بچپن ہمیشہ رنگوں، ہنسی اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا نام رہا ہے۔ ایک معمولی سا کھلونا بھی بچے کے لیے دنیا کی سب سے قیمتی چیز بن جاتا ہے۔ مگر کبھی ہم نے یہ سوچا ہے کہ یہی کھلونا اس کے لیے خطرہ بھی بن سکتا ہے؟ بظاہر یہ ایک سادہ سا سوال ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک ایسی حقیقت چھپی ہے جسے ہم نظر انداز کر دیتے ہیں۔
ہمارے شہروں میں، خاص طور پر پرانی آبادیوں اور گنجان علاقوں میں، ایسی بے شمار چھوٹی فیکٹریاں کام کررہی ہیں جن کا کوئی ریکارڈ نہیں، کوئی باقاعدہ شناخت نہیں۔ لوگ انہیں ’’ ڈارک فیکٹریز” کہتے ہیں۔ یہاں نہ تو کسی قانون کی گرفت محسوس ہوتی ہے، اور نہ ہی کسی اصول کی پاسداری۔ بس کام جاری رہتا ہے—خاموشی سے،انتہائی تیزی سے، اور بغیر کسی احتساب کے۔
کراچی کے صنعتی علاقوں سے لے کر لاہور اور فیصل آباد کی اندرونی بستیوں تک، اور ملتان کے پرانے محلوں میں بھی، یہ فیکٹریاں ایک غیر مرئی جال کی صورت میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ان میں تیار ہونے والے پلاسٹک کے کھلونے بازاروں میں سستے داموں دستیاب ہوتے ہیں، اسی لیے لوگ بلا سوچے سمجھے خرید لیتے ہیں۔ مہنگائی کے اس دور میں جب ہر گھر بجٹ کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، تو کم قیمت کھلونا ایک سہولت لگتا ہے—مگر اکثر یہی سہولت ایک خاموش خطرہ ثابت ہوتی ہے۔
چند ماہ قبل ملتان کے ایک علاقے میں پیش آنے والا ایک واقعہ اس حقیقت کو اور واضح کرتا ہے۔ ایک پانچ سالہ بچے کو اس کے والدین نے بازار سے خریدا گیا ایک رنگین پلاسٹک کا کھلونا دیا۔ شروع میں سب کچھ معمول کے مطابق تھا، مگر چند دن بعد بچے کے ہونٹوں اور ہاتھوں پر سرخی اور خارش ظاہر ہونا شروع ہو گئی۔ والدین اسے مختلف ڈاکٹروں کے پاس لے گئے، مگر بیماری کی اصل وجہ سمجھ نہ آئی۔ جب کھلونے کو استعمال سے ہٹایا گیا تو کچھ ہی دنوں میں بچے کی حالت بہتر ہونا شروع ہو گئی۔ یہ ایک معمولی واقعہ لگ سکتا ہے، مگر یہ سوال ضرور چھوڑ جاتا ہے کہ ہم انجانے میں اپنے بچوں کو کیا دے رہے ہیں۔
اسی تناظر میں Nishtar Hospital Multan کے شعبۂ اطفال سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں بچوں میں جلدی الرجی، سانس کے مسائل اور غیر واضح انفیکشنز کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جن کی ایک بڑی وجہ ماحولیاتی آلودگی اور غیر معیاری پلاسٹک مصنوعات بھی ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق سستے کھلونوں میں استعمال ہونے والے رنگ اور کیمیکلز، خاص طور پر سیسہ (Lead) اور دیگر زہریلے مادے، بچوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹرز خبردار کرتے ہیں کہ کم عمر بچے کھلونوں کو منہ میں ڈالنے کی عادت رکھتے ہیں، جس کے باعث یہ زہریلے اجزاء براہِ راست ان کے جسم میں داخل ہو جاتے ہیں اور طویل مدت میں ان کی جسمانی و ذہنی نشوونما کو متاثر کر سکتے ہیں۔
مسئلہ صرف ان کھلونوں کی قیمت کا نہیں، بلکہ ان کے معیار کا ہے۔ ان فیکٹریوں میں استعمال ہونے والا پلاسٹک عموماً ری سائیکل شدہ ہوتا ہے، جس میں مختلف اقسام کے کیمیکل شامل ہوتے ہیں۔ سستے رنگ، غیر معیاری خام مال، اور غیر محفوظ طریقۂ کار—یہ سب مل کر ایک ایسی مصنوع تیار کرتے ہیں جو بظاہر خوبصورت مگر اندر سے نقصان دہ ہوتی ہے۔
وقت کے ساتھ اس کے اثرات ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ الرجی، سانس کے مسائل، جلدی بیماریاں اور بعض صورتوں میں ذہنی نشوونما پر بھی اثر پڑتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثر والدین ان مسائل کی اصل وجہ تک پہنچ ہی نہیں پاتے، اور علاج کے چکر میں وقت اور وسائل دونوں ضائع ہوتے رہتے ہیں۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سب کچھ بغیر کسی نگرانی کے ہو رہا ہے؟ اگر نہیں، تو پھر متعلقہ ادارے کہاں ہیں؟
یہی وہ مقام ہے جہاں صوبائی حکومت کی ذمہ داری سب سے زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ محکمہ ماحولیات کے ذمہ دار افسر نے اس سلسلے میں ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ محکمہ ماحولیات پلاسٹک دانہ بنانے والوں کے خلاف کار روائی جاری رکھے ہوئے ہے تاہم حکومت کو چاہیے کہ اس سنگین مسئلے پر فوری توجہ دے اور ایک واضح لائحہ عمل مرتب کرے۔
غیر رجسٹرڈ فیکٹریوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے
کھلونوں کے معیار کو جانچنے کے لیے باقاعدہ لیبارٹری سسٹم قائم کیا جائے
نان فوڈ گریڈ پلاسٹک کے استعمال پر سخت پابندی نافذ کی جائے
مارکیٹ میں فروخت ہونے والے کھلونوں کے لیے سیفٹی سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا جائے۔۔ لیکن خوشامدیوں میں گھرے افسروں کو تو اتنی فرصت ہی نہیں کہ وہ ان معاملات پر توجہ دے سکیں ۔۔
فیس بک کمینٹ

