بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ روز ایودھیا کے رام مندر میں ’رام للا‘ کی مورتی کا افتتاح کیا۔ پانچ سو سال پرانی بابری مسجد کی جگہ پر بنائے جانے والے رام مندر کی تعمیر کا کام ابھی پورا نہیں ہوا لیکن اسی سال اپریل و مئی کے دوران ملک کے عام انتخابات میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی اور نریندر مودی نے رام مندر کے افتتاح کو سیاسی پیش قدمی کے طور پر استعمال کیا ہے۔
اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نے 24 جنوری کو ایک ایسا دن قرار دیا جو ایک ہزار سال بعد بھی یاد رکھا جائے گا کہ اس دن بھارت کے ہندوؤں نے ایک ہزار سالہ غلامی کی زنجیریں توڑ کر بھگوان رام کو ان کا گھر واپس دلوایا تھا۔ تقریباً تمام قومی ٹیلی ویژن اسٹیشنوں پر نشر کی جانے والی تقریر کے دوران مودی نے کہا کہ ’ہم رام للا سے معافی کے خواست گار ہیں کہ انہیں اب تک ایک ٹینٹ میں رہنا پڑا لیکن اب وہ اپنے مقدس مندر میں واپس آ گئے ہیں‘ ۔ کسی نے مذہب کو سیاسی سلوگن کے طور پر استعمال کرنے والے وزیر اعظم سے یہ پوچھنے کی کوشش نہیں کی کہ ’چھوٹے سے رام‘ ایک مسجد گرا کر بنائے گئے مندر میں براجمان ہونے سے پہلے کون سے ’ٹینٹ‘ میں استراحت فرما رہے تھے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز کی تقریب میں رام کشن کے بچپن کی مورتی سونے سے بنائی گئی ہے جسے ہیرے جواہرات سے مزین کیا گیا ہے۔
بھارتی وزیر اعظم تقریب کے دوران ’رام للا‘ یعنی چھوٹے سے بھگوان رام سے معافیاں مانگ رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ معصوم رام کو ان کی جنم بھومی واپس کروانے کے لیے بھارت کے ہندوؤں نے ایک ہزار سال کی غلامی برداشت کی۔ اس سے تو یہی قیاس ہوتا ہے کہ بھگوان رام کے بچپن کا ذکر کے نریندر مودی درحقیقت اپنے ذہنی بچپنے کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ یا اسے سیاسی ہوس بھی کہا جاسکتا ہے۔ اسی لیے ایودھیا میں 1992 میں بابری مسجد گرانے کے واقعہ سے لے کر 22 جنوری 2024 تک رام مندر کی تعمیر اور پھر اس میں رام کی مورتی میں روح واپس لانے کی مذہبی تقریب ’پران پرتشتھا‘ کے موقع تک ہر قدم میں مذہبی انتہاپسندی کے مظاہر ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔
ماضی کے بادشاہوں کی نا انصافیوں کا نام لے کر درحقیقت بی جے پی بھارت کے انتہا پسند ہندو گروہوں کے ساتھ مل کر ایک ایسے ملک میں شدت پسندی اور انتہاپسندی کا نیا چلن روشناس کروا رہی ہے جسے اب تک سیکولر ہندوستان کی شناخت حاصل رہی ہے۔ گو کہ بھارتی آئین اب بھی غیر مذہبی اور سیکولر ہے جس میں ملکی سیاسی امور میں مذہب کا عمل دخل ناقابل قبول ہے۔ تاہم نریندر مودی نے رام مندر کا افتتاح کرتے ہوئے تاریخ کا ایک نیا لمحہ ظہور پذیر ہونے کی نوید دی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ’یہ پل صدیوں کے طویل انتظار کے بعد آیا ہے۔ اس پل کو کھونا نہیں ہے۔ یہ انڈیا کے نئے عہد کا آغاز ہے۔ ہمیں اس وقت آئندہ ایک ہزار سال کے بھارت کی بنیاد رکھنی ہے‘ ۔ درحقیقت وہ یہ کہتے ہوئے بھارتی آئین کو دفن کرنے اور ہندو اکثریت والے ایک بڑے ملک بھارت میں مسلمانوں سمیت تمام مذہبی اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری قرار دینے کا اعلان کر رہے تھے۔ نریندر مودی جو بھارت تعمیر کرنے کا عزم کر رہے ہیں وہ اس کے بانیوں کے خوابوں کا قبرستان ثابت ہو رہا ہے۔ جس ملک میں گاندھی جی نے سب کے لئے بقائے باہمی کا پیغام دیا تھا وہاں اب حکومت ایک ایسا بیانیہ متعارف کروانے میں کامیاب ہو گئی ہے جس میں سیکولرازم یا برابری کی بات کرنا گناہ قرار پاتا جا رہا ہے۔ بھارتی آئین کے الفاظ تو اپنی جگہ موجود ہیں لیکن نریندر مودی اور ان کی حکومت نے ہندو انتہاپسندوں کی اعانت سے سپریم کورٹ کے ایک ناقص فیصلہ کو تاریخی اہمیت کی ایک مسجد مسمار کرنے کے بعد وہاں رام مندر بنا کر درحقیقت ہندو عقیدے اور اس کے ماننے والوں کو برتر شہری ثابت کرنے کا عملی آغاز کیا ہے۔ اب وہ اسی نعرے کی بنیاد پر انتخابات میں تیسری بار کامیابی کے لیے قدم بڑھا رہے ہیں۔
نریندر مودی نے خود ہی ہندو انتہاپسندی کا علم نہیں تھاما بلکہ مذہبی جنون کو اس شدت سے ملک کے کونے کونے میں پھیلایا ہے کہ اب کوئی بھی سیاسی لیڈر ہندو مذہبی علامتوں کے سیاسی استعمال کو چیلنج کرنے کا حوصلہ نہیں کرتا بلکہ ہر لیڈر مودی کی مذمت کرنے کے باوجود مذہبی جنونیت کے اظہار کو عوام تک رسائی کا واحد راستہ سمجھنے لگا ہے۔ اسی لیے بھارت کے معروف سیاسی مبصر پرتاپ بھانو مہتا نے روزنامہ انڈین ایکسپریس میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’لاکھوں کی تعداد میں سرگرم ہندوؤں کی شناخت، جذبات اور امیدیں، کم از کم اس موقعے پر ایودھیا کی طرف مرکوز ہیں۔ لیکن اس طرح کے واقعے کی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی ہے۔ یہ ایک فرق کو واضح کرنے والا لمحہ ہے۔ ایودھیا میں مندر کے سنگ بنیاد کے بعد ہونے والی‘ پران پرتشتھا ’خالص اور سادہ طور پر ہندو مذہب کو سیاسی مذہب کے طور پر نشان زد کرتی ہے۔ یہ صرف ایک لمحہ نہیں ہے جب کہ ریاست نے (جس نے اس میں اپنی تمام تر طاقت جھونک دی ہے۔) سیکولر ہونا چھوڑ دیا ہے۔ یہ وہ لمحہ بھی ہے جب ہندو مذہب کا مذہبی ہونا بھی ختم ہو جاتا ہے‘ ۔
ہندوستان کے طول و عرض میں ایسی معتدل اور متوازن آوازیں کم ہو رہی ہیں اور انہیں سامنے لانے کے واقع بھی محدود ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ روز رام مندر کے افتتاح کے موقع پر چہار سو، رام مندر اور مودی ہی چھائے ہوئے تھے۔ کانگریس کے رہنما راہول گاندھی شمال مشرقی ریاستوں میں نیائے اترا میں مصروف تھے اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی سدبھاونا یاترا کا اہتمام کر رہی تھیں۔ ان دونوں نے چونکہ ایودھیا میں رام مندر کی افتتاحی تقریب میں شرکت سے گریز کیا تھا، اس لیے میڈیا پر ان کی مصروفیات کا کوئی ذکر بھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ اب یوں محسوس ہوتا ہے کہ یا تو نریندر مودی کا بھاشن سنا جائے گا یا ایسی آوازوں کو سامنے آنے کا موقع ملے گا جو مودی ہی کے خیالات کا چربہ ہوں۔ نریندر مودی اس حد تک ہندو انتہاپسندی عام کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں کہ اب ان کے ہتھکنڈوں کو چیلنج کرنا سیاسی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ یہی بی جے پی کے مقابلے میں سیاسی میدان میں سرگرم دیگر پارٹیوں، لیڈروں اور گروہوں کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جب مذہبی جنونیت کو لوگوں کے دل و دماغ میں راسخ کر دیا جائے تو درحقیقت انہیں متبادل خیالات سننے کے خلاف ’کنڈیشن‘ کر دیا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں صرف وہی کہا جا سکتا ہے جو عام لوگ سننے پر آمادہ ہوں۔ اور اس وقت بھارت کے ہندو بھگوان رام کی برتری کا قصہ سنتے ہوئے نریندر مودی کی صورت میں رام جی کا پرتو دیکھ رہے ہیں۔ ایسے میں مودی کے سامنے کسی لیڈر کی سیاست کا چراغ کیسے روشن ہو سکتا ہے؟
دنیا شعوری لحاظ سے اس مقام تک تو پہنچ چکی ہے کہ ہر شخص کو اپنا عقیدہ چننے اور اس پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس اصول کو عام کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے کہ کوئی عقیدہ اختیار کرتے ہوئے اسے ایک تو دوسروں پر جبراً مسلط نہ کیا جائے، دوسرے باقی لوگوں کو بھی اپنی مرضی کا عقیدہ اختیار کرنے کا حق دیا جائے۔ نریندر مودی کے بھارت میں دوسرے عقائد کا حق ماننے کی گنجائش محدود ہو رہی ہے۔ رام مندر کی تعمیر اور گزشتہ روز منعقد ہونے والی افتتاحی تقریب کے دوران میں عوام کو اکسایا گیا، ہندو دھرم کی ترویج کے لیے تمام سرکاری وسائل بروئے کار لائے گئے اور معاشرے کے تمام تر طبقات کو ایک ہی طریقے سے سوچنے اور عمل کرنے پر آمادہ کیا گیا۔ ایودھیا میں رام مندر کی افتتاحی تقریب پر فوجی ہیلی کاپٹروں سے گل پاشی کے مناظر سے محسوس جا سکتا ہے کہ بھارت کا پورا نظام صرف ایک عقیدے کی عظمت کے گن گا رہا ہے اور وہاں بقائے باہمی کے لیے جگہ تنگ پڑنے لگی ہے۔
مذہبی شدت پسندی ہر صورت میں سماج دشمن رویہ ہے۔ پاکستان میں مذہبی انتہاپسندی کی حوصلہ افزائی ہی کی وجہ سے دہشت گردی نے جنم لیا۔ یہی صورت حال دیگر مسلمان ممالک میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ اگرچہ جدید عالمی لغت میں ’جہاد‘ کی اصطلاح امریکی سیاسی، سفارتی اور اسٹریٹیجک ضرورتوں کی وجہ سے متعارف ہوئی تاکہ افغانستان سے روسی فوج کے انخلا کے نام پر دنیا پر امریکی تسلط قائم کیا جا سکے۔ اس وقت کی امریکی حکومتوں نے مذہبی اصطلاحات اور ہتھکنڈوں کو یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنا جائز سمجھا۔ البتہ جب یہی عفریت نائن الیون کی صورت میں امریکہ میں تباہی و بربادی کا سبب بنا تو ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے نام پر تشدد کے ایک نئے عہد کو عبارت کیا گیا۔ اس کی بھاری قیمت افغانستان، عراق، شام اور پاکستان کے عوام کو ادا کرنا پڑی۔ آج بھی متعدد مسلمان معاشرے شدت پسندی اور بقائے باہمی کے درمیان حد فاصل قائم کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بھارت میں بی جے پی اور نریندر مودی نے ہندو مذہب کی ایک انتہائی شکل سامنے لانے کے لیے سخت محنت کی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ انتہاپسند ہندو دوسرے مذاہب، ان کی علامات اور سماجی طریقوں کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ رام مندر کے افتتاح سے اس انتہاپسندی کو بھارت کا ریاستی سلوگن بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ہندوستان جیسے بڑے ملک میں ایک مذہب کے ماننے والوں میں پیدا ہونے والی یہ شدت پسندی صرف اس ملک میں آباد مذہبی اقلیتوں کا جینا ہی حرام نہیں کرے گی بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جا سکیں گے۔ دیگر مذاہب کی طرح ہندو بھی اپنے عقیدے کو امن کا پیامبر مانتے ہیں۔ البتہ اس امن پسندی کو سیاسی مقاصد سے نفرت اور تشدد میں تبدیل کرنے سے طاقت ور گروہ کمزور طبقات کو کچلنا اپنا حق سمجھتے لگتے ہیں۔ یہ سلسلہ 2002 میں گجرات فسادات سے شروع ہوا تھا اور رام مندر کی تعمیر سے اسے بھارت کی سرکاری حکمت عملی کی شکل دے دی گئی ہے۔ مودی جس دن کو ہندوستان کی آزادی کے ایک نئے عہد کا آغاز قرار دے رہے ہیں، وہ دراصل بھارت میں سیکولر ازم کے یوم تدفین کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
(بشکریہ :کاروان۔۔۔ ناروے)
فیس بک کمینٹ

