پاکستانی قیادت کو ایران امریکہ مصالحت میں شاندار سفارت کاری کی وجہ سے عالمی طور سے ہی نہیں بلکہ اندرون ملک بھی سراہا جارہا ہے۔ اگرچہ بے نیاد تنقید کے عادی عناصر کی بھی کمی نہیں ہے لیکن ذمہ دار حلقوں میں ایک مشکل صورت حال میں پاکستانی حکومت اور فوج کی کوششوں کی توصیف ہوئی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمڈ فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مقبولیت میں بھی قابل ذکر اضافہ دیکھا گیا ہے۔
تاہم اس کے ساتھ ہی یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ موجودہ حکومت کے بارے میں پائی جانے والی گرمجوشی کو ملکی سطح پر سیاسی مسائل حل کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوئی کوشش نہیں ہوئی۔ بلکہ ملک کی بڑی پارٹی تحریک انصاف کو دبانے اور اس کےاستحصال کا سلسلہ جاری ہے۔ حالانکہ سیاسی و سفارتی کامیابی سے حکومت کو یہ اعتماد ملنا چایئے تھا کہ وہ سیاسی مخالفین کی بات سنے اور انہیں ملکی نظام میں جمہوری مقام دینے کے لیے سرگرم ہو۔ ملک و قوم کو ملنے والی کسی کامیابی کے ماحول میں حکومت کے لیے سیاسی مخالفین کے ساتھ معاملات طے کرنے کا ایک بہتر موقع فراہم ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں مقبولیت کے یک طرفہ نعروں سے ہر جائز تجویز کو مسترد نہیں کیا جاسکتا اور مخالفین کو بھی حکومت کی بہتر کارکردگی کا اعتراف کرتے ہوئے کچھ رعائتیں دینے پر آمادہ ہونا پڑتا ہے۔
ایسے موقع پر حکومت دو عذر تراش سکتی ہے۔ ایک تو یہ کہ وزیر اعظم اور اعلیٰ حکومتی اراکین کی مصروفیت کی وجہ سے ملکی سیاسی معاملات پر غور کرنے کا وقت نہیں ہے۔ دوسرے اپوزیشن کی ہٹ دھرمی کو بہانہ بنا کر کہا جاسکتا ہے کہ ایسے عناصر سے بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ موجودہ پارلیمانی سیاسی عمل میں حکمران اور اپوزیشن ایک دوسرے کی بات سننے اور متفقہ امور پر وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش نہیں کریں گے تو عالمی پلیٹ فارمز پر ایک جمہوری حکومت کے طور پر موجودہ لیڈروں کو جو ستائش مل رہی ہے، اس کا سلسلہ کب تک جاری رہ سکے گا۔ یا غیر مقبول حکومت کو اگر کسی سفارتی کوشش کی وجہ سے عوام کا اعتماد حاصل ہوتا ہے تو سیاسی امور میں اس کی ہٹ ددھرمی کے بعد یہ اعتماد کیسے بحال رہے گا؟
البتہ یہ تو سنگین اور پیچیدہ سیاسی و قومی امور پر سیاسی اعتماد اور وسیع الجماعتی مواصلت و مکالمہ کی بات ہے لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ حکومت سیاسی جبر کے ہتھکنڈوں میں کمی کرکے مخالفین کے لیے سہولت پیدا کرنے پر بھی آمادہ نہیں ہے۔ یہ معاملہ صرف عمران خان اور تحریک انصاف تک ہی محدود نہیں جس کے ہزاروں کارکن بے بنیاد مقدموں میں جیلوں میں بند ہیں بلکہ ایمان مزاری جیسی انسانی حقوق کی وکیل اور شہری حقوق کے لیے کوشش کرنے والی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے ساتھ بھی یکساں سفاکانہ رویہ اختیار کیا گیا ہے۔ ان دونوں خواتین کو مبالغہ آمیز الزامات میں زیریں عدالتوں سے سزائیں دلا کر جیلوں میں بند کیا گیا ہے اور ہائی کورٹ کی سطح پر ان کی شنوائی کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا جاتا۔ یہ صورت ملکی سیاسی لیڈروں کی نااہلی کے علاوہ عدالتی نظام کی شفافیت اور غیر جانبداری پر بھی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ حکمران پارٹی کو جاننا چاہئے کہ اس کی مدت آخر کبھی تو ختم ہوگی اور ملک میں جمہوریت کا جیسا بھی لولا لنگڑا نظام جاری ہے، اس کے تحت بالآخر سب سیاسی پارٹیوں کو عوام کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔ ایسے میں موجودہ حکومت میں شامل عناصر عوام کے سامنے جھوٹ کے سوا کون سا نامہ اعمال پیش کریں گے؟
ایران جنگ کے خبروں پر چھاجانے سے پہلے عمران خان ملک کے مقبول ترین لیڈر کے طور پر پیش کیے جاتے تھے۔ ان کی پارٹی اور ہمدردوں کی طرف سے انہیں مسلسل خبروں میں رکھنے کی کاوشیں ہوتی تھیں اور حکومت کے کم از کم دو تین وزیر اور چند سیاسی رہنما صرف تحریک انصاف کو غلط قرار دینے کے مشن پر متعین تھے۔ البتہ میڈیا کی توجہ ایران جنگ اور عالمی معاشی حالات کی طرف مبذول ہوجانے کے بعد عمران خان کے بارے میں زیادہ باتیں سننے میں نہیں آرہیں۔ دوسری طرف حکومت چونکہ اپنی سفارتی کوششوں کی وجہ سے توصیف سمیٹ رہی ہے تو اسے لگتا ہے کہ تحریک انصاف اور عمران خان کا سیاسی میدان سے صفایا ہوگیا ہے۔ اب اس کی کامیابیوں اور فیلڈ مارشل کے عالمی روابط کا چرچا ہے جس کا شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) سیاسی فائدہ اٹھائے گی۔ تاہم یہ قیاس آرائیاں ٹھوس سیاسی اقدامات کے بغیر نقش بر آب ثابت ہوسکتی ہیں۔ اسی لیے کوئی بھی ہوشیار سیاسی قیادت شدید بحران میں سرخروئی ملنے کو حتمی کامیابی سمجھنے کی بجائے، ٹھوس اقدامات، اعتماد سازی اور مخالفین کو رعائتیں دے کر سیاسی کامیابی میں تبدیل کرنے کوشش کرے گی۔ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ ملکی لیڈر اس دانائی اور سیاسی دور بینی سے محروم ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم دے رکھا ہے کہ وکلا، سیاسی کارکنوں اور رشتہ داروں کو ہفتہ میں دو دن عمران خان سے ملاقات کی سہولت دی جائے۔ اس حکم کے باوجود گزشتہ کئی ماہ سے اڈیالہ جیل میں اسیر عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور ملاقاتوں کا سلسلہ بند ہے۔ نہ حکومت نے اس پالیسی کو تبدیل کیا ہے اور نہ ہی اسلام آباد ہائی کورٹ نے سوال اٹھایا ہے کہ واضح حکم کے باوجود قانون کی ایسی سنگین خلاف ورزی کیوں کر کی جاسکتی ہے۔ حکومت البتہ اس پر خوش ہے کہ تحریک انصاف ملاقات کے لیے مقرر دنوں میں اب زیادہ تعداد میں احتجاجی کارکنوں کو لانے میں کامیاب نہیں ہوتی۔ آج روزنامہ ’ڈان‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ گزشتہ دو بار سے پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا کی طرف سے ملاقاتیوں کی فہرست جیل حکام کو دی گئی ہے لیکن اس فہرست میں شامل لوگ بھی اڈیالہ جیل نہیں پہنچے۔
کسی پارٹی کی ایسی بدانتظامی اور کمزوری کو اگر حکومت اپنی طاقت سمجھے گی تو وہ مسلسل درست سیاسی فیصلے کرنے میں ناکام رہے گی۔ عمران خان ملک کے سابق وزیر اعظم ہیں۔ انہیں اعلیٰ عدالتوں سے فیصلوں کے بغیر اڈیالہ میں بند کیا گیا ہے۔ ایسی حرکت سے ان کی مقبولیت یا عوامی پزیرائی کم نہیں ہوگی۔ انہیں پسند کرنے والے تحریک انصاف کے لیڈروں کی نالائقی کی سزا عمران خان کو نہیں دیں گے۔ عمران خان جب بھی جیل سے باہر نکلے تو موجودہ ملکی حالات میں وہ دوبارہ مضبوط سیاسی پوزیشن حاصل کرلیں گے۔ کیوں کہ عوام کے معاشی و سماجی مسائل بدستور موجود ہیں اور ان میں اضافہ ہورہا ہے۔ خارجہ پالیسی میں کامیابی سے عوام کو وقتی طور پرخوش تو کیا جاسکتا ہے لیکن ان کے مسئلے حل نہیں ہوتے۔ حکومت اس پہلو پر توجہ دیے بغیر ملک کو ایسی اندھیری گلی میں دھکیلتی رہے گی جہاں سیاسی عدم اعتماد ،ملکی بہبود ہی نہیں بلکہ قومی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن جائے گا۔
حکومت بھلے عمران خان یا دیگر سیاسی قیدیوں کو کوئی رعایت نہ دے لیکن اعلیٰ عدالتوں سے ان کے خلاف قائم مقدموں کے حتمی فیصلوں میں رکاوٹیں ڈالنے کی بجائے سہولت کاری کی جائے۔ تاکہ ملک میں عدلیہ کی بے بسی اور سیاسی بنیادو ں پر ناانصافی کا تاثر ختم ہوسکے۔ حکومت نے سفارتی کامیابیوں کے موسم میں اگر سیاسی مفاہمت کا ماحول پیدا نہ کیا تو اس کا مستقبل روشن نہیں ہوسکتا۔ نہ ہی ناانصافی برقرار رکھنے سے سیاسی اعتماد بحال ہوگا۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

