فرض کریں کسی ریستوران میں چار احباب بیٹھے رات کا کھانا کھا رہے ہیں۔پہلا دوست بھنے ہوئے گوشت کا مزہ لے رہا ہے، دوسرا سبزی خور ہے سو وہ پالک پنیر سے کام چلا رہا ہے، تیسرے نے سگریٹ سلگایا ہوا ہے اور وہ شراب کے ساتھ تلی ہوئی مچھلی کھارہا ہے جبکہ چوتھا سگریٹ کو نفرت سے دیکھ رہا ہے مگرشراب اُس نے سب سے زیادہ چڑھارکھی ہے۔اگر آپ سے پوچھا جائے کہ اِن چاروں کا تعلق کس مذہب سے ہے تو آپ باآسانی اُن کے کھانے پینے کی ترجیحات سے درست اندازہ لگا لیں گے۔اور اگر آپ سے پوچھا جائے کہ اِن لوگوں کے کھانے پینے کی ترجیحات کی وجہ کیاہے تو اِس کا جواب بھی آپ کے لیے آسان ہوگا کہ یہ اپنے اپنے مذہب کے حکم کے مطابق ایسا کرتے ہیں۔لیکن یہاں ایک تیسرا سوال بھی پیدا ہوتا ہے اور اُس کا جواب(کم از کم میرے لیے) آسان نہیں۔ وہ سوال یہ ہے کہ کیا مذہبی احکامات کی بجاآواری شخصی عقیدے کے تحت فقط اپنی ذات تک محدود ہوتی ہے یا پھر مذہبی احکامات ،مطلق اور ابدی اخلاقی ضابطہ کار (Moral Code) کا واحد ذریعہ ہوتے ہیں جن کے نفاذ سے ہی ایک اعلیٰ انسانی معاشرہ وجود میں آسکتا ہے؟
اِس سوال کی پڑتال کے لیے ضروری ہے کہ پہلےیہ جان لیا جائے کہ اخلاقیات سے کیا مراد ہے۔ انگریزی میں اخلاقیات کے متبادل دو الفاظ ہیں، Ethics اور Morality۔عام طور سےیہ دونوں الفاظ ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں مگر اِن میں ایک باریک سا فرق ہے ،Morality عموماً اچھائی یا برائی کا ذاتی پیمانہ ہوتی ہے جبکہ Ethics اچھائی یا برائی کا وہ معیار ہے جو کسی معاشرے میں اجتماعی طور پر قبول کیا جاتا ہے ۔تاریخ کا معمولی طالب علم بھی جانتاہے کہ اچھائی اور برائی کے یہ پیمانے وقت کے ساتھ ہمیشہ بدلتے رہے ہیں اور یہ تبدیلی انسانی شعور کی ترقی، ارتقا اور معاشی سبب کے باعث ہوتی رہی ہے۔انسان کی دس ہزار سال کی تاریخ کی چھاننے کی ضرورت نہیں ، آج سے فقط سو سال ہی پیچھے چلے جائیں تو پتا چلے گا کہ جس مذہبی ضابطہ کار کی رُو سے عورتوں کا گھر سے باہر نکلنا غلط تھا آج اسی ضابطہ کار کے ترجمان عورتوں کے کام کرنے کے فضائل بیان کرنے میں لگے ہیں۔چلیے یہ بات چھوڑیں، برٹرینڈ رسل سے مدد لیتے ہیں، اخلاقیات سے متعلق اپنے مضمون میں وہ لکھتے ہیں :’ایک اچھا آدمی وہ ہے جو اپنے قرابت داروں اور دوستوں کی خوشی کا احساس کرے اور اگر ممکن ہو تو بنی نوع انسان کا بھی اور اگر وہ فنون لطیفہ اور سائنس کا بھی دلدادہ ہو تو کیا کہنے!یہ بات اہم نہیں ہے کہ وہ آدمی اُن اخلاقی اصولوں کی تابعداری کرتا ہے یا نہیں جو یہودیوں نے ہزاروں برس پہلے لکھے تھے کیونکہ عین ممکن ہے کہ کوئی آدمی اُن تمام اصولوں کی پاسداری کرنے کے باوجود بھی برا ہی رہے!‘اہل مذہب کو مگریہ تاویل پسند نہیں آتی کیونکہ اُن کے خیال میں مذہب انسان میں جو اخلاقی حِس بیدار کرتا ہے وہ عقل سے نہیں آسکتی۔ میرے پسندیدہ اور صاحبِ طرز کالم نگار خورشید ندیم نے اِس دلیل کو کمال خوبصورتی سے بیان کیا ہے ، اپنےحالیہ کالم میں وہ لکھتے ہیں کہ ’سیدنا مسیح پر ایمان رکھنے والے ،اسرائیل کے مقابلے میں ،اہل فلسطین کے ساتھ کھڑے ہوگئے ہیں۔۔۔یہ اُس اخلاقی حِس کا اظہار ہے،مذہب جسے بیدار کرنا چاہتا ہے۔۔۔‘ مزید لکھتے ہیں ’انسانوں میں تبدیلی کا ماخذ ان کی عقل نہیں ان کی اخلاقی حِس ہے۔اسی لیے مذہب کا مقدمہ بھی یہی ہے کہ انسان کو اخلاقی طور پر پاکیزہ بنایا جائے۔عقل عیار ہے۔یہ انسان کو وہ راستے بھی دکھاتی ہے جو غیر اخلاقی ہیں اور ان کے لیے اسے دلیلیں فراہم کرتی ہے ۔کوئی اس کو سمجھنا چاہے تو کسی عدالت میں جا کر وکیلوں کی بحث کو سُن لے۔اس ملک میں آئین شکنی کے لیے سارا استدلال عقل کا فراہم کردہ ہے ۔اخلاقی حس کبھی یہ کام نہیں کرسکتی ۔‘
بلاشبہ یہ کمال کے جُملے ہیں اور اسی لیے میں خورشید ندیم کا مداح ہوں کہ وہ اپنا مقدمہ دلائل کی بنیاد پر پیش کرتے ہیں مگر یہاں وہ خط مبحث کا شکار ہوگئے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ اہل فلسطین کے ساتھ صرف دنیا بھر کے مسلمان اورمسیحی نہیں بلکہ یہودی بھی ہیں، الٹرا لبرل ،ماڈرن، سیکولر اور خدا کو نہ ماننے والے بھی ہیں لہذا غیر مذہبی لوگوں میں اخلاقی حِس کی بیداری اِس دلیل کی رُو سےخلط مبحث ہے۔اور اگر یہ کہا جائے کہ اخلاقی حِس ہر انسان میں ہوتی ہے اور صرف مذہب اسے بیدار کرتا ہے تو بھی اِس دلیل میں سُقم ہے۔ مذہب یقیناً انسان سے اخلاقی پاکیزگی کا مطالبہ کرتا ہے مگر اِس کا یہ مطلب نہیں کہ انسانوں میں تبدیلی کا ماخذ کوئی مطلق قسم کی اخلاقی حِس ہے کیونکہ اخلاقیات کا پیمانہ ہر زمانے میں بدلتا رہا ہے ، جس زمانے میں غلامی جائز تھی اُس زمانے کی اخلاقیات اسے برا نہیں سمجھتی تھی مگرآج اِس کا تصور بھی محال ہے ،اِس تبدیلی کی وجہ انسانی عقل وشعور کا ارتقا ہے ، اِس ارتقا کی بدولت انسان نے قوانین ایجاد کیے،بنیادی انسانی حقوق طے کیےاوراقوام متحدہ کا چارٹر بنایا ۔اہل مغرب جو آج فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں اُس کی وجہ یہی ہے کہ اسرائیل اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے ۔ایک منٹ کے لیے فرض کرلیں کہ مسیحیت اہل مغرب کا مذہب نہیں بلکہ وہ سرے سے کسی مذہب کے ہی پیروکار نہیں تو کیا اُس صورت میں وہ خاموش تماشائی بنے رہتے اوراُن کی ’اخلاقی حِس ‘ بیدار نہ ہوتی؟اور پھر صلیبی جنگوں میں کس کی اخلاقی حِس درست تھی، مسلمانوں کی یا مسیحیوں کی؟بلاشبہ مذہب انسانوں کے لیے مشعل راہ کا کام کرتا ہے،اخلاقی رہنمائی بھی فراہم کرتا ہے ،تاریخ ، شاعری اور ادب کا بہترین ماخذ ہے،لیکن مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب مذہب کا کوئی پیروکار یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اُس کے مذہب کا دیا ہوا اخلاقی فریم ورک ہی آفاقی اور حتمی ہے لہذا اسے نافذ کیا جائے۔میری سمجھ کے مطابق خورشید ندیم صاحب اِس نقطہ نظر کے حامی نہیں تاہم جو لوگ ایسا سمجھتے ہیں اگر اُن کی یہ دلیل درست مان لی جائے تو پھر سوال پیدا ہوگا کہ کس مذہب کا اخلاقی ضابطہ کار نافذ کیا جائے اور کیوں کر؟ کھانے کی میز پر بیٹھے چار دوست جب اپنے اپنے مذہب کی بتائی ہوئی اخلاقی تعلیمات کے مطابق کھانا منگوا سکتے ہیں اور ہمیں اِس پر کوئی اعتراض بھی نہیں تو پھر اجتماعی بندوبست میں مذہب کا اخلاقی آرڈر نافذ کرنےکی کیا منطق ہوئی؟
ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ لوگ مذہب کو سائنس اور عقل کے مقابل لا کھڑا کرتے ہیں جو کہ درست رویہ نہیں، مذہب کا تو انسان سے مطالبہ ہی یہی ہے کہ اپنی عقل استعمال کرواور اِس کائنات کا راز جاننے کی کوشش کرے تاکہ تم اِس کے خالق تک پہنچ سکو۔لیکن ہوتا یہ ہے کہ جب کوئی نئی سائنسی دریافت کسی مذہبی عقیدے سے متصادم ہوتی ہے تو اہل مذہب خواہ مخواہ defensiveہوجاتے ہیں اور اپنے صحیفوں کی تاویل کرکےنئے سے نئے مطالب نکالنے میں جُت جاتے ہیں تاکہ انہیں سائنس کے مطابق ’درست‘کیا جا سکے۔اِس کی کوئی ضرورت نہیں،سائنس نے کبھی کسی معاملے پر حتمی دعویٰ نہیں کیا،ہر نئی سائنسی تحقیق دراصل سابقہ تھیوری کا رد ہوتی ہے،آئن سٹائن کی تھیوری نے نیوٹن کے قوانین کی کائناتی سطح پرترمیم کی تو اُس سے نیوٹن کی عظمت میں کوئی فرق نہیں آیا کیونکہ کل کو آئن سٹائن کی تھیوری میں بھی ترمیم کی جائے گی اور یہ سلسلہ تا قیامت چلتا رہے گا۔مذہبی تعلیمات تو انسان کو فقط اچھائی ،نیکی اور بھلائی کی جانب راغب کرتی ہیں،انہیں درست ثابت کرنے کے لیے سائنس کو غلط ثابت کرنا یا عقل کو عیار کہنا ضروری نہیں ۔ویسے عقل کی عیاری دیکھنی ہو تو عدالتوں میں وکلا کی بحث دیکھنے کے ساتھ ساتھ مولویوں کے مناظرے بھی دیکھ لیے جائیں تو کوئی حرج نہیں ، اِس سے قلب کو گرماہٹ ملے گی اور روح کو سکون، ثواب مفت میں حاصل ہوگا!
(گردوپیش کے لیے ارسال کیا گیا کالم)
فیس بک کمینٹ

