اس کائنات کی بقا کچھ بہت سادہ اور معصوم چیزوں کے سہارے قائم ہے۔ پرندوں کی چہچہاہٹ، درختوں کی ممتا بھری چھاؤں اور سبزہ زاروں کی تازگی، معصوم بچوں کی مسکان اور ماؤں کا بے لوث پیار یہ سب دراصل زندگی کے وہ روشن استعارے ہیں جن سے زمین پر حیات کا حسن قائم ہے۔ فطرت کے یہ چھوٹے چھوٹے مظاہر ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ زندگی صرف سانس لینے کا نام نہیں بلکہ محبت، ہم آہنگی اور باہمی رشتوں کی ایک خوب صورت کائنات ہے۔
مگر بدقسمتی سے انسان نے اپنی لالچ، خودغرضی اور بے حسی کے ہاتھوں اس خوب صورت توازن کو بگاڑ دیا ہے۔ ہمارے سفلی جذبات اور مفاد پرستی نے فطرت کے ان معصوم کرداروں کو آہستہ آہستہ مٹا دینا شروع کر دیا ہے۔ کبھی گرمیوں کی دوپہروں میں گوگی (گیرے) کی مسلسل "گو گو” سنائی دیتی تھی، اور رات کے سناٹوں میں جگنو اپنی ٹمٹماتی روشنیوں سے اندھیروں کو جگمگا دیتے تھے۔ گھنے درخت دھوپ میں جلتے ہوئے بھی دوسروں کو ٹھنڈی چھاؤں عطا کرتے تھے، اور صحرا کی وسعتوں میں ہرنوں کی چوکڑیاں اور تیتر کی سریلی آوازیں زندگی کا پیغام دیتی تھیں۔ یہ سب مناظر دراصل زمین پر حیات کی ضمانت تھے۔
لیکن آج انسان کی بے اعتدالی نے ان سب کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ جنگلات کاٹ دیے گئے، درخت کم ہوتے چلے گئے اور زرعی زمینوں میں زہریلی ادویات کے بے دریغ استعمال نے پرندوں اور دیگر جانداروں کے لیے ماحول کو ناقابلِ برداشت بنا دیا ہے۔ دیہاتوں کی وہ فضائیں، جہاں صبح سویرے پرندوں کے نغمے گونجتے تھے، اب خاموشی کا شکار ہوتی جا رہی ہیں۔
میں اکثر سوچتا ہوں کہ دراصل "موت” نامی کوئی الگ حقیقت نہیں۔ موت ہمارے اندر ہی موجود ہوتی ہے,ہماری لالچ، ہماری بے حسی اور ہماری خودغرضی میں۔ جب انسان کی یہ سفاکیت حد سے بڑھ جاتی ہے تو دراصل وہ خود اپنی زندگی کے امکانات کو ختم کرنے لگتا ہے۔ یوں وہ خود کو اور اپنے ماحول کو آہستہ آہستہ نیست و نابود کر دیتا ہے۔
فطرت نے ہمیں صدیوں سے ایک ہی سبق دیا ہے: جیو اور جینے دو۔ لیکن انسان اس سادہ فلسفے کو سمجھنے کے بجائے فطرت کے ساتھ دشمنی پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔ حالانکہ اگر ہم فطرت کے نمائندوں—یعنی درختوں اور پرندوں سے دوستی کر لیں تو ہماری زندگی میں سکون اور توازن خود بخود پیدا ہو سکتا ہے۔
گرمیوں کی آمد آمد ہے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں جہاں زرعی ادویات نے پرندوں کے لیے قدرتی خوراک کے وسائل کم کر دیے ہیں، وہاں ہماری چھوٹی سی توجہ بہت بڑا فرق پیدا کر سکتی ہے۔ اگر ہم اپنے گھروں کی چھتوں، صحنوں یا درختوں کے قریب صبح اور شام صاف اور تازہ پانی رکھ دیں اور تھوڑا سا دانہ یا چوگا ڈالنے کی عادت اپنا لیں تو یہ معصوم پرندے ہمارے ماحول کو دوبارہ زندگی سے بھر سکتے ہیں۔
اسی طرح اگر ہم اپنے اردگرد درختوں سے رشتہ جوڑ لیں, انہیں لگائیں، انہیں بچائیں اور ان کی حفاظت کریں, تو دراصل ہم اپنی ہی زندگی کو محفوظ بنا رہے ہوتے ہیں۔ درخت صرف سایہ نہیں دیتے بلکہ یہ ہمارے ماحول کی سانس ہیں، ہماری زمین کی زرخیزی ہیں اور ہماری آنے والی نسلوں کی امید ہیں۔
درختوں اور پرندوں سے دوستی دراصل فطرت سے دوستی ہے، اور فطرت سے دوستی انسان کو اس کی اصل انسانیت سے جوڑ دیتی ہے۔ شاید یہی دوستی ہمیں ان بے شمار مصنوعی اور خودغرض رشتوں سے بھی نجات دلا سکتی ہے جو بظاہر مضبوط مگر اندر سے کھوکھلے ہوتے ہیں۔
اگر ہم نے اپنے گردونواح میں درختوں اور پرندوں کو جگہ دے دی تو یقین جانیے ہمارے ماحول میں محبت، سکون اور زندگی کی خوشبو پھیل جائے گی۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک پائیدار اور خوب صورت دنیا کی طرف لے جا سکتا ہے۔
اور شاید یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر انسان واقعی دائمی زندگی کے معنی سمجھ سکتا ہے۔
فیس بک کمینٹ

