پیرس : فرانس بھر میں فٹبال کے شائقین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں 400 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، یہ صورتِ حال پیرس سینٹ جرمین (پی ایس جی) کی جانب سے چیمپیئنز لیگ فائنل میں آرسنل کے خلاف فتح کے بعد پیدا ہوئی۔
دارالحکومت پیرس میں بدامنی کو قابو میں رکھنے کے لیے ہزاروں اہلکار تعینات کیے گئے، جس کے باعث بس، ٹرین اور ریل سروسز میں خلل پڑا۔
کئی مقامات پر آتش بازی کی گئی جبکہ جھڑپوں میں کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ شہر کے مرکز میں ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
گذشتہ سال بھی جب پی ایس جی نے یہی ٹرافی جیتی تو اسی نوعیت کا تشدد دیکھنے میں آیا تھا۔ اس بار وزیر داخلہ لاراں نونیز کے مطابق حکام بہتر طور پر تیار تھے اور ان کے پاس بہت مضبوط، انتہائی مستحکم نظام موجود تھا۔
فرانس کی علامتی شانزے لیزے سڑک پر فرانسیسی ٹیم کی پنالٹی شوٹ آؤٹ میں جیت کے فوراً بعد شائقین کا ہجوم امڈ آیا۔
شہر سے موصول ہونے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شعلہ بردار روشنیاں جلائی جا رہی ہیں، سڑکوں پر برقی موٹر سائیکلیں جل رہی ہیں اور جشن منانے والے کم از کم ایک دکان کے شیشے توڑ رہے ہیں۔
اس سے پہلے دن کے وقت پی ایس جی کے پارک دی پرنس میں نصب بڑی سکرینوں پر فائنل دیکھنے آنے والے شائقین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس کے مطابق بدامنی کے دوران چھ گاڑیوں، دو کاروباری اداروں اور ایک بس سٹاپ کو نقصان پہنچا۔
حکام کے مطابق اتوار کی ابتدائی ساعتوں تک 416 افراد کو گرفتار کیا جا چکا تھا، جن میں سے 280 پیرس میں گرفتار کیے گئے۔
نونیز نے کہا کہ سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں اور اس بدامنی کو بالکل ناقابلِ قبول قرار دیا۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

