میرا تعلق اس نسل سے ہے جس نے انیسویں صدی کا مکمل دوسرا نصف اور اب بفضلِ تعالےٰ بیسویں صدی کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ بچشم خود دیکھا ہے اور ان کی غالب اکثریت کے آباواجداد نے تحریک پاکستان میں اپنی ہمت ، اہلیت اور استطاعت کے مطابق بھر پور مثبت کردار ادا کیا اور لازوال قربانیاں دیں۔ وطنِ عزیز پاکستان کے قیام کو اسلامی نظریے کی بنیاد پر بنایا کہ اس خطہ ارضی پہ برصغیر کے مسلمان اپنے دین ، عقائد اور اپنے اسلاف کی نیک اور پاکیزہ امنگوں کے مطابق پُر سکون زندگی گزار سکیں گے مگر اسی وقت سے اسلام دشمن قوتوں نے اِس ارادے کا اظہار شروع کر دیا تھا کہ اس نوزائدہ مملکتِ خداداد پاکستان کو ہم سو سال تک چلنے نہیں دیں گے چنانچہ اپنے حواریوں کی مدد اور سازشوں سے ایسے لوگوں کی پشت پناہی شروع کر دی جو اپنے باپ دادا ہی سے ان کی تابعداری اور وفاداری میں پیش پیش رہے اور جن کے بڑوں کی داستانیں تاریخ کی کتابوں میں آج بھی محفوظ ہیں ۔ اور پھر ہوا یوں کہ مٹھی بھر کرپٹ جرنیلوں ، ہوسِ اقتدار کے حامل سیاستدانوں اور بے ضمیر انتظامیہ مقننہ اور عدلیہ کے تعاون سے پہلے پچیس سالوں ہی میں اِس مملکتِ خداداد کو دولخت کر دیا گیا کاش کہ اُس وقت دیانتدارانہ تحقیقات سے ذمہ داران کو نشانِ عبرت بنایا گیا ہوتا تو آج ملک ترقی کی دوڑ میں شامل ہو کر دیگر ترقی یافتہ مہذب ملکوں کی طرح عوام الناس کی بہتری کے لیے کام کر رہا ہوتا مگر شومی قسمت ایسا ہونے نہ دیا گیا اور بڑے بڑے حکومتی ا داروں کے زیرِ تسلط جمہوریت کے نام پہ مافیاہی نظامِ حکومت پروان چڑھتا رہا جس سے حصہ بقدرِ جثہ وصول کر کے ملکی لوٹ مار میں مکمل طور پر شریکِ جرم رہے جس پہ پردہ ڈالنے کے لیے اٹھارہ ماہ پی ڈی ایم اور اب اس کے تسلسل میں نگران حکومت جھوٹی تاویلات سے کام چلاتے چلاتے نوبت سانحہ نو مئی تک لے آئی ہے جس کی غیر جانبدارانہ معلومات کے لیے ابھی حال ہی میں برطانیہ سے ایسوسی ایشن آف کشمیر اولڈ سٹوڈینٹس (AKOS Int) اور جی ٹین کا ایک مشترکہ وفد آزاد کشمیر اور پاکستان ٹورازم پروموشن کے حوالے سے جس کے کچھ ممبران سات ھزار کلومیٹر سے زیادہ سفر کے بعد جو اعداد و شمار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ان کے مطابق تحریکِ انصاف ملک کی مقبول ترین جماعت اور عمران خان پاپولر ترین لیڈر جو ملک کو اس گرداب سے نکالنے اور متحد رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے کو روکنے کی ہر ممکنہ کوششیں کی جا رہیں ہیں ۔ عدلیہ کی حالت تو اب محض موم کی ناک کے مترادف کر دی گئی ہے ۔ رہا نو مئی اور شہداء کی قبروں کی بے حرمتی اور دیگر حساس مقامات پر حملوں کا معاملہ تو اس کا پہلا سوال یہ ہو گا کہ ان آٹھوں مقامات پہ بیک وقت مظاہرین کو بلا مزاحمت سہولت کاری کس نے کی ۔اس وقت اسلام اور پاکستان دشمن طاقتوں نے 1971 والے تمام کرداروں اور خاندانوں کو ایک بار پھر متحد کر کے مسلمہ نمائندہ حیثیت کی شخصیت قاسم کے ابا اور ان کی جماعت کے لیے ہر ممکنہ دشواریاں پیدا کرنے کی ٹھان رکھی ہے کہ مافیا کی اِسی میں بقاء ہے ۔ انگلینڈ کے برٹش صحافی تو پاکستان کی پری پول الیکشن رگنگ کے متعلق جو نظریات رکھتے ہیں اس کا تو ہمیں بخوبی اندازہ ہے اگلے ہفتے ہمارا دس رکنی وفد پورپ کے دیگر ممالک کے چار روزہ دورے پہ جا رہا ہے تاکہ یہ جان سکے کہ آیا ان ممالک میں بھی پاکستان کے موجودہ اندازِ انتخاب جس میں ضمیر فروش سیاستدانوں کی خرید و فروخت کس مضحکہ خیز انداز میں کر کے اوازِ خلق کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اسوقت پرنٹ ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی یہ اخلاقی قانونی اور منصبی ذمہ داری ہے کہ وہ قوم کو سچ بتاہیں تاکہ آٹھ فروری کو فری اور فئیر الیکشن کے انعقاد کو ممکن بنایا جا سکے ۔

