم اپنے گھروں کی چھتوں، صحنوں یا درختوں کے قریب صبح اور شام صاف اور تازہ پانی رکھ دیں اور تھوڑا سا دانہ یا چوگا ڈالنے کی عادت اپنا لیں تو یہ معصوم پرندے ہمارے ماحول کو دوبارہ زندگی سے بھر سکتے ہیں۔

اسرائیلی دفاعی افواج نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے تہران میں کئی تیل کے ڈپوں یعنی ’فیول سٹوریج کمپلیکس‘ پر حملے کیے ہیں۔
آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ ’یہ اہم حملہ تھا جس کا مقصد ایندھن کے اُن ذخائر کو نشانہ بنانا تھا جنھیں ایران کے عسکری نظام اور فوجی بنیادی ڈھانچے کو چلانے کے لیے براہِ راست اور بار بار استعمال کیا جا رہا تھا۔‘

سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا اس بیان کو ویسا ہی ’سرنڈر‘ سمجھا جاسکتا ہے جیسا صدر ٹرمپ نے اسے بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ ٹرمپ کے بیان سے تو یہ بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس بیان کو ایران کا سرنڈر کہہ کر اور دوسری طرف ایرانی دفاعی صلاحیتوں کو مکمل طور سے تباہ کرنے کا دعویٰ کرنے کے بعد امریکہ یک طرفہ طور سے اس جنگ کو بند کرنے کاا علان کرے جس کے بعد اسرائیل بھی امریکی تقلید میں جنگ بندی پر راضی ہوجائے۔ گو کہ یہ سب سے سہل اور خوش کن طریقہ ہوگا تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے لیے صرف مسعود پزشکیان کا ایک بیان شاید کافی نہ ہو۔ وہ اس سے پہلے ایران میں من پسند لیڈر کے انتخاب کو بھی جنگ بندی کی اہم شرط کے طور پر پیش کرچکے ہیں۔

تین مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار سرعام پھانسی دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ 23 مارچ 1978 کو کیمپ جیل لاہور کے باہر پھانسی کے تختے نصب ہوئے۔ شام ڈھلے تین مجرموں کو پھندے سے لٹکایا گیا تو یہ منظر دیکھنے کے لیے پانچ لاکھ افراد موجود تھے جن کے فلک شگاف نعروں سے لاہور گونج رہا تھا۔ مجرموں کی لاشیں لٹکتی رہیں اور اندھیرا ہونے کے بعد اتاری گئیں۔ یہ ناٹک قوم کو بھٹو صاحب کی پھانسی کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنے کا اہتمام تھا۔

پاکستانی عوام دو پاٹوں کے بیچ خاموش تماشائی بننے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے۔ بحرانوں اور بیرونی خطرے میں یک مشت ہوجانے والی قوم اس وقت شدید اندیشوں کی صورت حال کے باوجود کئی سطح پر تقسیم ہے اور قومی اتفاق رائے مشکل دکھائی دیتا ہے۔

ایران کو اس وقت امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جس محاذ آرائی کا سامنا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس کی ملا رجیم نے نظریاتی تقسیم کی بنیاد پر خود کو ایک خاص مسلک کا نمائیندہ بنا کر علاقے کے تمام ممالک کے لیے چیلنج بنانے کی کوشش کی۔

"مقدس آمریت” کے دور میں فلم، موسیقی، رقص اور دیگر فنونِ لطیفہ سے وابستہ تمام لوگوں کی کڑی چھان بین اور بازپرس کی جاتی تھی۔ اور ہر وہ شخص جو میری طرح ریاضی میں کمزور تھا، اس ’’ مقدس حکم ‘‘ کا پیروکار بن گیا۔ موسیقی اور دیگر فنونِ لطیفہ کو مختلف طریقوں اور ذرائع سے مبتذل بنا دیا گیا۔