ملتان : کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سابق ٹکٹ ہولڈرز نے ٹی ایل پی سے اظہار لاتعلقی کردیا۔
ملتان میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جنوبی پنجاب کے سابق ٹکٹ ہولڈرز نے کالعدم ٹی ایل پی کی سیاست سے اظہار لاتعلقی کرتے ہوئے کہا کہ کالعدم ٹی ایل پی سے بغیر کسی دباؤ کے الگ ہو رہے ہیں، اور یہ فیصلہ کسی بھی دباؤ کے تحت نہیں بلکہ شہدا کے خون کے احترام میں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ملکی سلامتی اور پاک افواج کے ساتھ کھڑے ہیں، پاک افواج نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا، اگر پاک فوج کو ضرورت پڑی تو ہم اپنی افواج کے ساتھ سرحدوں پر دشمن کے ناپاک عزائم کو مٹانے کے لیے ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ کالعدم ٹی ایل پی کی جانب سے احتجاجی کال کا کوئی جواز نہیں تھا، بیرونی چیلنجز کے باوجود احتجاج غیرمناسب تھا۔
اس موقع پر ایک سابق ٹکٹ ہولڈر نے کہا کہ پُرتشدد اور جتھے بازی کی سیاست اور ملکی حالات کو دیکھتے ہوئے جنوبی پنجاب کے تمام ٹکٹ ہولڈرز کالعدم تحریک لبیک پاکستان کو چھوڑنے کا اعلان کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی امن چاہتے ہیں، وہاں امن معاہدہ ہو رہا ہے اور پاکستان میں ہماری سابقہ جماعت کی جانب سے احتجاجی تحریک کا شروع کرنا اور پھر اس احتجاج میں تشدد کا عنصر شامل ہوجانا، اس کا ہمارا ملک متحمل نہیں ہوسکتا۔
سابق ٹکٹ ہولڈرز کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے ریاست ہے، ریاست سے بڑھ کر کوئی نہیں، جب ریاست مضبوط ہوتی ہے تو تمام چیزیں ملتی رہتی ہیں۔
ملتان اور جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے ٹکٹ ہولڈرز نے پارٹی سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے۔
سابق ٹکٹ ہولڈر محمد حسین بابر کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کی جانب سے احتجاج کی کال دینے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ یہ کال ایسے وقت میں دی گئی جب ملک کو پہلے ہی بیرونی چیلنجز کا سامنا تھا۔
اُن کا کہنا تھا کہ وہ اور اُن کے ساتھی ناموسِ رسالت اور پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ٹی ایل پی میں شامل ہوئے تھے، لہذا اس کے پرتشدد ایجنڈے سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔
محمد حسین بابر کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی ملک دُشمن قوتوں کے ایجنڈے پر چل رہی تھی۔ اس لیے ہم سب نے فیصلہ کیا کہ ہم اس کے ساتھ مزید نہیں چل سکتے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی وفاقی کابینہ نے مذہبی و سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان کو انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت کالعدم جماعت قرار دینے کی منظوری دے دی تھی۔
یہ منظوری وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دی گئی تھی۔ پنجاب حکومت نے 17 اکتوبر کو تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی سفارش کے حوالے سے وفاقی حکومت کو سمری بھیجی تھی۔
ٹی ایل پی نے غزہ امن معاہدہ طے پا جانے کے بعد اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے سامنے احتجاج کرنے کے لیے لاہور سے اسلام آباد کی جانب ‘غزہ مارچ’ کا آغاز کیا تھا اور لاہور میں پرتشدد جھڑپوں کے بعد مریدکے کے مقام پر پولیس اور مظاہرین کے مابین دوبارہ شدید جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں۔
مریدکے واقعے کے بعد ٹی ایل پی کی قیادت اور کارکنان کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا آغاز کیا تھا ۔
فیس بک کمینٹ

