نیپیڈاو : میانمار کے فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرنے والےسینئر جنرل من آنگ ہلینگ نے پارلیمانی ووٹنگ میں کامیابی حاصل کر کے ملک کے صدر کا عہدہ سنبھال لیا ہے، یوں انہوں نے پانچ سال قبل منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد اپنی سیاسی گرفت کو مزید مضبوط کر لیا ہے۔
پارلیمنٹ کے اسپیکر آنگ لن ڈوے کے مطابق، جمعہ کے روز ہونے والی ووٹنگ میں من آنگ ہلینگ نے 584 میں سے 429 ووٹ حاصل کیے۔ یہ ووٹنگ ایک ایسی پارلیمنٹ میں ہوئی جو زیادہ تر فوج کے حامی ارکان پر مشتمل ہے۔
69 سالہ جنرل نے 2021 میں نوبل انعام یافتہ رہنما آنگ سان سوچی کی حکومت کے خلاف بغاوت کی تھی اور انہیں گرفتار کر لیا تھا۔ اس اقدام کے بعد ملک بھر میں شدید احتجاج شروع ہوا جو بعد ازاں مسلح مزاحمت میں تبدیل ہو گیا اور ملک خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ گیا۔
فوجی سربراہ سے سویلین صدر بننے کا یہ عمل دسمبر اور جنوری میں ہونے والے متنازع انتخابات کے بعد سامنے آیا، جنہیں ناقدین اور مغربی ممالک نے دھاندلی قرار دیتے ہوئے فوجی اقتدار کو جمہوریت کے لبادے میں برقرار رکھنے کی کوشش کہا۔
فوج کے حمایت یافتہ یونین سالیڈیریٹی اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی نے انتخابات میں 80 فیصد سے زائد نشستیں حاصل کیں، جبکہ آئین کے تحت مسلح افواج کے ارکان بھی پارلیمنٹ کی ایک چوتھائی نشستوں پر بغیر انتخاب کے فائز ہیں۔
براہِ راست نشریات میں دکھایا گیا کہ من آنگ ہلینگ نے باآسانی مطلوبہ حد عبور کر لی، جیسا کہ پہلے سے اندازہ لگایا جا رہا تھا۔ وہ اس عہدے کے لیے نامزد کیے گئے تین امیدواروں میں شامل تھے، جبکہ باقی دو امیدوار نائب صدر منتخب ہو گئے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، صدارت کا عہدہ من آنگ ہلینگ کی دیرینہ خواہش تھا۔ ان کی بطور صدر نامزدگی سے قبل میانمار کی مسلح افواج میں بڑے پیمانے پر ردوبدل بھی کیا گیا، جن کی قیادت وہ 2011 سے کر رہے تھے۔
بشکریہ : الجزیرہ ٹی وی )
فیس بک کمینٹ

