خواتین و حضرات یہ ایک ریٹائیرڈ سرکاری طوطے کی کہانی ہے جو کہ ملک ناپرساں کے جنگل نما شہر کوفے کا رہائشی تھا۔یہ ایک ایسا ملک تھا کہ جہاں کا رکھوالا۔۔ مالک ، اور مالک بازار میں چنا جور گرم بیچا کرتا تھا۔خوف اور دہشت کے مارے یہاں کے باشندوں کے رنگ اور ڈھنگ دونوں ہی بدل گئے تھے مثلا کوا جو کہ بہت چالاک اور عیار مانا جاتا ہے۔ ملک "ناپرساں ” میں سبز رنگ کا ہو گیا تھا ۔ چنانچہ اپنی اس رنگت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کوؤں نے بڑے بڑے دربار اور ٹی وی چینل کھول رکھے تھے۔جہاں اسلاف کی عجیب و غریب کرامات کا پرچار کیا جاتا تھا جنہیں سن سن کر وہاں کے الو ثواب سمجھ کر رنگ رنگ کی ٹوپیاں و پگڑیاں پہنا کرتے تھے ۔ کچھ اسی طرح کا حال طوطوں کا بھی تھا ۔ عام طور پہ ان کا رنگ سبزہوتا ہے۔ لیکن یہاں جس ریٹائیرڈ سرکاری طوطے کا بیان مزکور ہے اس کا رنگ گندمی اور چونچ گھسی ہوئی تھی مزید یہ کہ اسے آنکھوں سے بھی کم دکھائی دیتا تھا۔
صبح کا وقت تھا یہی سرکاری طوطا اپنے واجبی سے منہ کو (اچھی طرح) دھونے کے بعد، جیل شیل لا کے ،کنگھی شنگھی وا کے، نوکری پر جانے کے لیئے گھر سے نکلا ہی تھا کہ اچانک ۔۔ اسے یاد آیا کہ وہ تو کام سے سبکدوش ہو کر وظیفہ یاب بھی ہو چکا ہے۔یہ خیال آتے ہی اس نے اپنے (واجبی سے) منہ پر ہلکا ساتھپڑ مارا۔پھر فیصلہ کیا کہ گھر جانے کی بجائے کیوں نہ شہر کوفہ کا ایک وزٹ ہی کر لیا جائے۔ یہ سوچ کر وہ ادھر کو چل پڑا جدھر کی ہوا چل رہی تھی ۔ چلتے چلتے اس کی نگاہ "الحاج چاچے ہنس ” پر پڑی۔ جس کا جنگل میں ‘خالص دیسی مال” کا بہت بڑا جنرل سٹور تھا۔ الحاج ہنس صاحب کے پاکیزہ سٹور پہ دنیا بھر کی جعلی اشیاء بکثرت ملتی تھیں۔ اور ملتیں بھی کیوں نہ کہ آپ جناب نے حال ہی میں تیسرا حج جو کر لیا تھا۔ اس وقت بھی چھوٹا الو مطلب الو کا پٹھہ انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ مرچوں میں برادہ مکس کر رہا تھا ۔جبکہ الحاج چاچا ہنس شریعت کے عین مطابق دو زانو بیٹھاچائے میں بسکٹ ڈبو ڈبو کے کھا رہا تھا۔
اس نے جو ریٹائیرڈ سرکاری طوطے کو اپنی طرف آتے دیکھا تو (گرم ہونے کے باوجود ) ایک ہی گھونٹ میں ساری چائے پی گیا ۔پھر بسکٹ کا پیکٹ چھپاتے ہوئے الو کے پٹھے سے بولا برادے کو اندر لے جاؤ۔ چاچے کو بسکٹ چھپاتے دیکھ کر ریٹائیرڈ سرکاری طوطے کا دل بہت دکھا ۔ چنانچہ اس نے عہد کیا کہ آج کے بعد وہ بھی چاچے کے ہاں گیارہیوں شریف کے چاول نہیں بھیجے گا۔تھوڑی سی گپ شپ کے بعد اس نے الحاج چاچے ہنس سے اجازت لی ۔دکان سے باہر نکلتے وقت بھی ریٹائر ڈ سرکاری طوطا حسرت بھری نظروں سے اس جگہ کو دیکھتا رہا کہ جہاں چاچے نے بسکٹ چھپائے تھے ۔ اب اس کا رخ اپنے بچپن کے دوست اورلعنتی کردار بگلے کی طرف تھا جو کہ بستی میں جنٹل مین بگلا کہلاتا تھا ۔جس کی واحد وجہ یہ تھی کہ وہ انگلش بول اور سمجھ لیتا تھا ۔اس وقت بھی جنٹل مین بگلا نیکر بنیان کے اوپر سرخ ٹائی باندھے، ندی کے کنارے بیٹھا ” چِل "کر رہا تھا ۔آنکھوں پر کالے رنگ کی عینک لگائے وہ جیمز بانڈ کا "نکا ” منڈا لگ رہا تھا۔جیسے ہی اس کی نگاہ ریٹائرڈ سرکاری طوطے پر پڑی وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا۔ یہ ویلا مشٹنڈا کدھر سے آ گیا ؟ اس کے ساتھ ہی اس نے آنکھیں موندیں اور عینک سمیت ہی ” بگلا بھگت” بن گیا۔
ریٹائرڈ سرکاری طوطے نے کافی دیر تک اس کے جاگنے کا انتطار کیا پھر مایوس ہو کر جانے ہی لگاتھا کہ بگلہ بھگت آنکھیں کھولتے ہوئے بولا ارے یار تو کب آیا؟ ۔ اس کے ساتھ ہی جنٹل مین بگلے نے اس کے ساتھ خوب انگلش بولی جس کی تاب نہ لاتے ہوئے ریٹائیرڈ سرکاری طوطا دستی سے پہلے ہی اٹھ کھڑا ہوا۔ کوفے والوں کا رویہ دیکھ کر ریٹائیرڈ سرکاری طوطے کا دل بھر آیا چنانچہ اس نے دل برداشتہ ہوکر بہ آواز بلند ایک نہایت دکھی اور غمگین گانا، گانا شروع کر دیا ۔پھر ماحول کو مزید دکھی بنانے کے لیئے اس نے جیب سے بیڑی نکالی ۔ ابھی اسے سلگانے ہی لگا تھا کہ اسے نک چڑھی مینا دکھائی تھی۔اسے دیکھتے ہی ریٹائیرڈ سرکاری طوطے نے جلدی سے بیڑی چھپائی۔اور دوسری جیب سے ایک امپورٹڈ سگریٹ کا ٹوٹا نکالا جو کہ اس نے خواتین کو متاثرکرنے کے لیئے رکھا ہوا تھا۔ سگریٹ سلگاتے ہوئے اس نے کن اکھیوں سے نک چڑھی مینا کی طرف دیکھا۔ پھر ایک لمبا ساکش لگایا۔ابھی وہ آگے بڑھنے ہی لگا تھا کہ جانے کیسے مینا کے ساتھ ٹکرا گیا۔ توقع کے برعکس نک چڑھی مینا اس عمل سے محظوظ ہوتے ہوئے بولی۔دیکھ کے بھائی ۔نظر کمزور ہے تو عینک لگاؤ۔
یہیں سے ریٹائیرڈ سرکاری طوطے کے ذہن رسا میں عینک کی بجائے ایک آئیڈیئے نے جنم لیا ۔چنانچہ اس نے اپنی اس کمزوری کا فائدہ اٹھانے کی ٹھانی۔چنانچہ اس کے بعد وہ گاہے بگاہے ادھر ادھر ٹکرانا شروع ہو گیا ۔لیکن ٹکراتے وقت وہ اس بات کو خاص طور پر ملحوض خاطر رکھتا، کہ جس کے ساتھ ٹکرا رہا ہے وہ فی میل ہی ہو۔ اسی ٹک ٹکراؤ میں ۔۔۔ ریٹائیرڈ سرکاری طوطے کا مسماۃ شیداں کے ساتھ ٹانکا فٹ ہو گیا جو کہ ” میسنی ” کے نام سے جانی جاتی تھی (جس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ چارپائی بھی نہیں ہلنے دیتی )۔ ادھر محلے کے چند شرپسند عناصر ریٹائیرڈ سرکاری طوطے کے اس لوافئیر کو نہ صرف بصدحسرت و یاس نوٹ کر رہے تھے بلکہ مارے حسد کے جل جل کے "جل ککڑ” بھی بن چکے تھے۔
جب ان میں مزید جلنے کی گنجائش ختم ہو گئی تو انہوں نے شیداں میسنی کے پہلوان بھائیوں مسمی امرود شاہ و مسمی بارود شاہ کو مخبری کر دی۔ عشق ممنوعہ کے خاتمے سے پہلے ، دونوں بھائیوں نے باہمی مشاورت سے اس کارر وائی کا نام "آپریشن فتنتہ المحبت المردود” رکھا۔ پھر اس کا قلعہ قمع کرنے کے لیئے اگلے دن ہی مسمی امرود شاہ و مسمی بارود شاہ آلات حرب و ضرب مردانہ سے لیس ہو کر گھرسے نکلے اور ایک خفیہ جگہ پر ناکہ زن ہو گئے ۔کچھ دیر بعد انہیں از طرف پولین اینڈ ریٹائیرڈ سرکاری طوطا اپنا (واجبی سا) منہ اٹھائے آتا ہوا دکھائی دیا۔جبکہ دوسرے اینڈ سے مسماۃ شیداں” میسنی ” بھی دکھائی دی ۔ مخبری کے عین مطابق دونوں چلتے ہوئے ایک مخصوص جگہ پہنچتے ہی (آپس میں ) ٹکرا گئے ۔ اس ملنی سے اک شعلہ سا لپکا ۔۔جسے محسوس کرتے ہوئے ریٹائرڈ طوطا سمجھا کہ شاید یہ مسماۃ شیداں میسنی (جو کہ چارپائی بھی نہیں ہلنے دیتی تھی) کے دل سے نکلنے والی محبت کی آگ ہے لیکن افسوس کہ یہ چنگاری مسماۃ شیداں میسنی (وہی چارپائی والی) کے عشق کی نہیں۔ بلکہ مسمی امرود شاہ و مسمی بارود شاہ کے آلات حرب و ضرب مردانہ کی تھی جو غوری میزائل کی طرح اڑتے ہوئے سیدھے اس کے سر پر آن لگے تھے۔۔
اس کے بعد یکے بعد دیگرے جب چنگاریاں بھڑکنے کی تعداد کچھ زیادہ ہی ہو گئی۔تو ریٹائرڈ سرکاری طوطا ان ضربات شدید کی تاب نہ لاتے ہوئے بےہوش ہو گیا ۔لیکن بےہوشی کے عالم میں بھی اس کے سر و دیگر اعضائے جسمانی پر کالی پیلی اور نیلے رنگ کی چنگاریاں پھوٹتی رہیں ۔ جس کا نقد نتیجہ یہ نکلا کہ ڈاکٹر نے ریٹائیرڈ سرکاری طوطے کو ایک ماہ کا بیڈ ریسٹ لکھ دیا ۔بستر پر لیٹتے ہوئے جب بھی مضروب طوطے کے بدن سے کوئی ٹیس اٹھتی تو خود بخود ہی اس کے منہ سے یہ (درد بھرا ) شعرجاری ہو جاتا ۔۔۔اک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دن۔۔۔دیکھے ہیں ہم نے حوصلے۔۔(آہ ہ ہ ہ ہ)۔۔

