عمر فاوق ظہور ناروے میں ایک جانی پہچانی پاکستانی کاروباری شخصیت کے ہاں پیدا ہؤا تھا۔ اس نے 18 سال کی عمر میں ایک ٹریول ایجنسی کھول کر اوسلو میں ہی کاروباری زندگی کا آغاز کیا۔ تاہم سفری دستاویزات کے فراڈ میں اسے اوسلو کی ایک عدلت نے ایک سال قید کی سزا دی۔ لیکن وہ کبھی عدالت میں پیش نہیں ہؤا۔ 2010 میں اس نے مبینہ طور پر دھوکہ دہی سے ایک مقامی بنک نورڈیا سے 60 ملین کرونر حاصل کیے۔ وہ خود اس الزام سے انکار کرتا ہے۔ لیکن کبھی ناروے آکر اپنے خلاف الزامات کا دفاع بھی نہیں کرسکا۔
Author: ایڈیٹر
ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے اور مستقل جنگ بندی کے امکانات روشن ہوگئے…
آبنائے ہرمز میں کچھ جہازوں کو ریڈیو پیغامات بھی موصول ہوئے جن میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے اور اب کسی بھی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اگر امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رہتی ہے تو اس راستے کو کالعدم تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے کا کنٹرول اُس وقت تک مسلح افواج کے سخت انتظام اور کنٹرول کے تحت رہے گا جب تک کہ امریکا ایرانی بندرگاہوں کے لیے بحری جہازوں کی روانگی کی ناکہ بندی ختم نہیں کر دیتا ہے۔
دیگر صحافیوں کی طرح وہ بھی بے روزگاری کا شکار ہو گئے اور یہی ان کی موت کی وجہ بنی ۔ان کی نمازِ جنازہ آج سہ پہر ؑعصر کی نماز کے بعد جلال مسجد پارک گلگشت کالونی میں ادا کی جائے گی ۔
مختار ریڈیو سے ٹیلی ویژن پر چلے آئے تھے مگر دل کی پرانی لگن بے طرح لاگو ہو رہی تھی۔ ٹیلی ویژن کے بابو لوگ از قسم ضیا جالندھری، مسعود نبی نور ریڈیائی تکنیک کے استاد مختار صدیقی کا ہنر کیسے سمجھتے۔
کیٹلن ڈورنبوس مگر کوئی عام صحافی نہیں۔ NY Postکی رپورٹر ہونے سے قبل وہ امریکی فوج کے ترجمان رسالے سے وابستہ تھی۔ امریکی فوج کی مدد سے وہ کئی جنگوں کی برسرِ میدان حرب جاکر رپورٹنگ کرتی رہی ہیں۔ پاکستان میں قیام کے دوران موصوفہ نے میرے دو ہنر مند ساتھیوں -طلعت حسین اور فہد حسین- کے ٹی وی پروگراموں میں بھی حصہ لیا۔
انٹرویو میں عارفہ صاحبہ اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کی وجوہات پوچھ رہی تھیں اور میں اصرار کر رہا تھا کہ مذاکرات دوبارہ ہوں گے۔ انکے لئے مجھ پر یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ 13 اپریل کو پیر کی شب جیونیوز پر کیپٹل ٹاک میں ایک دفعہ پھر جب اس خاکسار نے بڑے اعتماد سے کہا کہ امریکا اور ایران کے مذاکرات دوبارہ ہونے والے ہیں تو کچھ امریکی صحافیوں نے واشنگٹن میں اپنے ذرائع کو کریدنا شروع کیا۔
ہرجانے کی ضد پر قائم رہنے سے عرب ممالک بھی اپنے انفرا اسٹرکچر کو ہونے والے نقصان کا ازالہ چاہیں گے۔ اس میں تو شبہ نہیں ہے کہ ٹرمپ کی ایران پر مسلط کی ہوئی جنگ غیر قانونی تھی۔ لیکن اس وقت امریکہ کسی ضابطے یا ا صول کو نہیں مانتا، اقوام متحدہ بے وقعت ہوکر رہ چکی ہے۔ ان حالات میں کسی بھی طرح دانشمندی سے امریکی جارحیت کا راستہ روکنا ضروری ہے۔
پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے یہ بھی بتایا کہ ’اگر مذاکرات ہوئے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اسی مقام پر ہوں گے یعنی اسلام آباد میں منعقد ہوں گے جہاں پہلے ہوئے تھے۔‘
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیٹلائٹ نے سعودی عرب کے پرنس سلطان ائیر بیس کی 13، 14 اور 15 مارچ کو تصاویر لیں، 14 مارچ کو امریکی صدر ٹرمپ نے تصدیق کی تھی کہ اس اڈے پر امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ایران-امریکا جنگ بندی اور خطے کی تازہ ترین صورتحال جانیے
