ٹرمپ نے گالی نکال کر منگل کو امریکی ایسٹرن وقت کے مطابق رات 8 بجے تک آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ بصورت دیگر ایران پر دوزخ کا دروازہ کھل جائے گا ۔
Browsing: لکھاری
وہ اردو کا شاعر تھا مگر روایتی معنی میں اہلِ زبان نہیں تھا اس لئے کراچی کے ادبی میلوں میں وہ کوئی مناسب جگہ نہ پا سکا،دوسرے اس کا خیال تھا کہ خالقِ کائنات کے پاس دکھ،درد کا اسٹاک وافر ہے
مجھے تو ڈر ہے کہ کل کلاں کو اگر مریخ پر بھی کوئی خلائی جھڑپ ہوئی۔ تو حاجی صاحب یہاں زمین پر بیٹھے بیٹھے مٹی کے تیل پر "خلائی ٹیکس” لگا دیں گے۔ اور بڑی معصومیت سے دلیل دیتے ہوئے کہیں گے کہ کیا کریں مجبوری ہے کہ جنگ کی وجہ سے سپلائی لائن بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔ اتنا کہنے کے بعدملا ہُد ہُد نے آخری دفعہ اپنی مختصر مگر جامع ڈاڑھی سمیٹی اور با آواز بلند کہنے لگے۔ سچ تو یہ ہے کہ جنگ چاہے تہران میں ہو یا واشنگٹن میں۔ ایٹم بم ہمیشہ غریب آدمی کے کچن اور جیب میں ہی پھٹتا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے دو روز پہلے پیٹرول کی قیمت میں ڈیڑھ سو روپے کے لگ بھگ اضافے کا اعلان ہونے کے بعد رات گئے…
ایران کی جانب سے دکھائی مزاحمت مگر مین لینڈ امریکا میں ویسی بے یقینی اور مایوسی نہیں پھیلارہی جو پاکستان کا ایران جنگ میں براہ راست ملوث نہ ہونے کے با وجود مقدر ہوئی نظر آرہی ہے۔ میں اس جانب توجہ مبذول رکھتا ہوں تو حارث خلیق جیسے مہربان دوست بھی ناامیدی کی یکسانیت کا ذکر کرتے ہوئے ذہن کو مزید مفلوج بنانا شروع ہوگئے ہیں۔
2025ء میں مذاکرات کے دوران امریکا نے اسرائیل کیساتھ ملکر ایران پر حملہ کر دیا اور 2026ء میں بھی امریکا نے مذاکرات کو ایک دھوکے کے طور پر استعمال کیا۔ دو مرتبہ دھوکہ کھانے کے بعد بھی ایرانی مذاکرات کیلئے تیار ہیں لیکن انہیں ضمانت چاہئے کہ تیسری مرتبہ مذاکرات کے نام پر ان کیساتھ دھوکہ نہیں ہو گا۔
ایران میں قیادت کا بحران دکھائی دیتا ہے۔ یہ درست ہے کہ ایرانی نظام نے اعلیٰ قیادت کی ہلاکت کے باوجود حکومتی نظام برقرار رکھا ہے۔ لیکن یہ غیر واضح ہے کہ سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان رابطوں اور اعتماد کی کیا صورت حال ہے۔ اس ماحول میں رہبر اعلیٰ مجتبی خامنہ ای کی غیر حاضری محسوس کی جاتی ہے۔
ایک اہم سوال جنم لیتا ہے: کیا ان سیکیورٹی بریچز میں اندرونی عناصر شامل ہوتے ہیں؟
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے، مگر اس کا جواب صرف مستند شواہد کی بنیاد پر ہی دیا جا سکتا ہے۔ اب تک کسی قابلِ اعتبار عالمی تحقیق نے یہ ثابت نہیں کیا کہ ایران میں موجود کسی مخصوص مذہبی برادری ، خواہ وہ کلیمی ہو، مسیحی ہو یا زرتشتی ان میں سے کسی کا ان واقعات میں کوئی کردار رہا ہے۔ زیادہ تر تجزیہ کار ان واقعات کو بین الاقوامی انٹیلی جنس سرگرمیوں اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے جوڑتے ہیں۔
اصول یہ ہے کہ طلاق حاصل کرنے والے جوڑے کے نام پر جو مشترکہ اثاثہ جات ہوں گے اُن کی مساوی تقسیم ہوگی لیکن دو پیشگی شرائط کے ساتھ۔ اوّل، اثاثے اُن کی شادی کے دوران دونوں کے مشترکہ تعاون سے بنائے گئے ہوں، دوم، اُن اثاثوں کو بنانے میں فریقین کی کاوشوں اور باہمی تعاون اور شراکت کا واضح تعین نہ ہو سکے۔ اپنے ہاں تو حال یہ ہے کہ برسوں عورت اپنے شوہر اور اُس کے خاندان والوں کی محنت کرتی ہے اور اگر ون فائن مارننگ شوہر اُس کو طلاق کے ساتھ حق مہر کے بیس ہزار روپے دے کر فارغ کر دے تو اُس کے پاس رہنے کو کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا۔
وہ جب شہنشاہ ایران کو سعودی عرب لے کر گیا تو اس وقت اس کا تاریخی استقبال ہوا اور فیصلہ ہوا کہ ہم ایک اسلامی بلاک بنائیں گے یہ ذوالفقار علی بھٹو کیوں پیدا ہو گیا تھا ایسے لوگوں کو تو غریب قوموں میں پیدا نہیں ہونا چاہیے ایسی قومیں جن کو اپنی قوت کا پتہ نہ ہو جن کو اپنی مضبوطی کا پتہ نہ ہو جن کو اپنے بیماریوں کا پتہ نہ ہو ان میں ایک شعور والا کیوں پیدا ہو گیا تھا یہ وہ شعور والا تھا جو تمام صیہونی اور استعماری قوتوں کو چبھنے لگ گیا ۔
