جانے سن عیسویں کا کون سا سال تھا ، کس ماہ کی بات تھی ، پتہ نہیں چیتر تھا کہ ہاڑ تھا جو بھی تھا بے کار تھا۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ عالم شباب میں، جب احباب زلفوں کی باتیں کرتے اور ہونٹوں کے قصے چھیڑا کرتے تھے۔ تو اس زمانے میں بھی آں جناب صاحب المیہ شاعری فرماتے اور اس سے بھی زیادہ المیہ منہ بنا کے گھوما کرتے تھے ۔ ( انہیں دیکھ کر اکثر لوگ سوچ میں پڑ جاتے کہ جناب کا رخ سیاہ زیادہ المیہ ہے یا شاعری؟) ۔ اس قدر غمگین ہونے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ عہدجوانی میں بھی آں جناب اتنے جوگے نہ تھے کہ کسی زلف گرہ گیر کو اپنا اسیر کرتے ۔ ہر چند کہ آپ نے بہت زور مارا ۔لیکن کسی ماہ جبیں نے گھاس تو کیا اس کا ایک تنکا تک بھی نہ ڈالا تھا (کہ موصوف دانتوں میں خلال ہی کر لیتے)۔۔
چنانچہ اس طرف سے مایوس ہو کر آں جناب نے قشقہ تو نہیں کھینچا ،نہ ہی دیر میں جا بیٹھے، اور نہ ہی جناب نے ترک اسلام کیا۔ کیا تو بس اتنا کہ اپنے "چونی ” سے منہ پر داڑھی رکھ لی۔۔تاکہ نیک نظر آئیں۔( حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے)۔ داڑھی مبارک رکھنے کے بعد آں جناب نے اپنے اشعار میں مزید دکھ بھرنے شروع کر دیئے۔۔۔واقفان حال لکھتے ہیں کہ آپ جناب اس قدر غمناک بلکہ المناک شعر کہتے۔۔ کہ جنہیں سننے سے پہلے ہی لوگ باگ ان کے آگے ہاتھ جوڑتے۔۔ بلکہ سوتروں میں تو یہاں تک لکھا ہے کہ بعض تو آپ کےپاؤں بھی پڑ جاتے کہ حضرت صاحب ہمیں دو جوتے مار لیں ۔۔۔لیکن خدارا۔۔۔اپنے دکھی شعر نہ سنائیں۔اور بعض رمز شناس تو ان کا منہ کھلنے سے پہلے ہی کہہ دیتے تھے کہ یا حضرت!۔۔ شعر رہنے دیں ہم آپ کو ویسے ہی چائے پلا دیتے ہیں۔
کچھ شر پسند ایسے بھی تھے جو ان کی شاعری سن کر دل ہی دل میں ہنستے۔ لیکن بظاہر واہ واہ کرتے ہوئے کہتے کہ جناب صاحب ، میر کے بعداگر کسی کی شاعری میں اس قدر دکھ ، درد اور غم دیکھے ہیں تو واللہ، صرف آپ کی شاعری میں دیکھے ہیں۔۔آں جناب ان شرپسندوں کی آرا نہ صرف یہ کہ دھیان سے سنتے، بلکہ ان باتوں پر سچے دل سے یقین بھی رکھتے تھے۔اب تو نوبت ایں جا رسید کہ آں جناب نے من ہی من میں خود کو نہ صرف ایک عظیم شاعر اور دانش ور تسلیم کر لیاتھا ۔ بلکہ گاہے گاہے اس کا دعوٰی بھی کرتے ہوئے نظر آئے ۔۔
ایک دن کی بات ہے کہ آں جناب اپنے شعروں کا ڈراوا ۔۔دے کر پڑوسی لڑکے سے مفت کی چائے پی رہے تھے۔کہ باتوں باتوں میں اس نےآں جناب کو چیٹ جی پی ٹی کے بارے میں بتایا کہ یہ ایک ایسا مصنوعی ذہانت والا بوٹ (AI Bot) یا ایک ایسا کمپیوٹر پروگرام ہے جو انسانوں کی طرح سوچنے، سیکھنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بہت سی معلومات کا تجزیہ کر کے آپ کے سوالوں کے جواب دیتا ہے، آپ سے بات چیت کرتا ہے اور مختلف کاموں کو سرانجام دیتا ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی مکالماتی معاون ہے جو قدرتی زبان سمجھ کر انسان جیسا متن اور جوابات پیدا کرتا ہے۔ آپ اس سے بات کر سکتے ہیں، سوالات حل کرا سکتے ہیں اور عملی کام میں مدد بھی لے سکتے ہیں۔ اس جیسے مصنوعی ذہانت والے بہت سے باٹ انٹر نیٹ پہ دستیاب ہیں ان سے جو چاہیں سو پوچھیں۔
پڑوسی کی باتوں کو آں جناب کے ساتھ ساتھ چاچا مکھن بھی بہت غور سے سن رہا تھا ۔چنانچہ ساری تقریر سننے کے بعد، وہ اس سے مخاطب ہو کر بولا، بیٹا کیا واقعی مصنوعی ذہانت والا بوٹ سب کچھ بتا سکتا ہے؟ پھر ہاں میں جواب سن کر بولا۔پتر میری مرغی کل سے لاپتہ ہے ، کیا تمہارا چیٹ بوٹ اس بارے میں کچھ بتا سکتا ہے؟ مکھن چاچے کا سوال سن کر اس لڑکے ( کہ جس نے آں جناب کے ساتھ مل کر مرغی پکڑی تھی ) نے اپنے فون میں ویسے ہی کچھ لکھا ۔پھر تھوڑے انتظار کے بعدچاچے سے مخاطب ہو کر بولا۔ آپ کی مرغی تو کل شام سے ہی کسی کے پیٹ میں جا چکی ہے۔
یہ سن کر چاچے نے شاعر غم دوراں و غم جاناں درد العصر و معتبر آں جناب پر ایک قہر بھری نظر ڈالی ۔پھر غضب ناک ہو کر بولا جس دن میں نے پکڑ لیا نا۔۔چاچے مکھن کی دھمکی سن کر آں جناب یہ سوچ کر ہی تھرا اٹھے کہ اگر سچ مچ ایسا ہو گیا تو زمانہ کیا کہے گا کہ عظیم دانشور و بے مثل شاعر غم و اندوہ جس کا ہر مصرعہ ایک آہ، ہر قافیہ ایک کراہ، اور ہر ردیف ایک چیخ ہے۔ پڑوسی کی مرغی چراتے ہوئے پکڑا گیا؟۔ یہ سوچ آتے ہی انہوں نے اپنے "چونی” سے منہ کو مزید درد ناک بلکہ المناک بنا لیا ۔ قبل اس کے، کہ آپ جناب پر کوئی کربناک شعر نازل ہوتا ،کہ رسم دنیا بھی تھی موقعہ بھی تھا دستور بھی تھا۔ ۔ اس لڑکے نے ۔۔ چائے کا بل بھرا اور۔۔ دبا کے چل دیا۔
اس کے جاتے ہی آپ جناب نے سوچا چیک کرنا چایئے کہ بھلا میں کس پائے کا دانشور و شاعر ہوں؟۔یہ فیصلہ کرتے ہی وہ سیدھا گھر جا پہنچے اور کمپیوٹر آن کرتے ہوئے مستی کے عالم میں (چیٹ بوٹ پہ) لکھا۔اے ذہانت مصنوعی کے پر تو ۔۔اے مشینی بابا۔۔ سنا ہے کہ تو آن کی آن میں حساب لگا کے درست نتیجہ پیش کر سکتا ہے۔ ذ را اپنے کل پرزوں کو حرکت میں لا۔۔انہیں دوڑا، تھوڑا بھگا اور حساب لگا کے بتا کہ شاعر اعظم آں جناب کس پائے کا جغادری شاعر و ادیب ہے؟۔ یہ بھی بتا کہ کیا صفحہء قرطاس پہ اس سے پہلے بھی کوئی، ان جیسا جید قلمکار آیا ہے؟ کمانڈ دینے کے بعد آں جناب نے اپنی نگاہیں کمپیوٹر کی سکرین پر ٹکا دیں۔اتنی دیر میں اس ذہانت مصنوعی کے پرتو نے ساری ویب اور آن لائن لائیبریریوں کو کھنگالا۔۔پھر نتیجہ نکالتے ہوئے لکھا۔۔منجھی دا ٹُٹ گیا پاوا۔ مجھے تو یہ بندہ کہیں بھی نظر نہیں آیا۔اس پر آں جناب نے ڈیپ کمانڈ دیتے ہوئے لکھا۔۔ ہر حال میں بتایا جائے۔کمانڈ ملتے ہی بوٹ نے ہوا سے بھی تیز بھاگتے ہوئے انٹرنیٹ میں غوطہ لگایا۔۔پھر کچھ توقف کے بعد لکھا۔ جناب مجھے تو یہ کوئی سڑک چھاپ شاعر ۔۔اور چھکڑ قسم کا دانشور لگتا ہے۔یہ پڑھتے ہی آپ جناب نے دل میں سوچا ۔ہو سکتا ہے کہ یہ بوٹ میری عظمت علمی سے لاعلم ہو پھر خیال آیا اگر یہ اتنا ہی عالم فاضل ہوتا تو پھر نسٹ یونیورسٹی میں پروفیسر نہ لگا ہوتا۔اس کے بعد کچھ سوچ کر آپ نے ایک اور چیٹ بوٹ پر یہی سوال لکھا۔یہ مصنوعی ذہانت والابوٹ ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ ستم ظریف اور شوخ بھی واقعہ ہوا تھا۔اس نے جواب میں لکھا مجھے تو یہ شخص کوئی علمیات خبطی ، ادبی الو۔۔پھکڑ کالم نگار اور ویلا دانشور لگتا ہے ۔یہ پڑھتے ہی آپ نے جلدی سے اسے بند کردیا۔لیکن جب تیسرے چوتھے چیٹ بوٹ نے بھی کچھ اسی قسم کے ریمارکس پاس کیئے۔ تو انہیں پڑھ کے آپ جناب عرق ندامت میں ڈوب گئے۔پھر سر اٹھا کر آہستہ سے بولے۔ جناب صاحب اپنی شاعری۔۔ و ۔۔ دانشوری ۔۔تو وڑ گئی!!!
فیس بک کمینٹ

