گزشتہ ہفتہ کے دوران بھار ت کی ہندو انتہاپسند تنظیم آر ایس ایس کے سیکرٹری جنرل اور ایک سابق آرمی چیف نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کا مشورہ دیا تھا۔ نئی دہلی سے آنے والا یہ پیغام خوشگوار اور امید افزا تھا۔ تاہم اب بھارت کے آرمی چیف نے ایک ایسا اشتعال انگیز فقرہ اچھالا ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان فاصلوں میں کئی گنا اضافہ کرسکتا ہے۔
ایک اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے بھارتی آرمی چیف جنرل اُپندر دویدی کاکہنا تھا کہ پاکستان کو فیصلہ کرنا ہے کہ اسے جغرافیے اور تاریخ کا حصہ رہنا یا نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں بھارتی فوج کے سربراہ نے پاکستان پر دہشت گردی کے حوالے سے فرسودہ الزامات عائد کیے اور اپنے سامعین کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ جیسے بھارت اب پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹادینے کا قصد کیے بیٹھا ہے۔ یوں تو کسی کے اچھے برے خواب دیکھنے پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جاسکتی ۔ ہر شخص اپنی خواہش و تمنا کے مطابق کچھ بھی سوچ اور تصور کرسکتا ہے لیکن اگر کوئی شخص کسی ذمہ دار عہدے پہر فائز ہو اور جس کے کاندھے پر ڈیڑھ ارب لوگوں کی حفاظت کی ذمہ داری ہو، وہ اگر اپنی غلیظ سوچ اور شدید نفرت انگیز خیالات کو برسرعام بیان کرنے کا طریقہ اپنائے گا تو اس سے نہ صرف اس شخص بلکہ اس ملک کے بارے میں یہی تاثر قائم ہوگا کہ اس پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔
جنرل اُپندر دویدی نے پاکستان کو جغرافیے اور تارٰیخ سے مٹا دینے کی جو بات کی ہے، اس کا شمار ایسی ہی بھیانک اور ناقابل قبول سوچ میں ہوگا۔ اسے کسی ذمہ دار فوجی سربراہ کا معقول یا ہوشمندانہ بیان سمجھنے کی بجائے یہ سوچا جائے گا کہ بھارت جیسا بڑا ملک جنگ جوئی کی باتیں کرتے ہوئے اور پاکستان جیسے ہمسایہ ملک کے ساتھ دشمنی نبھانے میں کسی اصول یا حد کا قائل نہیں ہے۔ اس سے بظاہر پاکستان کا نقصان نہیں ہوگا لیکن بھارت جیسے بڑے ملک کاا عتبار کم ہوگا اور دنیا یہ سوچنے پر مجبور ہوگی کہ بھارت میں پھیلنے والی انتہا پسندی محض چند گروہوں یا افراد کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ مزاج درحقیقت وہاں کی اشرافیہ اور اسٹبلیشمنٹ میں راسخ ہوچکا ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اپنے ملک کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بنا کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی دعوے کرتے ہوئے وہ چار یورپی ملکوں کے دورے پر سوموار کو ناروے کے دارالحکومت اوسلو پہنچیں گے اور یہاں کی جمہوری حکومت کو اپنی انسان دوستی اور بھارت کی جمہوریت پسندی کے بارے میں یقین دلائیں گے۔ ایسے کسی موقع پر شاید میزبان ملک کے سیاسی لیڈر تو سفارتی پروٹوکول کی مجبوری کی وجہ سے بنگال کے انتخابات میں دیدہ دلیری سے دھاندلی کرتے ہوئے بی جے پی کو جتوانے یا پھر بھارتی آرمی چیف کی طرف سے پاکستان جیسے بڑے ملک کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بابت سوال نہ کریں لیکن اگر کوئی صحافی مودی یا ان کے ساتھ آنے والے بھارتی حکام سے اس بارے میں پوچھ لے تو بھارتی ذمہ داروں کے پا س کوئی معقول جواب نہیں ہوگا۔ شاید اسی لیے نریندر مودی وطن میں ہوں یا ملک سے باہر دورے پر روانہ ہوں، نہ تو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہیں اور نہ صحافیوں سے ملتے ہیں۔
بھارتی آرمی چیف اپنے کسی دشمن کو نیست و نابود کرنے کا خواب دیکھنے والے پہلے یا آخری انسان نہیں ہیں۔ زیادہ دور کی بات نہیں ہے کہ امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ ایران کو ایسی ہی دھمکی دے چکے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اگر تہران نے امریکہ کے سامنے ہتھیار نہ پھینکے تو اس تہذیب کا وجود ختم ہوجائے گا۔ لیکن اس بیان کے تھوڑی ہی دیر بعد پاکستان کی در خواست پر ٹرمپ کو عبوری جنگ بندی پر راضی ہونا پڑا جو اب تک جاری ہے۔ حالانکہ پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہ چکا ہے۔ البتہ امریکی صدر کے بیان اور بھارتی فوج کے سربراہ کے بیان میں ایک فرق بہرصورت موجود ہے۔ ایک تو صدر ٹرمپ کو خود اپنے ہی ملک میں ایسا غیر ذمہ دارانہ بیان دینے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور ان کی پارٹی دفاعی پوزیشن میں جانے پر مجبور ہوئی۔ باالوسطہ طور سے ٹرمپ نے بھی اس بیان سے لاتعلقی اختیار کی۔ اس کے علاوہ یہ فرق بھی نوٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ صدر ٹرمپ اگرچہ امریکی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ہیں لیکن وہ بنیادی طور پر ایک سیاست دان ہیں۔ وہ پروفیشنل سپاہی نہیں ہیں۔ کسی فوج کا کوئی ذمہ دار افسر اپنے بد ترین دشمن کے بارے میں بھی ایسی غیر ذمہ دارانہ زبان استعمال نہیں کرتا۔
البتہ اس مثال سے جنرل اُپندر دویدی کو یہ سبق ضرور سیکھنا چاہئے کہ کسی ملک کو صفحہ ہستی یعنی جغرفیے یاتاریخ سے مٹا دینے کی بات نامعقولیت کی انتہا کہی جائے گی۔ اگر کوئی سیاسی لیڈر ایسی نازیبا بات کرے تو اسے سیاسی مجبوری سمجھ کر بات ٹالی جاسکتی ہے لیکن کسی آرمی چیف کے ایسے بیان کو تنگ نظری، عاقبت نااندیشی اور جنگ جویانہ ذہنیت کی بدترین مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا اور اس فوج کی تربیت اور کارکردگی کے بارے میں ضرور سوالات سامنے آئیں گے۔ جنرل دویدی جانتے ہیں کہ بھارتی فوج یا دنیا کی کوئی فوج بھی 25 کروڑ لوگوں کے ملک کو جغرافیے سے مٹا دینے کی صلاحیت نہیں رکھتی لیکن ایسی غیر ذمہ دارانہ گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ بھارتی فوج کس حد تک ملک کے انتہاپسندانہ سیاسی بیانیے کا حصہ بنتی جارہی ہے۔ سیاسی دباؤ کی وجہ سے ایسی باتیں کرنے والے بھارتی کمانڈر انڈین فوج کی پروفیشنل صلاحیت ، وقار اور اعتبار کو خاک میں ملارہے ہیں۔
بھارتی لیڈر طویل عرصہ سے پاکستان کے بارے میں اشتعال انگیز بیان دیتے رہے ہیں۔ البتہ انہیں سیاسی نعرہ سمجھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے لیکن نریندر مودی کی حکومت نے ایک طرف انڈیا میں ہندو توا کے ایجنڈے کے تحت ہندو ریاست بنانے کے ایجنڈے پر کام شروع کیا ہے تو دوسری طرف ملک کی عسکری قیادت کو غیر ذمہ دارانہ اور غیر پیشہ وارانہ بیانات دینے پر آمادہ کیا گیا ہے۔ پاکستان کے ساتھ جھڑپوں یا باہمی تنازعات کے سوال پر بیان بازی کرتے ہوئے بھارتی فوج کے ترجمانوں نے کچھ عرصہ سے غلط بیانی اور نعرے بازی کی طرز پر بیانات دے کر دو جوہری طاقتوں کے درمیان تعلقات کو مزید خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک طرف بھارتی فضائیہ کے سربراہ کو کئی ماہ بعد خیال آتا ہے کہ مئی 2025 کی جنگ میں متعدد پاکستانی طیارے تباہ کیے گئے تھے یا دہشت گردی کے واقعات کے بعد بھارتی فوج کے ترجمان حقائق کے برعکس حکومت کی سیاسی ضرورتوں کے مطابق بیان دینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ البتہ جنرل اُپندر دویدی کا بیان ان تمام غلط بیانیوں سے بڑھ کر ہے۔ یہ اشتعال انگیزی اور شدید نفرت کا افسوسناک اظہار ہے۔ بھارت جیسے بڑے ملک کی فوج کا امیج ایسے سربراہ کی غیر ذمہ دارانہ باتوں کی وجہ سے داغدار ہوگا۔
پاکستانی فوج کے شعبہ ےتعلقات عامہ نے بجا طور سے اس بیان پر ردعمل میں واضح کیا ہے کہ ایسی خواہش کرنے والے فوجی لیڈر کو آگاہ ہونا چاہئے کہ ایسی صورت میں تباہی صرف ایک ملک کا مقدر نہیں ہوگی۔ برصغیر کے فوجی و سیاسی لیڈروں کو ایک دوسرے کے بارے میں بات کرتے ہوئے دو حقیقتوں کو نہیں بھولنا چاہئے۔ ایک تو اس خطے میں ڈیرھ ارب لوگ آباد ہیں۔ کسی غلط فہمی کی بنیاد پر ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے سے گریز ضروری ہے۔ دوسرے یہ کہ جنگ کسی مسئلہ کا کوئی حل نہیں ہے ورنہ پاکستان اور بھارت سات دہائیوں کی مختصر تاریخ میں متعدد بار مڈ بھیڑ کے نتیجے میں اپنے مسائل حل کرچکے ہوتے۔
اس صورت حال میں آر ایس ایس کے سیکرٹری جنرل تاتریا ہوسبالے اور جنرل منوج نروا نےکایہ مشورہ قابل غور ہونا چاہئے کہ دشمنی کو بھلا کر باہمی رابطوں اور مفاہمت کا کوئی راستہ تلاش کیا جائے۔ کسی فوج کا مقصد اپنے لوگوں کو تباہی کی طرف دھکیلنا نہیں ہوتا بلکہ ان کی حفاظت، بہبود اور بھلائی ہی ہمیشہ اس کے پیش نظر ہونی چاہئے۔ پاکستان کو جغرافیے و تاریخ سے مٹانے کے شوق میں بھارتی فوج کو اپنے لوگوں پر ہلاکت مسلط کرنے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

