ملتان ،کتاب اور رضی الدین رضی ایک ایسی تثلیث ہیں جن میں سے ایک کو بھی منہا کر لیں تو تصویر ادھوری کیا بے معنی ہو جائے گی۔رضی کا پہلا تعارف صحافت اور شاعری تھا پھر انھوں نے بھر پور نثر لکھی اور خوب لکھی ۔ وہ روداد لکھیں،تاریخ لکھیں شخصیت نگاری کریں یا اب وہ اگر پبلشر بنے ہیں تو بھی منفرد بنے ہیں،ہر شعبے میں ان کی تخلیقیت اور فنکاری نمایاں ہی دکھائی دے گی۔بیمار ہوں،کام کا پریشر ہو یا دوست نما ناقدین کی ایمائی شرارتیں ہوں،رضی کو کوئی پروا نہیں،ایک دانشورانہ بے نیازی سے آ گے گزر جاتے ہیں "بس ایک منزل ہے بوالہوس کی ہزار رستے ہیں اہل دل کے”کی حقیقت میں عازم سفر رہتے ہیں۔بڑی بڑی تقاریب اکیلے دم منعقد کرا لیتے ہیں۔ہر کام کی تکمیل میں اپنے دوستوں کے تعاون کو بھی ساتھ رکھتے ھیں۔انورجمال ،سائیں انوار احمد ، جیسے اساتذہ کی رہنمائی میں نت نئے تجربے کر کے تخلیق کاروں ،دانشوروں اور قارئین ادب کو متحیئر کرتے رہتے ہیں ۔ملتان اور مضافات ملتان کے قارئین(مجھ جیسے) کو بھی کتاب کی رفاقتوں میں شامل رکھتے ہیں اور ہر نئی شائع ہونے والی کتاب سےگردوپیش بک کلب کے ذریعے سب کو متعارف کرادیتے ہیں۔اسی وصف کی ایک مثال ڈاکٹر احمد خلیل خان کی”ایسی اداسی بھی نہیں ہے ،شہزاد عمران خان کی”سخن وران ملتان 2013تا 2021 اور نصرت جان کی”میٹھے پانی کے چشمے” ہیں جو آج بطور تحفہ مجھے موصول ہوئیں۔ یہ تینوں کتابیں آ پ کی سرپرستی میں شائع ہوئی ہیں۔کتابوں کے عنوانات،گٹ اپ اور ذیلی عنوانات پہلی ہی نگاہ میں قاری کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔کتابوں کی ایسی پیش کش بس رضی بھائی ہی کا کام ہے ۔

