واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کو 3 ہفتوں کے لیے بڑھا دیا گیا، صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل کے وزیر اعظم اور لبنان کے صدر جوزف عون کی میزبانی کا منتظر ہوں، اوول آفس میں اسرائیل اور لبنان کے سفیروں سے ملاقات کی جو بہت اچھی رہی ۔
امریکی صدر نے کہا کہ وہ لبنان کےساتھ کام کرنے کیلئے تیار ہیں تاکہ وہ خود کوحزب اللہ سے محفوظ رکھ سکے۔
اسرائیل اور لبنان کے نمائندوں کے درمیان گزشتہ روز واشنگٹن میں مذاکرات کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اس میں مزید تین ہفتوں کی توسیع کر دی گئی ہے۔ ابتدا میں 16 اپریل کو دونوں ممالک کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا۔
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے اس وقت فراہم کی گئی تفصیلات کے مطابق، معاہدے میں درج ذیل نکات شامل تھے
اسرائیل کو یہ ’حق حاصل رہے گا کہ وہ اپنے دفاع میں، کسی بھی وقت، منصوبہ بند، فوری یا جاری حملوں کے خلاف تمام ضروری اقدامات کرے۔‘
لبنان کے لیے لازم ہو گا کہ وہ حزب اللہ اور دیگر تمام ’غیر ریاستی مسلح گروہوں‘ کو اسرائیلی اہداف کے خلاف حملے کرنے سے روکنے کے لیے نتیجہ خیز مذاکرات کرے۔
فریقین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ لبنان کی سلامتی کی مکمل ذمہ داری لبنان کی سکیورٹی فورسز پر عائد ہوتی ہے
اسرائیل اور لبنان نے امریکہ سے درخواست کی کہ وہ ’تمام باقی مسائل کے حل‘ کے مقصد سے براہِ راست مذاکرات کو ممکن بنانے کا عمل جاری رکھے
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ جنگ بندی اسرائیل کی جانب سے ’نیک نیتی کے اظہار‘ کے طور پر ہے، جس کا مقصد دونوں فریقین کے درمیان ’مستقل سلامتی اور امن کے معاہدے کی جانب نیک نیتی سے مذاکرات‘ کو ممکن بنانا ہے
دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات موجود نہیں ہیں اور اس ماہ ہونے والے مذاکرات سے قبل ان کے درمیان آخری براہِ راست اعلیٰ سطحی بات چیت 1993 میں ہوئی تھی۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

