علی نقوی اور میں جامعہ زکریا ملتان میں رات کے پہلے پہر ایک ساتھ تھے۔ ہم نے جب یونیورسٹی کے مرکزی دروازے سے بوسن روڈ پہ نکلے تو انہوں نے کہا کہ آج اپ کو خالد سعید سے ملواتے ہیں۔ ان کے ساتھ ملاقات کراتے ہیں بلکہ ایک علمی نشست کرتے ہیں۔ میرے پاس بھی وقت تھا۔ میں نے ہامی بھری اور سیدھا ان کی رہائش گاہ پہنچے۔ سر کی اہلیہ اور ڈاکٹر علی اطہر نے ہمارا استقبال کیا جو گھر میں پہلے سے موجود تھے۔ چونکہ سردی تھی اس لیے سر نے رضائی لی ہوئی تھی۔ کیمو تھراپی کروانے اور مسلسل دوائیوں کے استعمال سے وہ کافی نحیف ہوچکے تھے لیکن وہ بول بالکل واضح رہے تھے۔ ہاتھ ملایا اور ساتھ بیٹھنے کو کہا۔ علی نقوی نے مجھ ناچیز کا تعارف کرایا۔ یہ بات انہوں نے زور دے کر کہی کہ منیر ہے تو گورنمنٹ سکول ٹیچر لیکن نظرہاتی اور فکری طور پر پروگریسو سوچ رکھتا ہے۔ اور پی پی پی سے بڑی محبت کرتا ہے۔ میں نے کہا کہ ہم بائیں بازو والوں کے پاس آخری آپشن بچتا ہی یہی ہے۔ وہ بڑے خوش ہوئے جب میں نے بتایا کہ میرا تعلق مظفرگڑھ کی پسماندہ تحصیل جتوئی کے ایک گاؤں سے ہے لیکن اپنی فکری آبیاری اور بیٹیوں کی تعلیم کے لیے ملتان تبادلہ کرا آیا ہوں۔
خالد سعید سیاست اور سماجیات پہ گفتگو کرتے رہے اور ہم ان کو ایک سامع کے طور پر سنتے رہے۔ وہ کبھی انگریزی میں گفتگو کرتے اور کبھی اردو میں۔ علی نقوی چونکہ ان کے شاگردِ عزیز اور منہ بولے بیٹے بنے ہوئے تھے وہ بڑی بے تکلفی سے بات چیت میں حصہ لے رہے تھے۔ علی اطہر نے اسی دوران ان کو دوائیاں کھلائیں۔ یہ ان کا روز کا معمول تھا۔ اس بہترین علمی و فکری نشست میں مجھے یہ محسوس ہوا کہ خالد سعید جیسے استاد کو ہمیں بہت عرصہ پہلے ملنا چاہئیے تھا۔ ان سے مکالمے ہوتے رہتے تو شاید ہم مزید نکھر جاتے۔ ملتان کے ادبی حلقوں میں انہوں نے بڑا نام بنا رکھا تھا۔ لوگ ان کو سنتے تھے۔ ان سے وہ باتیں کرتے جو شاید ہر کسی سے نہ کر سکیں۔ وہ ریشنل اپروچ رکھتے تھے۔ وہ روشن خیالی کا خوبصورت استعارہ تھے۔ فلسفہ، نفسیات ، ادب، سماجیات اور سیاست ان کے موضوعات ہوا کرتے تھے۔ وہ ایک صاحبِ مطالعہ استاد تھے۔ علی نقوی اکثر کہتا ہے کہ "خالد سعید نے ہمیں اس لائن سے ہٹایا جہاں ہم صدیوں سے چل رہے تھے۔ ہم نے یکسانیت کو ترک کیا اور ایسے بگڑے کہ پھر کبھی نہ سدھرے”۔ بتانے کا یہ مقصد تھا خالد سعید نے اپنے شاگردوں کو بولنا، لکھنا اور پڑھنا سکھایا۔ ان میں اعتماد پیدا کیا، ان کی سن کے ان سے مکالمہ کرکے۔ خالد سعید کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے شاگرد ان سے اختلاف کرتے اور بحث کرتے تو ان کو بڑا چھا لگتا۔ ان کا یقین تھا کہ نئی نسل کو اسی طرح سے ایسا ہی ہونا چاہئیے۔ بقول مظہر عباس کے ادب کا یہ ستارہ اب آسمان پہ چمکے گا۔ شمائلہ حسین کہتی ہیں کہ انہیں کئی زندگیاں جینا چاہئیے تھا۔ وہ یقیناً ادب کا ایک چمکتا دمکتا سورج تھے کہ جن سے لوگوں نے ہمیشہ فیض ہی فیض حاصل کیا۔ ملتان کے ادبی حلقوں میں ان کا نامِ نامی زندہ و تابندہ رہے گا۔ اپنے شاگردوں اور کتابوں کی صورت میں۔
فیس بک کمینٹ

