جس ملک کے بارے میں یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ امریکہ کی طرف سے جنگ بندی کی مزاحمت کررہا ہے، وہ متحدہ عرب امارات ہوسکتا ہے۔ یو اے ای نے اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے اور پاکستان و ترکیہ کی طرف سے امن کی کوششوں میں بھی اس نے کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی۔ دوسری طرف ایرانی ذرائع متنبہ کرتے رہے ہیں کہ ایرانی جزائر پر حملوں کے لیے (جن میں تیل کی برآمدات میں کلیدی اہمیت کا حامل جزیرہ خرگ بھی شامل ہے) متحدہ عرب امارات امریکی فوج کی سہولت کاری کررہا ہے ۔
Browsing: لکھاری
بھٹو صاحب کے خلاف تحریک نظام مصطفی میں روزنامہ آفتاب ملتان نے اشاعت کے ریکارڈ قائم کیے۔ اس کا لے آؤٹ۔ منفرد اور تاریخی سرخیاں ان دنوں زبان زدِ عام تھیں۔ ممتاز طاہر صاحب سے ہماری ان دنوں ملاقات نہ ہوئی لیکن کیف انصاری، یونس شہزاد، ارشد خرم، مظہر جاوید، مقبول عباس کاشر، سلیم ناز، اطہر ناسک سب اس دفتر میں موجود تھے۔ کام بھی ہوتا تھا، قہقہے بھی گونجتے تھے۔
بین الاقوامی ڈیجیٹل رپورٹس کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں فحش ویب سائٹس تک رسائی کی شرح حیران کن حد تک زیادہ ہے۔ اسی طرح نیشنل چائلڈ پروٹیکشن رپورٹس میں یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ کم عمر بچوں میں جنسی مواد تک رسائی کی عمر مسلسل کم ہو رہی ہے، اور اس کی ایک بڑی وجہ یہی غیر رجسٹرڈ ڈاؤن لوڈ شاپس ہیں جہاں نہ عمر پوچھی جاتی ہے، نہ شناخت اور نہ ہی مواد کی نوعیت پر کوئی سوال۔
ہمارے بہت سے پڑھے لکھے افراد بہتر مستقبل کے لیے مغربی ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ وہ وہاں کی آزادی، عقلیت پسندی، علم، دیانتداری، اور سائنس و تحقیق میں ترقی سے متاثر ہوتے ہیں اور ان سے سیکھتے ہیں۔ لیکن وہ جنسی آزادی سے خائف رہتے ہیں۔ وہ ہم جنس پرستی کو قبول نہیں کرتے کیونکہ یہ ان کے مذہبی تصورات سے متصادم ہے، اور بغیر شادی کے تعلقات کی بھی مذمت کرتے ہیں۔
مجموعی طور پر ہمارا معاشرہ سائنسی بنیادوں پر سوچنے کا عادی نہیں ہے۔ اگرچہ ہم ان مریضوں کے لیے ہمدردی رکھتے ہیں اور دل کھول کر عطیات دیتے ہیں، لیکن یہ عطیات زیادہ تر جذباتی یا روحانی بنیادوں پر دیے جاتے ہیں، نہ کہ سائنسی بنیادوں پر۔
’’عالمی میڈیا‘‘ کی جانب سے پھیلائی ناامیدی کے باوجود میں یہ امید دلانے کو مجبور ہوں کہ یہ کالم چھپنے کے 24سے 72گھنٹوں کے دوران ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ ایسا نہ ہوا تو ہمیں آئندہ کئی برسوں تک خلیج وایران ہی نہیں بلکہ جنوبی اور مشرقی ایشیاء کے پاکستان سے فلپائن تک پھیلے ملکوں میں بھی کامل ابتری کا عذاب بھگتنا ہوگا۔
میں نے سید مظہر جمیل کو ان کا پی ایچ ڈی کا مقالہ بھی بھیجا اور پھر حسبِ عادت جناب آصف علی زرداری اور ان کے پرنسپل سیکرٹری کو مکاتیب لکھنے شروع کئے کہ اس سوانح عمری کیلئے کم از کم دو لاکھ روپے عنائت کیجئے کہ آپ کے کئے ہوئے وعدوں کی تعمیل ہو سکے شاید میرے مکاتیب کے سبب جناب فرحت اللہ بابر کا ایک قریب قریب جِھلّایا ہوا فون آیا کہ اتنی معمولی رقم کے لئے آپ کا صدر مملکت کو اتنے مکاتیب لکھنا مناسب نہیں۔
ایرانی مطالبے یک طرفہ ہونے کے ساتھ فریق مخالف کو فیس سیونگ کا کوئی موقع فراہم کرنے میں ناکام ہیں جبکہ امریکی شرائط میں ایران کی حکومت کو ماننے کے علاوہ اس پر عائد مالی پابندیاں ختم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ اس طرح یہ نکات مذاکرات شروع کرنے کے لیے مناسب بنیاد بن سکتے ہیں۔
صحافی بارک راود نے خبر دی کہ ٹرمپ کے داماد اور دیرینہ دوست پاکستان کی وساطت سے ایران کے ساتھ رابطے میں تھے۔ ان رابطوں ہی نے پیر کی شام ٹرمپ کی جانب سے ہوئے اعلان کی راہ ہموار کی
وہ سب دانا ہیں، لیکن کسی بااثر آدمی کے زیرِاثر نہیں۔ وہاں کوئی بااثر آدمی اپنا اثر قائم رکھنے کے لیے اپنی مرضی نہیں کرتا، بلکہ دانا آدمیوں کے مشوروں پر چلتا ہے اور اسی طرح بڑے آدمی اور سب سے بڑے آدمی بھی
