’’ عشق آباد سے اشک آباد ‘‘ کی خوبصورتی کیا ہے ؟ یہ پڑھنے والوں کے لیۓ تو ضروری ہے کہ وہ خود پڑھیں لیکن یہ ناول لکھاریوں کو ضرور پڑھنا چاہیۓ -یہ فیض کی ان نظموں کی طرح ہے جن کو ہر مکتبہ فکر اپنے لیۓ سمجھتا ہے . وہ مظلوم کہ جن کو سننے کی بھی طاقت نہیں بخشی گئی وہ بیچارے گونگے بھی بول کہ لب آزاد ہیں ترے گنگناتے پھرتے ہیں . اور کیوں نہ گائیں کہ حق ہے ان کا۔
چند ہزار سال کی انسانی تاریخ میں عام انسان کا یہی المیہ ہے ذہنی اور جسمانی طاقت رکھنے والے خود غرض طبقہ کے سامنے کہ جو غیر قدرتی اور من گھڑت قوانین کو قدرتی کہہ کے نافذ کرتا رہا جن سے ہماری آج تک کی تہذیب اور روایات کی پرورش ہوئی – جس نے شرم و گناہ کے ضابطے مقرر کیۓ – دوسروں کے لیۓ ۔ قدرتی وسائل صرف اجناس نہیں ہیں کہ جن پر قبضہ کیا گیا ۔ سوچوں پر بھی پہرے بٹھاۓ گۓ اور ذہنی استحصال کیا گیا ۔۔
جہاں پی ایچ ڈی کا مطلب پھرا ہوا دماغ مشہور ہو یا اکثر سنا ہو کہ کتابیں پڑھ پڑھ کے اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے وہاں واقعی کتابوں نے مسلۓ کیا حل کرنے تھے وہ تو خود مسلۂ تھیں ۔
یہ ناول ایک ایسی پینٹنگ بھی ہے جس کو ہر پڑھنے والا اپنی مرضی کی شکل دے گا وہی جیسے اپنی مونا لیزا کی مسکراہٹ مرے تمہارے عنکبوت وہم سے بنی ہوئی ۔ وہ ہے بھی کہ نہیں بتا ۔پڑھتے ہوۓ کسی لمحے یہ احساس بھی ہوا کہ جیسے دوستوسکی کا ایڈیٹ اپنے اندر چھڑی جنگ کو امن بخشنے چھوٹے پاگل خانے سے اپنی اداس نسلوں کا پتا لگانے نکلا توگدھ اس کا دل و دماغ نوچنے دائروں میں گھوم رہے تھے اور ہر راستہ اک آگ کا دریا تھا جسے منیر نیازی کی طرح اس نے پار کیا – لیکن دماغ کے دامن پے اتنے ہاتھ پڑے کہ پھر سیدھا چھوٹے پاگل خانے پہنچ گیا –
کچھ اجنبی دوستوں نے اس ناول کا ماخذ صرف معاشی استحصال کے ظلم سے منسلک کیا – یہ درست ہے کہ معاشی استحصال ایک خاص جزو ہے باقی بیشمار محرومیوں کو جنم دینے کو ۔ لیکن یہ ناول ان بے بس مرے ہوۓ انسانوں کا بھی ذکر کرتا ہے کہ جو اپنی سوچ کی قبروں میں زندہ دفن کر دیۓ گۓ اور ان کو اپنے قتل کا احساس بھی نہ ہونے دیا گیا اور اگر احساس شرمندگی احساس گناہ سے زیادہ تکلیف دہ ہے تو پھر وہ خود بھی قاتل بن گۓ –
ہم اپنے ارد گرد کے ماحول سے مہیا کچھ اوزار اور اپنے حاصل کردہ علم کی اینٹوں سے ایک مضبوط حویلی تعمیر کر کے اور اپنی سوچ کا ایک تخت بنا کر بیٹھ جاتے ہیں تو پھر ہر کسی کو اسی چند فٹ کی اونچائی سے دیکھتے رہتے ہیں. یہ جانتے ہوۓ بھی کہ دوسروں کو کھڑے ہو کر ملنے سے اپنا ہی قد بڑا ہوتا ہے . صرف اس تخت سے تھوڑی دیر کو خوش دلی سے اٹھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور تخت تو اپنی جگہ موجود ہے ضرورت پڑے تو دوبارہ وہیں تشریف فرما سکتے ہیں ۔۔
پڑھتے ہوۓ سرکار قدیم و حاضر ، تاریخی واقعات و بیانات ، گناہ گاروں کے بولے ہوۓ سچ اور سچے لوگوں کے بتاۓ ہوے جھوٹ اور ان میں نحیف انسانوں کی پناہ و امان کی مجبوریوں اور بے وجہ ضرورتوں کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے –
فیس بک کمینٹ

