آج اسے نمرہ کی بہت یاد آئی اس کاجی چاہا زور زور سے چیخے اور چیخ چیخ کے کائنات کے ذرے ذرے کو بتائے کہ ہاں میں گنہگار ہوں، زانی ہوں، قرضدار ہوں، وقت کا، ماضی کا، اور نمرہ کا۔
وہ ایک متوسط طبقے کا خوبصورت پڑھا لکھا نوجوان تھا ماں باپ نے گریجویشن کرتے ہی اس کی مامو ں زاد سے شادی کر دی جو اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی، خوبصورت اور مالدار تھی وہ شروع میں بہت خوش رہا ان کے دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہوا مگر اس کی فطرت کی عیاشی نہ گئی اور وہ ادھر ادھر منہ مارنے لگا انہی حرکتوں کے دوران اس کا نمرہ سے رابطہ ہوا جو پڑھی لکھی اور خوبصورت لڑکی تھی اس نے مختلف طریقوں سے اس کو اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کی اور کامیاب ہو گیا اس نے اس سے اپنا تعارف ایک یتیم اور غیر شادی شدہ شخص کے طور پہ کرایا اور آخر کار نمرہ اس کی محبت کی چال میں اپنا سب کچھ گنوا بیٹھی ۔ کچھ عرصے تک اس سے کھیل کھیلنے کے بعد اسے ٹشو پیپر کی طرح اپنی زندگی سے نکال پھینکا اور آج جب اس کی بیٹیاں بڑی ہو گئیں تو اپنی عزت محفوظ کرنےکے لیے اس نے ان پر کافی پابندیاں عائد کر دیں مگر آج بچیوں کے کمرے سے اپنی بیوی کے رونے اور ڈانٹ ڈپٹ والی آواز سن کے اس کو اپنے قدم زمین میں دھنستےہوئےمحسوس ہوئےجو اپنی بڑی بیٹی کوسختی سے ڈانٹ بھی رہی تھی اور خود بھی روئے جا رہی تھی ان کی باتوں سے اس پہ یہ آشکار ہوا کہ اس کی بیٹی کسی کے جال میں آکر آج اپنا سب کچھ لٹا بیٹھی ہے اور لڑکا بھی اپنانے سے انکاری ہے ۔۔
اور آج اس کے آنسو شرمندگی لجاجت اور اللہ کے انصاف کی وجہ سے زمین میں خاک ہو رہے تھے۔۔اور ہر سو ایک ہی آواز گونج رہی تھی ۔۔اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے
فیس بک کمینٹ

