حکومت سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے ملک میں عدلیہ کی آزادی کو دفن کرنے کا اہتمام کررہی ہے۔ لیکن اسے اندازہ نہیں ہے کہ وقت تبدیل ہونے کے ساتھ یہی طریقہ اس کے اپنے سیاسی مفادات کے برعکس استعمال ہوگا۔ عدلیہ کی خود مختاری پر ہونے والے حملے ججوں کو بے اختیار اور جمہوریت کو کمزور کرتے ہیں۔
Author: ایڈیٹر
میرے بچپن میں پنجاب ٹیکسٹ بُک بورڈ سے منظور شدہ دوسری جماعت کے قاعدے میں حکمرانِ وقت کے بارے میں بھی یہ ڈیڑھ سطر شامل تھی۔ ‘فیلڈ مارشل محمد ایوب خان پاکستان کے ہر دل عزیز صدر ہیں۔ انہیں ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے۔’
انیس سو ستر میں وقت بدلا تو اسی قاعدے میں صرف نام بدلا۔ ‘جنرل آغا محمد یحیی خان پاکستان کے ہر دل عزیز صدر ہیں، انہیں ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے۔’ انیس سو بہتر میں شائع ہونے والے اسی قاعدے میں صدر ذوالفقار علی بھٹو کو ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہنے لگا۔ تب سے اب تک اس نصابی پل کے نیچے سے ویسا ہی پانی رنگ بدل بدل کے بہے چلا جا رہا ہے۔
قم کو آپ نے اس نایاب کتب خانے کی بنیاد دی جہاں اس وقت 40 ہزار کے قریب خطی نسخے اور کتابیں موجود ہیں یہ کتاب خانہ نہ صرف علمی خزانے سے مالا مال ہے اس کے ساتھ ساتھ ایک تاریخی حیثیت کا حامل بھی ہے کیونکہ یہاں کئی ہزار سال پرانے خطی نسخے موجود ہیں جن سے آ ج بھی استفادہ کیا جا رہا ہے اگر دنیا کے لحاظ سے دیکھا جائے تو قاہرہ اور ترکی کے کتب خانوں کے بعد اسلامی دنیا کا تیسرا بڑا کتب خانہ آ یت اللہ نجفی مرعشی کی دن رات کی محنت کا نتیجہ ہے
ہم نے ماضی میں دیکھا ہے کہ ٹورنامنٹ میں ہارتے ہارتے واپس آنے والی ٹیمیں اکثر چیمپئن بن جاتی ہیں۔ اس کی ایک مثال 1992 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی فتح ہے۔
ایلن جس طرح کے اداروں میں پڑھا ہے وہ ہمارے خیال یا خواب میں بھی مہذب ترین مُلک یعنی امریکہ کے وہ ادارے ہیں جن میں کوئی بچہ پڑھ رہا ہو تو باپ بے شک فخر کرتا ہے مگر وہ بچہ بیمار ہو جائے یا سیکورٹی والے اسے الٹا لِٹا کے مُشکیں کس لیں یا ہتھکڑیاں ڈال دیں تو مائوں کی آہیں عرش ہلا دیتی ہیں۔
ایموجی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ زبانوں کی دیوار توڑ دیتا ہے۔ ایک پاکستانی، ایک عرب، ایک چینی اور ایک یورپی شخص شاید ایک دوسرے کی زبان نہ سمجھ سکیں، مگر سب سمجھتے ہیں، سب جانتے ہیں، ہر جگہ محبت کی علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے بعض ماہرین جدید دور کی عالمی زبان بھی کہتے ہیں۔
یہ ملکی عدالتی نظام کا نقص ہے کہ غلط اور بلاجواز طورسے گرفتار کیے گئے لوگوں کو بھی اپنا مؤقف درست ثابت ہونے کے باوجود عدالتیں مقدمہ خارج نہیں کرتیں بلکہ ملزم ہی کو مالی بوجھ برداشت کرتے ہوئے وکیل کی فیس کے علاوہ زر ضمانت کا بھی اہتمام کرنا پڑتا ہے۔ اس معاملہ میں عدالت نے ذمہ داری کا ثبوت دیا اور نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی کے ایک غلط فیصلے کو مسترد کیا۔ اس کے باوجود مقدمہ جاری ہے اور متعلقہ صحافی کو غیر معینہ مدت تک کے لیے پیشیاں بھگتنا ہوں گی۔
اے دہقان تیرے بوئے ایک دانے سے زمین سو دانے پیدا کرتی ہے
لیکن تیرے اگائے ہوئے سو دانوں میں سے تجھے صرف ایک دانہ نصیب ہوتا ہے۔
جب بھی لاہور ہمیں بلاتا ہم اشرف صاحب سے ضرور ملتے تھے ۔۔گوال منڈی میں محفل سجتی ۔ اشرف جاوید بعد ازاں انجمن ترقی ادب سے منسلک ہو گئے ۔۔ اب تک ان کے چھے شعری مجموعوں سمیت مختلف سیاسی و ادبی موضوعات پر جو کتب شائع ہوئیں ان میں عالمی سیاست کے فرمانروا ، پاکستان میں انتخابات کی تاریخ ، امنِ عالم خدشات و خطرات ، آفتابِ داغ ( داغ دہلوی کے کلام کی تدوین حواشی کے ساتھ شامل ہیں ۔۔
ایرانی عدلیہ کی خبر رساں ایجنسی میزان نیوز ایجنسی کے مطابق عرفان کیانی کو جنوری میں اصفہان میں سکیورٹی فورسز پر حملوں سمیت متعدد الزامات میں مجرم قرار دیا گیا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ موساد کے لیے ایک “مشن” پر تھا۔
