میری کم نصیبی ہے کہ مہدی لغاری نے انگریزی میں جو لکھا ، یا اس کے علاوہ اور کچھ بھی میں وہ نہیں دیکھ سکا،البتہ اسے دیکھ کر میں اس لئے ٹھٹھک گیا اسے ملتان کے ہی ایک اشاعتی ادارے (گردوپیش پبلی کیشنز )نے دیدہ زیب انداز میں شائع،کیا ہے دوسرے میرے کچھ شاگرد ان دنوں ازبکستان گئے ہوئے ہیں وہ ہر صبح وہاں سے اشک آباد کے سبزہ وگل ، مشروبات اور کچھ نشیلے نین نقش والوں کی تصویریں فیس بک پر لگا دیتے تھے اور تیسری بات یہ ہے کہ ملتان میں کچھ مصور، گلوکار اور قصہ گو ایسے بڑھے کہ کچھ بدمذاقیوں یعنی ایف آئی آروں کے باوجود عشق،کو فروغ ملا ۔
پھر جب آپ مہدی لغاری کے اس ناول کو پڑھنا شروع کرتے ہیں تو شعریت اور وہ تخلیقیت جو تفکر کو احساس ِ لطیف بنا دیتی ہے اس کے اسلوب کے ذریعے آپ کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے ۔
اردو ناول میں پہلے بھی کمی کمین یعنی نتھوخیرا کے شجرے کو موضوع،بنایا گیا ہے جن کی شاداب جسموں والی ماؤ ں پر خان بہادر، وڈیرے یا جاگیر دار صاحب مہربان رہے مگر سچی بات ہے کہ ایسے تخلیقی فقرے مرزا اطہر بیگ کو لکھنےنصیب نہیں ہوئے ۔۔
’’ یوں حکیم صاحب کا احساس،گناہ چھوٹا ہوتا گیا اور شرافت بڑا ہوتا گیا‘‘
’’عورتوں کو تم پسند ہوچھوٹے تھے تو مردوں کو بھی پسند تھے ‘‘
عشق آباد کے بابوں کے قصوں میں چڑیاں عقل کی باتیں کرتیں ، ہرن ولی اللہ سے بارش،کے بارے مکالمہ کرتے ، بھیگتے بلونگڑے کو اپنی چادر میں لپیٹ کے لے جانے والی طوائف کو بیٹھے بیٹھے بخشوا دیتے
۔
سینہ کسی خوابیدہ جوالا مکھی کے ان کھلے گنبدوں جیسا ، ابھرا ابھرا پیٹ بنا کسی ورک آوٹ کے پسلیوں سے جڑا ہوا ، اہل کتاب مگر چٹی ان پڑھ۔ ۔عذاب نہیں اترا۔۔
’’ یہ ان لکھا معاہدہ دریا اور اس،کے قریب رہنے والوں کے درمیان تھا کہ دریا یہ زمین کاتک تک چھوڑ دے گا پھر وساخ کے مہینے تک اپنا ما ل مویشی اور فصل ادھر سے اٹھا لیں گے ‘‘ ۔۔۔
’’ اس گلی میں بیٹیاں واقعی خدا کی رحمت سمجھی جاتی ہیں اور بیٹے ساری عمر انہی رحمتوں کے سائے میں پلتے ہیں ‘‘
۔۔۔۔
’’ بچے ماں پیدا کرتے ہیں جیسے ماں بچے پیدا کرتی ہے ‘‘
۔ ۔۔
’’بدمعاش بننا اس،کا سپنا تھا جو ادھورا رہ گیا،اس،لئے وکیل بننا اس،نے آسان سمجھا ‘‘
۔۔۔
’’جادوگروں نے ان کی یادداشت کھانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ انسان اگاتے رہیں اور انہیں ڈرانا بند کر دیں ‘‘
۔۔۔
’’ پکھی واسوں کے جسم میں اتنی ترغیب کیوں ہوتی ہے کہ خان بہادر یا اللہ کے نیک بندے ان کے وجود کے تاروں کے بان سے بنی چار پائیوں میں لذت پاتے ہیں جو محل سراوں کے مہکتے چھپرکھٹ میں نہیں ہوتی ‘‘
آپ یہ ناول پڑھیں گے تو پھر آپ اس کے ڈیزائن پر غور کریں گے کہ پہلے حصے میں 26 ابواب کیوں ہیں دوسرے کے چار اور تیسرے حصے کے دو،کیوں ہیں اور آخری کا عنوان عہدنامہ عدیم کیوں رکھا گیا اور پیپل کے نیچے بیٹھنے والوں کو اہل پیپل کیوں کہا گیا ؟ساتھ ہی اس،ناول کی تین کمزویاں بھی آپ کے سامنے آئیں گی مگر جو ناول آپ کو تحفے میں بھیجا گیا ہو تو کیا مناسب ہے کہ اس،کی ایک دو یا تین کی تین کمزوریاں بیان کی جائیں ۔۔۔
فیس بک کمینٹ

