پاکستان اس وقت دو بڑے آبی بحرانوں کا شکار ہے۔ ایک طرف زیرِ زمین پانی تیزی سے کم ہو رہا ہے، ٹیوب ویل خشک ہو رہے ہیں اور کاشتکار فصلوں کے لیے پانی کو ترس رہے ہیں، دوسری طرف جب بارشیں اور دریاؤں میں طغیانی آتی ہے تو اربوں مکعب میٹر پانی چند دنوں میں سمندر میں جا کر ضائع ہو جاتا ہے۔ یہ وہ پانی ہے جو اگر زمین میں محفوظ ہو جائے تو نہ صرف فصلوں کے لیے استعمال ہو سکتا ہے بلکہ شہروں کو بھی پینے کا پانی میسر آ سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس پانی کو زمین میں واپس بھیج سکتے ہیں؟ جواب ہاں میں ہے۔ دنیا بھر میں اس کو مصنوعی ریچارج یا Managed Aquifer Recharge (MAR) کہا جاتا ہے اور کئی ممالک اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
پاکستان میں بھی یہ طریقہ نہ صرف ممکن ہے بلکہ وقت کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر ماہرین کے مطابق ملک میں ہر سال تقریباً 35 سے 40 ملین ایکڑ فٹ پانی (تقریباً 43 سے 49 ارب مکعب میٹر) سیلاب اور بارشوں کی صورت میں ضائع ہو جاتا ہے۔ اگر اس میں سے صرف 10 فیصد بھی زمین میں واپس اتار دیا جائے تو تقریباً 4 ارب مکعب میٹر پانی سالانہ محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ مقدار ہے جس سے لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں کی کئی سالہ ضرورت پوری ہو سکتی ہے۔
اس مقصد کے لیے مختلف ڈھانچے استعمال کیے جاتے ہیں۔ سب سے زیادہ معروف ریچارج ویل ہیں۔ یہ ٹیوب ویل کی طرح ہوتے ہیں لیکن اس میں پانی باہر نکالنے کے بجائے اندر ڈالا جاتا ہے۔ ایک مطالعے کے مطابق ایک ریچارج ویل کی زیادہ سے زیادہ گنجائش تقریباً 29 مکعب میٹر فی گھنٹہ ہے۔ اس حساب سے ایک ویل دن میں تقریباً 700 مکعب میٹر اور سالانہ 2.5 لاکھ مکعب میٹر پانی زمین میں اتار سکتا ہے۔ اگر صرف ملتان شہر میں 50 ریچارج ویل بنا دیے جائیں تو سالانہ تقریباً 1 کروڑ 25 لاکھ مکعب میٹر پانی زمین میں واپس جا سکتا ہے، جو کئی ہزار ٹیوب ویلوں کی ضرورت پوری کر سکتا ہے۔
دوسرا طریقہ پرکولیئشن تالاب یا انفِلٹریشن بیسن ہیں۔ ان میں سیلابی پانی جمع کر کے چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ وہ آہستہ آہستہ زمین میں جذب ہو جائے۔ عالمی اداروں کے مطابق ایک درمیانے درجے کے تالاب کی سالانہ گنجائش 25 ہزار سے 3.5 لاکھ مکعب میٹر کے درمیان ہوتی ہے۔ اگر ڈیرہ غازی خان یا راجن پور جیسے سیلابی اضلاع میں 100 ایسے تالاب بنا دیے جائیں تو وہ سالانہ تقریباً 2 سے 3 کروڑ مکعب میٹر پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی پانی خشک سالی کے دنوں میں زمین کے اندر سے دوبارہ نکالا جا سکتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ ڈھانچے کہاں بنائے جا سکتے ہیں؟ سب سے زیادہ موزوں علاقے وہ ہیں جہاں زمین نرم اور ریتیلی ہو اور پانی جذب کرنے کی صلاحیت زیادہ ہو۔ پنجاب اور سندھ کے دریائی علاقے مثلاً ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور سکھر بہترین ہیں۔ ان علاقوں میں ہر سال دریائے چناب، ستلج اور سندھ کے پانی سے شدید سیلاب آتا ہے۔ اگر اسی پانی کا ایک حصہ زمین میں محفوظ کر لیا جائے تو لاکھوں ایکڑ زمین بنجر ہونے سے بچ سکتی ہے۔ شہروں میں بھی پارکوں، گرین بیلٹ اور کھلے میدانوں میں ریچارج ویل اور چھوٹے تالاب بنائے جا سکتے ہیں۔ لاہور میں پہلے ہی چند پائلٹ منصوبے آزمائے گئے ہیں اور کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ سیلابی پانی ہمیشہ صاف نہیں ہوتا۔ اس میں گٹر کا پانی، کیمیکلز اور مٹی شامل ہوتی ہے۔ اگر اسے بغیر صفائی کے زمین میں اتارا جائے تو زیرِ زمین پانی آلودہ ہو سکتا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے فلٹر بیڈز، ریت اور بجری کے ذریعے پانی کو صاف کرنا ضروری ہے۔ بھارت میں گجرات اور راجستھان میں اسی طریقے کو کامیابی سے استعمال کیا جا رہا ہے، جہاں فلٹریشن کے بعد پانی زمین میں اتارا جاتا ہے۔
پاکستان کے لیے عملی راستہ یہ ہے کہ سب سے پہلے چند اضلاع میں پائلٹ منصوبے شروع کیے جائیں۔ ملتان ڈویژن میں اگر ابتدائی طور پر صرف 10 ریچارج ویل اور 5 پرکولیئشن تالاب بنا دیے جائیں تو یہ سالانہ تقریباً 40 سے 50 لاکھ مکعب میٹر پانی ذخیرہ کر سکتے ہیں۔ ایک سال کی مانیٹرنگ کے بعد ان منصوبوں کو بڑھا کر صوبائی اور قومی سطح پر لے جایا جا سکتا ہے۔ اگر قومی سطح پر 1000 ریچارج ویل اور 500 تالاب تعمیر کر دیے جائیں تو مجموعی گنجائش سالانہ 5 ارب مکعب میٹر تک پہنچ سکتی ہے، جو کہ پاکستان میں موجودہ زیرِ زمین پانی کی کمی کا بڑا حصہ پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔
یقیناً اس ٹیکنالوجی پر ابتدائی اخراجات زیادہ ہیں، لیکن یہ اخراجات اس تباہی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں جو ہر سال سیلاب کی صورت میں آتی ہے۔ ایک طرف لوگ اپنے گھر اور کھیت کھو دیتے ہیں، دوسری طرف پانی ضائع ہو کر سمندر میں چلا جاتا ہے۔ اگر یہ پانی محفوظ کر لیا جائے تو یہ کسانوں کی کھیتوں کو سیراب کرے گا، شہروں کی نلکوں کو پانی فراہم کرے گا اور آئندہ نسلوں کو قلتِ آب سے بچا سکے گا۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ سیلاب پاکستان کے لیے صرف تباہی نہیں بلکہ ایک موقع بھی ہے۔ یہ موقع ہے کہ ہم جدید سائنس اور انجینئرنگ کے ذریعے ضائع ہونے والے پانی کو قیمتی ذخائر میں بدل دیں۔ اگر آج یہ قدم نہ اٹھایا گیا تو آنے والے برسوں میں پانی کی کمی ہمارے لیے ایک بڑے وجودی بحران کی شکل اختیار کر لے گی۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم سیلاب کو صرف تباہی سمجھ کر روئیں یا اسے اپنے مستقبل کی نجات بنا لیں۔
فیس بک کمینٹ

