Author: ایڈیٹر

پوڈ کاسٹ سے اُٹھ کر جانے کے سوال پر اداکارہ میرا کا کہنا تھا کہ ’میں اپنی مرضی سے پوڈ کاسٹ سے اُٹھ کر گئی اور میں نے بہت اچھی طرح انھیں خدا حافظ کیا۔ بہت اخلاق سے، بہت پیار سے اُن کو میں نے ڈیل کیا۔‘
’پوڈ کاسٹ کے دوران میں نے کوئی غیر اخلاقی حرکت نہیں کی، اُن سے میں نے درخواست کی کہ میں فلم کے بعد آپ سے بات کروں گی اور سب کو نظر آ رہا ہے کہ میں کس طرح ان سے درخواست کر رہی ہوں۔‘

امریکی صدر نے جنگ بندی میں بھی توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ توسیع اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایران کی جانب سے باضابطہ تجویز پیش نہیں کی جاتی اور مذاکرات کسی نتیجے تک نہیں پہنچ جاتے۔
یاد رہے کہ ایران نے امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزی اور وعدے کے باوجود ناکہ بندی ختم نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار کردیا تھا۔

دسمبر 1965ء میں پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان امریکہ گئے اور بشیر ساربان کے دوست سے پاک-بھارت جنگ کے دوران امریکہ کی جانب سے برتی سردمہری پر دُکھ اور شکوے کا اظہار کیا۔ بشیر ساربان کا دوست مگر ٹس سے مس نہ ہوا۔ بھارت ہی کو کمیونزم کا اصل دشمن تصور کرتا رہا۔ امریکہ سے لوٹتے ہی لہٰذا صدر ایوب خان کمیونسٹ کیمپ کے قائد سوویت یونین سے رجوع کرنے کو مجبور ہوئے ۔

اگرچہ ایران کا مؤقف اصولی اور قابل فہم لگتا ہے کہ کسی ملک کو دھمکیوں کے ساتھ بات کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن ایرانی لیڈروں کو یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ ڈونلڈ ٹرمپ قطعی مختلف وضع کے لیڈر ہیں اور ان کے بیانات کی روشنی میں مؤقف اختیار کرنے کی بجائے ایران کو بچانے، اس کے نظام کی حفاظت اور ایرانی عوام کی بہبود کو پیش نظر رکھ کر فیصلے کیے جائیں۔

بقول اداکار عرفان خان’’ جب ہم جیسوں کے دن آتے ہیں موت بیچ میں ٹپک پڑتی ہے‘‘ اظہار عباسی صاحب 17 اپریل 2026 کو راہی ملک عدم ہوئے ۔ملتان کے سب ایڈیٹرز کی توانا آواز ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئی۔
رئیس فروغ نے کیا خوب کہا تھا :
لوگ اچھے ہیں بہت دل میں اتر جاتے ہیں
اک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مر جاتے ہیں۔

ایک ایسے ملک میں، جہاں کئی سینیئر رہنما اس جنگ میں مارے جا چکے ہیں، پس پردہ اقتدار کی اندرونی کشمکش جاری ہے۔
جو کچھ ہم عوامی طور پر سن رہے ہیں، اس میں زیادہ تر سیاسی بیان بازی ہو سکتی ہے اور ممکن ہے کہ ایران اسلام آباد سفر کی تیاری کر رہا ہو۔
لیکن اس سب کا مطلب یہ ہے کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے صرف ایک دن پہلے، ہم ابھی تک یقینی طور پر نہیں جانتے کہ یہ امن مذاکرات واقعی ہوں گے یا نہیں۔

نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات کی وجہ سے ٹرمپ کے لیے اس مشکل اور غیر مقبول جنگ سے جلد نکلنا بے حد ضروری ہے۔ دوسری طرف ایران کی رجیم کو دکھائی دے رہا ہے کہ اگر امریکہ کے ساتھ کوئی معاہدہ ہوجاتا ہے تو اسے جنگی تباہی کے مشکل مسئلہ سے نمٹنے کے علاوہ ملک میں معاشی بے چینی، بیروزگاری اور بدحالی و غربت کے مسائل کا سامنا ہوگا۔

سرکاری اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ مالی سال 2025 کے دوران جولائی تا مارچ پاکستان نے 12.53 ملین میٹرک ٹن پیٹرولیم مصنوعات درآمد کیں، جن پر 8.4 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ خرچ ہوا۔ یہ وہ رقم ہے جو اگر بچ جائے تو کئی شعبوں میں بہتری آ سکتی ہے، مگر فی الحال یہ رقم ایندھن کے دھوئیں میں اڑ جاتی ہے۔

اب ایران کو شائد کسی ایٹم بم کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ کیونکہ ایران پر آبنائے ہرمز کی شکل میں ایٹم بم سے زیادہ خطرناک اور طاقتور ہتھیار کی موجودگی کا راز کھل چکا ہے۔ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی روانی روک کر دنیا کو جس اقتصادی بحران سے دوچار کیا جا سکتا ہے وہ ایٹم بم کی تباہ کاریوں سے زیادہ مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کو بند کرنے اور گلف ریاستوں میں امریکی اڈوں پر حملوں کی حکمت عملی اختیار کرنے کا آپشن ایران کے پاس ہمیشہ موجود رہے گا۔