مہدی لغاری صاحب اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں کمال مہارت رکھنے والے منفرد لکھاری ہیں، انہوں نے اپنے قلمی سفر کے آغاز میں ا نگریزی زبان کو اپنا ذریعہ اظہار بنایا اور ان کا پہلا ناول "ڈی جنریشن "(2023)اپنے منفرد موضوع کی بنا پر پسند کیا گیا ، قلم سے جڑے لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ ناقدین و مبصرین کی حوصلہ افزا آراء کی روشنی ،ایک حساس قلمکار کے لیے بہت سے نئے راستوں کی تلاش میں معاون کا کردار ادا کرتی ہے سو مہدی لغاری صاحب نے اس مرتبہ اپنی قومی زبان اردو کو اپناتے ہوئے ، ناول نگاری کی جدید دنیا میں "عشق آباد سے اشک آباد "کے عنوان کے تحت ایک ایسے ناول کا اضافہ کیا ہے جو اپنے اسلوب کی انفرادیت کی بنا پر سنجیدہ حلقوں میں پذیرائی کی منازل طے کررہا ہے۔۔۔
ناول اس نینو فکشن کی بے شمار آوازوں کے شور میں پڑھنا بذات خود ایک مشکل تجربہ ہے مگر مذکورہ ناول اس مشکل تجربے سے ایک مشکل پسند قاری کو گذارنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔۔۔۔۔۔معروف سفر نامہ نگار جناب ڈاکٹر عباس برمانی صاحب کے مطابق یہ ناول قاری کو ایک ایسے شہر فسوں سے متعارف کرواتا ہے جو ایک حیرت کدہ ہے اور حسرت کدہ بھی ۔۔۔۔۔جہاں مصنف قاری کو ایک شکستہ بانسری ،ایک گٹھڑی ٹوٹے ہوئے وعدوں کی اور سپنوں کا اک خالی کاسہ تھما کر ،عشق آباد کی تمام خوشیاں اور غم سمیٹ کر ،اشک آباد تک لے جاتا ہے ۔۔۔۔
۔۔۔۔محترم احباب ۔۔۔۔۔گردوپیش پبلی کیشنز کے زیر اہتمام، خوب صورتی اور نفاست سے آراستہ اس فکر انگیز ناول کا تحفہ ،حسب سابق رضی بھائی نے استاد محترم ڈاکٹر انوار احمد صاحب کے توسط سے مجھ تک پہنچایا، تبصرے کے اذن اور مہدی لغاری صاحب کے آٹو گراف کے ساتھ ناول کی اہمیت میرے لیے مزید بڑھ گئی ۔۔۔
۔۔۔۔ویسے تو میرے مخلص سب رشتہ دار ،ناطے دار اور فیس بک فیملی کے محترم احباب ،شبھ چنتک جانتے ہیں کہ گزشتہ دنوں میرا قلم میری گردن میں پڑے طوق یعنی نیک کالر کی وجہ سے ذرا رکنے پر مجبور ہوگیا تھا ، شدید درد نے دماغی طور پر پریشان تو کیا مگر دل ناتواں نے ہمت نہیں ہاری اور اردو ادب سے جذبہ عشق کے تحت پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالے کا خاکہ شعبہ میں جمع کرواکر ہی دم لیا ۔۔۔بس رب سے دعا ہے یہ عشق آباد رہے ،اشک آباد نہ بنے۔۔۔۔۔۔گذشتہ دو ماہ سے بذریعہ ڈاک موصول ہونے والی کتابوں کا شکریہ ادا کرنے کا ارادہ کرتے ہوئے ،میں ابھی بھی کوئی بھرپور تبصرہ نہیں لکھ پا رہی ہوں مگر روایتی مریضوں کی ہائے وائے سے ذرا ہٹ کر ،خدا گواہ ہے کہ ان قیمتی کتابوں سے مجال ہے کہ ذرا نظر پھیری ہو ۔۔۔۔۔اور یہ ناول تو ایک ایسی چونکا دینے والی کہانی پر مبنی ہے جس سے نظر چرانا تو ایک طرف نظر بچانا بھی ناممکن ہے ۔۔۔۔
بقول رضی الدین رضی صاحب "عشق آباد سے اشک آباد تک یہ ناول اپنی دریافت کا ایک عمل ہے ،ہم کون تھے۔۔۔۔۔
ہمارے اجداد کون تھے——ہم کہاں سے آئے اور ہمارا انت کیا ہے.؟۔۔۔۔۔۔۔

ناول میں مہدی لغاری نے ان تمام سوالات کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے. اس نے کرداروں کے مکالموں کے ذریعے ان تضادات کی نشاندہی کی. جو ہمیں دکھائی تو دیتے ہیں لیکن ہم میں ان پر بات کرنے کا حوصلہ نہیں. یہ محبت اور نفرت کی ایسی کہانی ہے.
جس کے کرداراپنی تلاش کے عمل میں خود کو کھو چکے ہیں.”
گویا عشق آباد سے اشک آباد ۔۔۔۔۔ایسی کہانی کے گرد گھومتا جنگل ہے جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر رہا ہے کہ قدیمی خوف ہماری فرسودہ روایتی جڑوں میں چھپا ہوا اس کرہ ارض کو اشک آباد کی صورت میں تو تبدیل نہیں کردے گا ۔۔۔۔ کتاب کے فیلپ پر سجی ہوئی ،جناب مستنصر حسین تارڑ کی رائے سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے جہاں اس ناول کی کہانی منفرد ہے ،وہاں یہ ناول گمبھیرتا میں جکڑ لینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے مگر اکثر مقامات پر ایک ایسا گھنا پن وجود میں آجاتا ہے ،جہاں پڑھنے والا محسوس کرتا ہے کہ مصنف کو خود بھی سانس لینا چاہیے تھا اور قاری کو بھی سانس درست کرنے کا موقع فراہم کرنا چاہیے تھا ۔۔۔باذوق قارئین کے لیے ناول سے منتخب کچھ سطور جو مصنف کے منفرد اور جاندار اسلوب کا پتہ دیتی ہیں۔
’’ کتابوں نے یہاں مسئلے ہی پیدا کیے حل تو کیا کرتیں‘‘
’’ راستہ گم ہو جائے تو ایک بھٹکا مسافر بھی رشتہ دار لگتا ہے‘‘
’’جب اہرام مصر بنے ہوں گے تو مزدوروں کوتمام مشکلات رہتے ہوئے یہ حکم بھی ہوا ہوگا. . کہ مرنا منع ہے کیونکہ اگر مزدور مر جائے. "تو سرمایہ بھی مر جاتا ہے. ‘‘
’’مجھے تمہیں چھوڑ دینا اتنا اذیت ناک لگے گا. جیسے مجھے کچھ لوگوں کا ملنا اذیت ناک لگتا ہے‘‘
اظہارممنونیت کے ساتھ گردوپیش پبلشرز کو ایک شاندار ناول کی اشاعت پر دلی مبارکباد
فیس بک کمینٹ

