انگریزی اور سرائیکی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہوۓ ہمیں ہمیشہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں ہماری مادری زبانیں نہیں ہیں۔انگریزی کے نہ سمجھ آنے والے جملے تو ہمیں ڈکشنری دیکھ کر سمجھ آ جاتے ہیں لیکن سرائیکی کا مطالعہ کرتے ہوئے ڈکشنری کی سہولت بھی میسر نہیں ہو تی ۔اس کے لئے ہمیں سرائیکی بولنے والے دوستوں کی مدد درکار ہوتی ہے۔ کبھی ارشد ملتانی ہماری مشکل حل کرتے ہیں اور کبھی ہمیں ممتاز حیدر ڈاہر یا رفعت عباس سے مدد طلب کرنا پڑتی ہے۔ حسن رضا گردیزی کی کتاب "سنجیاں سالہیں “اور اس کا انگریزی ترجمہ پڑھتے ہوئے ہمیں دوہری مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے پہلے تو ہم انگریزی یا سرائیکی کتا بوں سے الگ الگ نبرد آزما ہوا کرتے تھے لیکن یہاں یک نہ شد دو شد والا معاملہ ہو گیا ۔ یعنی انگریزی بھی اور سرائیکی بھی ۔سب سے پہلے تو ہم نے Tenements on sand کا مطلب دیکھاsand کا مطلب تو خیر ہمیں آتا تھا کہ ہماری انگریزی اتنی بھی کمزور نہیں ۔ حال ہی میں ایم اے انگریزی کا امتحان پاس کرنے والے ہمارے ایک دوست نے ہمیں بتایا تھا کہ لفظ sand دراصل sand paper سے نکلا ہے ۔البتہ Tanements کیلئے ہمیں ڈکشنری کی مدد حاصل کرنا پڑی ۔”سنجیاں سالہیں“ کا ترجمہ ہم نے ممتاز حیدر ڈاہر سے معلوم کیا ۔” سنجیاں“ اداسی اور ویرانی کے معنوں میں آتا ہے اور sand ریت کو کہتے ہیں ہم اب تک کتاب کے انگر یزی اور سرائیکی ناموں میں مطابقت تلاش نہیں کر پائے ۔تھک بار کراپنی کم علمی پر ماتم کیا اور یہ سوچ کر خاموش ہو گئے کہ سرائیکی کلچر کو انگریزی کا لبادہ پہنانے میں ترجمہ کرنے والوں کیلئے یقیناً مشکلات پیدا ہوئی ہوں گی اور ضروری نہیں کہ ایک مخصوص ثقافت سے تعلق رکھنے والے لفظوں کوان کے مکمل مفہوم کے ساتھ انگریزی میں منتقل کیا جا سکے۔۔۔
جہاں تک انگریزی اور سرائیکی میں پائی جانے والی مماثلت کا تعلق ہے ہم اس کے پرانے معترف ہیں ۔ انگریزی اور سرائیکی پرتحقیق کرنے والے ہمارے ایک دوست نے ہمیں بہت پہلے بتا دیا تھا کہ پنجابی کی طرح انگریزی زبان بھی دراصل سرائیکی ہی کا ایک لہجہ ہے اور انگریزی میں اب بھی سرائیکی کے بہت سے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں ۔اس سلسلے میں انہوں نے ہمیں بہت سی مثالیں بھی دی تھیں جن میں سے فی الوقت دو مثالیں ہمیں یاد ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ انگریزی لفظ cot کا ماخذ سرائیکی لفظ” کھٹ“ ہے اور دونوں کا مطلب چار پائی ہے۔ اس طرح سرائیکی میں ایک لفظ ” ونج“ استعمال کیا جا تا ہے جو انگریزی میں went بن جا تا ہے ۔ معنی ان دونوں کے بھی ایک ہی ہیں۔ یہاں ہمیں ترجمے کے حوالے سے ایک دو واقعات یاد آ گئے ۔لاہور کی ایک ادبی تنظیم کے زیر اہتما م تنقیدی نشست میں ایک صاحب نے کسی انگریزی مصنف کے افسانے کا ترجمہ پیش کیا۔ باقی ترجمہ تو اصل متن دیکھ کر ہی معلوم ہوسکتا ہے کہ کیسا تھا۔ لیکن ایک جملہ ایسا تھا جس کے انگریزی متن کو دیکھے بغیر ہی ہم سمجھ گئے کہ مصنف نے دراصل کیا لکھا ہوگا۔ مترجم نے He make up his mind کا ترجمہ کرتے ہوۓ لکھا تھا کہ ”اس نے اپنے ذہن کا میک اپ کیا“ایک اور صاحب نے Nation will celebrate the birthday of Quaid-e-Azam کا ترجمہ یوں کیا کہ ”روز نامہ نیشن کے زیراہتمام قائد اعظم کی سالگرہ منائی جائیگی ۔ یہ مثالیں دینے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ” سنجیاں سالہیں کے انگریزی ترجمے میں بھی یہی صورتحال ہے ۔ ہم نےکچھ نظمیں اور ان کے تر جمے پڑھے ہیں لیکن پکی بات تو یہ ہے کہ ہمیں حسن رضا گردیزی صاحب کی اصل نظمیں پڑھنے کاہی لطف آیا ہے۔
اگر چہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ ہم سرائیکی زیادہ نہیں سمجھ پاتے لیکن ملتان میں رہتے ہوئے سرائیکی زبان سے اتنے بھی نا آشنا نہیں ۔ اور پھر سرائیکی زبان اور شاعری میں تو اتنی مٹھاس ہے کہ اگر سمجھ نہ بھی آۓ تو سب کچھ سمجھ آ جا تا ہے ۔ حسن رضا گردیزی کے کلام کو انگریزی لبادہ پہنا کر مقبول عزیز ، جان ہرڈ مین اور حسن نواز نے یقیناً سرائیکی زبان کے فروغ کے حوالے سے ایسا کام کیا ہے جسے تا دیر یادر کھا جاۓ گا ۔ کتاب کی ابتداء میں سرائیکی زبان اور ملتان کے قدیم تہذیبی و ثقافتی پس منظر کے حوالے سے تفصیلی مضامین بھی شامل ہیں ۔ جن کے مطالعے کے بعد ان نظموں کو سمجھنے میں مزید مد دملتی ہے ۔ اور ہمارے ایک دوست کے بقول اس کتاب کی اشاعت کے بعد حسن رضا گردیزی انگریزوں اور میموں میں بھی مقبول ہو جائیں گے ۔ آخر میں ایک اور اچھی خبر بھی سنا تا چلوں کہ ہمارا ایک دوست شاہ صاحب کی شاہکار ہجویات کا مجموعہ” علامہ تیکوں کیں آکھے“ کے نام سے ترتیب دے رہا ہے ۔ اور اس کا کہنا ہے اس کتاب میں ان ہجویات کا انگریزی ترجمہ بھی شامل ہو گا۔ تا کہ میمیں شاہ صاحب کی مزید معترف ہو جائیں ۔ ۔۔( تصویر بشکریہ محمد مختار علی )
( سال 1989 ء میں لکھا گیایہ خاکہ کتاب آدھا سچ ۔۔مطبوعہ 2005 ء میں شامل ہے )

