عشق آباد سے اشک آباد مہدی لغاری کا ناول ہے جو کہ’’ گردوپیش پبلی کیشنز ملتان سے ستمبر ‘‘ 2025 میں شائع ہوا۔ناول پر اردو ادب کے تین درخشندہ ستاروں کی آراء بھی شامل ہیں جن میں مستنصر حسین تارڑ ، ڈاکٹر عباس برما نی اور ہمارے استاد محترم رضی الدین رضی شامل ہیں۔ ان کی آراء کے بعد مجھ جیسے طالب علم کی اتنی جرات تو نہیں کہ کچھ کہہ سکوں لیکن پھر بھی ایک طالب علم کی حیثیت سے چھوٹا سا تبصرہ پیش ہے۔
مہدی لغاری معاصر اردو کے ان ناول نگاروں میں شمار ہوتے ہیں جن کی تخلیقات صرف قصہ گوئی تک ہی محدود نہیں بلکہ سماجی و فلسفیانہ شعور اور علامتی پیرائے میں ایک حسین امتزاج شمار ہوتی ہیں۔ناول ‘‘ عشق آباد سے اشک آباد ‘‘ ان کی فکری وابستگی ،سماجی حساسیت اور علامتی اسلوب کا نمائندہ ہے۔یہ ناول اردو ادب کے اس رجحان سے ملتا ہوا نظر آتا ہے جس میں فرد ، سماج اور نظام کے باہمی تصادم کو تمثیل اور علامت بنا کر پیش کیا گیا ہے۔
ناول میں پیش کیے گئے سماجی تعلقات ،برداشت،صبر اور خاموش مزاحمت اس خطے (سرائیکی)کی تہذیبی و ثقافتی روایت کو اجاگر کرتے ہیں۔
ناول میں پیش کیے گئے کرداروں کا دکھوں کو برداشت کرکے کوئی شکایت نہ کرنا اور صبر کی خصوصیت کو اپنائے رکھنا اس خطے کی معاشرت اور لوگوں کے مزاج کی نشاہدہی ہے۔انہوں نے ناول میں اس خطے کے مظلوم طبقے کی نفسیات کو کھل کر بیان کیا ہے۔انہوں نے اپنے معاشرے سے ہی کرداروں کو لیا اور پھر انہی کی زبانی مکالمے بھی ادا کروائے۔جو کہ اس خطے کی مقامی معاشرت اور تہذیب و ثقافت کے مطابق دکھائی دیتے ہیں۔جیسے پیپل کے درخت کے نیچے اہل پیپل جو بھنگ (بوٹی) پیتے ہیں،ان کے مطابق وہ ہزاروں سال پرانی اس خطے کی ثقافت ہے۔
مہدی لغاری نے ناول میں اپنے خطے کے لوگوں کے مزاج کو بھی بڑا واضح اور کھل کر بیان کیا ہے، کہ یہ کبھی بھی اور کسی بھی دور میں حملہ آور نہیں رہے بلکہ ہمیشہ امن و سکون سے رہنے کے عادی ہیں۔ان لوگوں کے نزدیک بس دو ہی معیار ہیں ایک خوشی اور دوسرا غمی۔ انہوں نے ناول کو اردو زبان کے قالب میں بیان تو کیا ہے مگر اس کے بیانیے میں موجود لہجہ، محاورے، ساخت اور اس کے علاؤہ بعض ثقافتی استعارے سرائیکی وسیب کی یاد دلاتے ہیں۔یہ لسانی و تہذیبی آمیزش ناول کو محض قومی نہیں بلکہ علاقائی پہچان بھی عطا کرتی ہے۔مہدی لغاری نے ناول میں قاری کو اپنے سحر میں مبتلا رکھنے کے لیے جملوں کو دلچسپی کا عنصر دیا ہے۔
ناول میں مہدی لغاری نے سرائیکی وسیب اور اس خطے کی تاریخ میں معاشی محرومی ، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ،سیاسی نظر اندازی اور وڈیرا شاہی سسٹم کو نمایاں کیا ہے۔
ناول میں علامتی گاؤں عشق آباد کا اشک آباد میں تبدیل ہو جانا اسی تجربے کی ایک علامتی صورت ہے۔یہاں عشق آباد صرف ایک گاؤں نہیں بلکہ پورے وسیب اور خطے کی نمائندگی کرتا ہے، جو طاقتور مرکز کے سامنے کمزور اور بے آواز ہے۔اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس خطے کی تہذیب و ثقافت کو بیان کرتے ہوئے لوگوں کے مزاج ، لباس، قد، رنگ و صورت کو بھی بیان کیا ہے۔انہوں نے جا بجا اس خطے کی زبان کے مقامی الفاظ اور ثقافت کو بیان ہے۔جیسے "سچ سب سے بڑا کین ہے” ۔ اس جملے میں کین سرائیکی زبان کا لفظ ہے جس کے معانی دھوکہ اور فراڈ کے ہیں۔
خطہ ملتان اور اس وسیب کی تہذیب و ثقافت کی ایک نمایاں خوبی اس کا صوفیانہ اور روحانی مزاج ہے۔ناول میں موجود دردمندی ،انسان دوستی اور باطنی کرب اسی صوفی روایت کا پرتو ہے۔یہ پہلو ناول کو محض سماجی احتجاج تک محدود نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے اخلاقی اور روحانی سطح پر بھی وسعت دیتا ہے۔مہدی لغاری نے ناول میں سرائیکی اور اس خطے کی تہذیب وثقافت کو براہ راست اور زیادہ جگہوں پر علامتی پیرائے میں بیان کیا ہے۔یہاں کے رسم و رواج ،رویے، صبر، لوگوں کے مزاج ، شکل و صورت ،موسم ، محرومیاں اور وابستگی سب کچھ بیان کیا گیا ہے جو کہ متن کا حصہ ہے۔اور بعض جگہوں پر ناول کو آفاقی بنانے کے لیے علامتوں ہی کا سہارا لیا گیا ہے۔یہ ایک درد کی داستان ہے اور اس داستان میں ایک پورا جہان ہے ۔۔
فیس بک کمینٹ

