فرینڈ ریکوئسٹ… موت کے بعد بھی!
سوشل میڈیا ہماری زندگی کا ایسا حصہ بن چکا ہے کہ اب یہ روزمرہ کے کاموں میں اسی طرح شامل ہے جیسے چائے کے ساتھ بسکٹ۔ فرق صرف یہ ہے کہ چائے ختم ہو جائے تو بسکٹ سادہ کھا سکتے ہیں، مگر سوشل میڈیا کے بغیر انسان اکثر ادھورا سا لگتا ہے۔ لیکن یہ ادھورا پن صرف زندہ لوگوں کے لیے نہیں، مرحومین بھی اب اس نعمت سے یکساں فیضیاب ہو رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے گویا مرنے کے بعد بھی ایک اور "آخرتی نیٹ ورکنگ سروس” فعال ہو چکی ہے۔
پرانے وقتوں میں جب کوئی شخص اس دنیا سے رخصت ہوتا تھا تو زیادہ سے زیادہ محلے کے دو چار لوگ دو دن اس کا ذکر کرتے، یا پھر اخبار میں ایک سطری تعزیتی اشتہار آتا۔ لیکن اب معاملہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد بھی مرحوم آپ کے موبائل اسکرین پر پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہیں۔ ایک دن شام کو آپ نے سکون سے فیس بک کھولی کہ ذرا دیکھیں آج کون سا کھانا کس نے کھایا، کون سا نیا گانا کس نے لگایا اور کس کی بلی نے کتنے بچوں کو جنم دیا۔ مگر ابھی آپ نے نیوز فیڈ پر نظر ڈالی ہی تھی کہ اوپر ایک نوٹیفکیشن چمک اٹھا: "You have a new friend request.”
خوشی خوشی کھولتے ہیں، نام پڑھتے ہیں اور اچانک کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔ یہ تو وہی ہیں جنہیں پچھلے سال آپ نے قبرستان میں اپنے ہاتھوں دفن کیا تھا۔
لمحہ بھر کو دل دھڑکنا بھول جاتا ہے۔ بندہ سوچتا ہے یہ فیس بک ہے یا برزخی رابطہ سروس؟ کیا موت کا فرشتہ اب آفس چھوڑ کر ڈیجیٹل ڈیوٹی دینے لگا ہے؟
اگر حوصلہ کر کے پروفائل کھول لیں تو سامنے وہی مسکراتی تصویر نظر آتی ہے۔ ساتھ ہی وہی پرانا اسٹیٹس: "زندگی ایک بار ملتی ہے، خوش رہا کرو۔” دیکھ کر جی چاہتا ہے چیخ کر کہیں: "بھائی! آپ نے ایک بار جی کر دیکھ بھی لیا تھا، اب ذرا آرام فرمائیں۔” مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہ پروفائل مرحوم کے چاہنے والوں نے "میموریل اکاؤنٹ” کے طور پر زندہ رکھا ہوتا ہے۔
اب مزے کی بات یہ ہے کہ کچھ لوگ تو اس سارے معاملے کو بڑے مذہبی اور روحانی رنگ میں لیتے ہیں۔ فوراً مشورہ دیتے ہیں: "یار! قبول کر لو ریکوئسٹ۔ کیا پتہ اوپر جا کے یہی بندہ سفارش کر دے۔” گویا فرینڈ ریکوئسٹ نہ ہوئی، جنت کا انویٹیشن لیٹر ہو گیا۔ کچھ صاحبان تو یہ بھی کہتے ہیں کہ "ہو سکتا ہے مرحومہ اپنی پرانی تصویریں آپ سے شیئر کرنا چاہتی ہوں تاکہ آخرت میں ثواب ملے۔”
دراصل اس سارے قصے کا ذمہ دار فیس بک اور دیگر ایپس کا "آٹو سجیشن” فیچر ہے۔ یہ بڑی معصومیت سے آپ کے فون بک اور مشہور پروفائلز کو دیکھ کر بتاتے ہیں: "You may know this person.” اب سسٹم کو کون سمجھائے کہ بھئی یہ صاحب مرحوم ہو چکے ہیں۔ چنانچہ مرنے کے بعد بھی وہ فہرست میں اس طرح ابھرتے رہتے ہیں جیسے کہہ رہے ہوں: "بھائی! ابھی لسٹ ختم نہیں ہوئی، اگلا نمبر بھی تمہارا ہو سکتا ہے۔”
کبھی کبھی تو یہ مرحومین کی پروفائلز اور بھی زیادہ مصیبت ڈال دیتی ہیں۔ فرض کریں سالگرہ آ رہی ہے، فیس بک بڑے جذبے سے نوٹیفکیشن بھیج دیتا ہے: "Wish your friend a happy birthday.” اور لوگ بھولے پن میں جا کے کمنٹس میں لکھ دیتے ہیں: "ہیپی برتھ ڈے بھائی، اللہ عمر دراز کرے!” اب کوئی سمجھائے ان معصوموں کو کہ جس کی عمر بڑھانے کی دعا مانگ رہے ہو، وہ تو پہلے ہی "اگلے جہان کی لمبی عمر” پر جا چکا ہے۔یہی نہیں، کبھی کبھی مرحوم کی پرانی پوسٹس بھی اچانک سامنے آ جاتی ہیں۔ جیسے کل کی بات ہے، ایک مرحوم دوست کی یاد دہانی آئی: "Ten years ago, he posted a memory.” اور نیچے لکھا تھا: "ہمیشہ یاد رہوں گا۔” دل چاہا کہ فیس بک سے پوچھیں: "بھائی، یاد تو ہے، لیکن اب یہ مزاحیہ اتفاق کہاں سے لے آئے ہو؟”
اب اگر یہ سب کچھ ایسے ہی چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب فیس بک نئی سروس لانچ کرے گا: "آپ کے مرحوم دوست نے خواب میں آپ کو ٹیگ کیا ہے۔ Accept or Ignore?” اور واٹس ایپ پر کوئی میسج آئے گا: "میں اوپر سے بھیج رہا ہوں، وہاں نیٹ ورک ذرا کمزور ہے۔ Seen نہ کرنا برا لگے گا۔”
سچ تو یہ ہے کہ یہ ساری صورتحال ہمارے معاشرتی رویوں کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ ہم زندہ لوگوں کو تو وقت پر سلام دعا نہیں کرتے، لیکن مرنے کے بعد بھی ان سے فرینڈ ریکوئسٹز کے ذریعے رابطہ نبھانے کو تیار رہتے ہیں۔ گویا مرنے کے بعد بھی "آن لائن موجودگی” ہماری تہذیب کا حصہ بن گئی ہے۔
الغرض، سوشل میڈیا نے جہاں ہمیں زندہ رہتے ہوئے بے شمار الجھنوں میں ڈالا، وہیں مرنے کے بعد بھی چین نہیں لینے دیا۔ اب موت بھی کوئی مکمل "لاگ آؤٹ” نہیں رہی، بس ایک "ڈی ایکٹیویشن” ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ عرصے بعد پھر کوئی نوٹیفکیشن آ کر یاد دلا دیتا ہے کہ زندگی کے ساتھ ساتھ فیس بک بھی کبھی ختم نہیں ہوتا۔ .
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ؟

