برآمدے سے گزرتے ہوئے میں نے اپنے ڈرائنگ روم سے گانے کی آوازی سنی تو میں وہیں رک گئی۔ آواز اچھی تھی اور سر بھی ٹھیک لگ رہے تھے مگرجس خوبی نے مجھے رک کر سننے پر مجبور کر دیاوہ تھا جوش اور سرمستی کے عالم میں مزے لے کر گانا۔ دوسرے لفظوں میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اپنی پوری محسوسات کے ساتھ عالم جذب میں گاتے ہوئے شاعری کی تہہ تک اتر جانا اور ایک ایک لفظ کو جذبے سے نبھانا۔ یہ یقینا میرے لیے ایک محسور کن تجربہ تھاجسے میں ایک طویل وقت گزرنے کے باوجود آج بھی اُسی تازگی کے ساتھ محسوس کر سکتی ہوں۔
مینوں چھیڑ دے مہینے ساون دے سہیلی میری بانہہ پھڑ کے
گج وج کے بلاوندے مینوں نیٹرے سہیلی مینوں ڈر لگدا
ہائے چڑھدے جاندے نے ساں میرے سہیلی مینوں ڈر لگدا
او مینوں ڈر لگدا
نئی اکھیاں اچ نیندر رہندی جد انبیاں نوں بور لگدا
ٹھنڈے پانیاں وچ اگ لگ ویندی جد انبیاں نوں بور لگدا
سوہے رنگ وچ رنگ میرا رنگ دے، سہیلی میری بانہہ پھڑ کے
مینوں چھیڑ دے مہینے ساون دے سہیلی میری بانہہ پھڑ کے
وہ ایک ایک لفظ کو ایسے لہک لہک کر گاتے اور طبلے (وہ طبلہ میرا آٹا گوندھنے والا تھال ہوتا تھا) کی تھاپ اس زور اور وارفتگی سے پڑتی کہ سننے والے بے اختیار رقص بلکہ رقصِ درویش کرنے پر مجبور ہو جاتے۔ ایسے ہی چند درویشوں کے ساتھ جب خالد سعید کو عالمِ بے خودی میں دھمال ڈالتے ہوئے دیکھتی تو سچ میں یوں محسوس ہوتا کہ جیسے شاہ حسین اور اس کے بھگت دنیا و مافیا سے بے خبر دھمال ڈال رہے ہوں۔
میں خالد سعید کی براہ راست سٹوڈنٹ تو نہیں رہی مگر ان کے قریبی شاگردوں سے سنا ہے کہ خالد سعید ایک بے مثل استاد تھے۔ اس کا اندازہ کچھ تقریبات میں انھیں براہ راست سن کر ہوا۔ دورانِ گفتگو ان کے لہجے کا اتار چڑھاؤ، ان کے ہاتھوں کی موومنٹ، ان کے چہرے کے تاثرات اور سب سے بڑھ کر حاضرین کے ساتھ ان کا مکالمہ اس بات کی دلیل تھا کہ وہ یقینا شاندار استاد رہے ہوں گے۔ دوسری اہم بات اپنے شاگردوں کے ساتھ ان کا بے تکلفانہ رویہ انھیں غیر روایتی استاد بناتا ہے اور اس بات کا تذکرہ اکثر ہمارے گھر میں رہتا تھا کیونکہ میرے شوہرِ نامدار بھی نہ صرف خالد سعید کے عزیز ترین شاگرد ہیں بلکہ خود بھی ایک استاد ہیں۔ انھی کی زبانی یہ معلوم ہوا کہ خالد سعید اور ان کے شاگرد بے تکلفی اور احترام کے ایسے رشتے میں بندھے ہوتے ہیں کہ کوئی شاگرد بھی اپنی حد کو تجاوز نہیں کرتا۔ وہ پڑھانے کے معاملے میں نہایت سنجیدہ اور بے تکان تھے مگر پڑھنے والے بھی کسی ڈر، خوف یا ہچکچاہٹ میں بھی مبتلا نہیں ہوتے تھے کیونکہ انھیں سوال کرنے اور بولنے کی پوری آزادی تھی خواہ وہ سوال کتنا ہی احمقانہ کیوں نہ ہوتا۔ میرے خیال میں ان کی خوبیوں میں یہی وہ اہم خوبی تھی جسے آج بھی ان کے بے شمار شاگرد یاد کرتے ہیں۔
خالد سعید کی شخصیت میں ایک صوفی کی سی بے نیازی تھی۔ وہ جہاں بھی ہوتے ان کے ”مریدین“ انھیں تلاش کر لیتے اور وہ سب ایک دائرے کی شکل میں بیٹھ کر انھیں سنا کرتے۔ اس دائرے میں آنے کے لیے کسی مذہب کی قید تھی نہ ذات پات کا فرق، نیک و بد میں انتر ہوتا نہ ہی کسی طرح کا بھید بھاؤ۔ کیوں آئے، کب آئے، کیسے آئے اور کس لیے آئے جیسے سوالات سے ماورا اُن کی محفل سبھی کا سواگت کرتی۔ انھی صفات کے دم سے ملتان آرٹس فورم جیسا ادارہ بنا اور پھراس نے ترقی کی۔ فورم نے ادبی سطح پر تو جو کام کیا سو کیا مگر اس فورم نے بہت سے لوگوں کی زندگیاں بدل کر رکھ دیں۔ اسی کی وجہ سے بہت سے لوگ شاعر‘ ادیب اور ننقید نگار بنے۔ یہ خالد سعید کا کمال تھا کہ انھوں نے عام آدمی کو بڑا انسان بنایا۔ انھوں نے عام آدمی کو یقین اور حوصلہ دلایا کہ وہ بھی بڑا کام کر سکتا ہے۔ انھوں نے عام تحریر لکھنے والے کو یقین دلایا کہ وہ بڑی لکھت لکھ سکتا ہے۔ خالد سعید نوجوان نسل کے ہیرو تھے۔ وہ پارس تھے جو ان کے ساتھ مس ہوا وہ سونا بن گیا۔ ایک خاص بات یہ تھی کہ وہ سامنے والے کو کبھی چھوٹا نہیں سمجھتے تھے۔ان کی ہمت اور حوصلے سے آرٹس فورم میں ابھرنے والے نام آگے چل کرملتان بلکہ اردو کے اہم نام بنے۔ انھوں نے فورم کو اپنے قیمتی ستائیس سال دیئے اور اس ادارہ کو اہم ادبی ادارہ بنا دیا۔ آخری ایک سال میں جب ان کی طبعیت زیادہ خراب ہوئی اور انھیں کینسر جیسے موذی مرض کا سامنا کرنا پڑا تو اس دوران فورم کے چند اجلاس ان کے ہاں منعقد ہوئے تاہم طبعیت کی زیادہ خرابی کے سبب ان کے گھر پر اجلاس کا سلسلہ جاری نہیں رہا مگر ان کی دلی خواہش تھی کہ فورم کو کسی بھی صورت میں رکنا نہیں چاہیے۔
خالد سعید ایک طرزِ حیات اور اندازِ تدریس کا نام ہے۔ میرا ایک بیٹا حسن پڑھنے میں تھوڑا سست تھاتو میں نے خالد سعیدسے اُس کا ذکر کیا۔ وہ حسن سے ملے اور اس سے طویل گپ شپ کی۔ میرے پوچھنے پر کہنے لگے کہ ’یہ نوجوان بہت شاندار ہے، یہ تو درویش ہے اور یہ ضرور بڑا انسان بنے گا تم دیکھ لینا‘۔میں نے ذرا بے صبری سے پوچھا کہ’سر ایسا کب ہوگا؟‘ تو وہ ہنسنے لگے اور کہا’بس تھوڑا انتطار‘۔
خالد سعید کی شخصیت شاندار تھی اور ان کا اپنا الگ اسٹائل تھا۔ فارمل انداز سے ہٹ کر جینز کی پینٹ شرٹ اور سردیوں میں جینز شرٹ کے ساتھ جیکٹ اور مفرل، سلجھے ہوئے گرے بال اور ہاتھ میں سگریٹ ان کا سگنیچر اسٹائل تھا۔سگریٹ جلتا رہتا تھا اور دیکھنے والے کو لگتا تھا کہ اس کی بڑھتی ہوئی راکھ ابھی گری کہ گری۔ وہ من موجی تھے انھیں اس بات کی پروا نہیں تھی اگر پروا تھی تو یہ کہ سامنے والے نے کیا پوچھا ہے؟وہ کسی بھی موضوع پر بے تکان گفتگو کر سکتے تھے۔ ان کا جواب آپ کو حیرت اور خوشی دونوں کیفیات سے دو چار کر دیتا تھا اور آپ اپنی سوچ اور ذہن بدلنے پر مجبور ہو جاتے تھے۔
خالد سعید درد مند دل رکھنے والے انسان تھے۔ انسانوں کے علاوہ وہ پرندوں، جانوروں‘ درختوں‘ پھولوں اور ہواؤں سے باتیں کرنے اور ان کی باتیں سننے کا نہ صرف ہنر جانتے تھے بلکہ وہ یہ جانتے تھے کہ انھیں کس وقت کیا چاہیے۔ کوپی اور چوچو(ان کے پالتو کتے جسے وہ اپنے بچوں کی طرح عزیز رکھتے تھے) ان کی زندگی کا ناگزیز حصہ تھے۔ وہ ان سے باتیں کرتے اور ان کے مزاج کے مطابق ان کی ضرویات کا خیال رکھتے تھے۔ اس ناتے سے خالد سعید کے تمام دوست اور شاگرد کوپی اور چوچو کے چاچو اور تایا قرار پائے۔ ان دونوں کے گزر جانے کا خالد سعید کو بہت افسوس تھا اور انھوں نے ان دونوں کی قبریں بھی اپنے گھر کے جنگل نما لان میں بنا رکھی تھیں۔ بالخصوص کوپی سے انھیں دلی لگاؤ تھا اور ان کے ڈرائنگ روم میں لگی گوپی کی تصاویر اس بات کا واضح ثبوت تھیں۔ آخری دو برسوں میں انھوں نے ایک پٹ کو پالا تھا جیسے وہ پیار سے گگڑو کہا کرتے تھے جس کی پسندیدہ جگہ خالد صاحب کی گود ہوا کرتی تھی۔اس کے علاوہ دو بلیاں بھی تھیں جو خود کہیں سے پھرتی پھراتی خالد صاحب کے ہاں آگئی تھیں۔ شاید ان بلیوں کو کو بھی پتا چل گیا تھا خالد صاحب ہی نے انھیں بہت پیار دینا ہے۔ اکثر باتیں کرتے کرتے وہ اٹھ کھڑے ہوتے تو بھابھی ارشاد بول پڑتیں کہ ’خالدی ابھی ان کو کھانا دیا ہے، کچھ ٹائم تو گزرنے دو۔‘ مگر خالد صاحب کو اندازہ ہوتا کہ بلیاں انھیں بلا رہی ہیں۔ وہ انھیں دودھ اور بسکٹ دیتے اور پیار کرتے۔ اس لمحے ان کے چہرے پر بچوں کی طرح کی خوشی اور معصومیت ہوتی۔ ہم کبھی کبھار بھابھی ارشاد کی غیر موجودگی میں شرارتاً پوچھ لیتے کہ بھابھی کے علاوہ بھی آپ کو کبھی کسی سے پیار ہوا تو انھوں نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ ’یہ پیار تھا یا لگاؤ اس کا تو علم نہیں پر میں اُس کے گھر کے دروازے پر پھول رکھ کر اور ڈوربیل بجا کر آ جایا کرتا تھا۔‘
خالد سعید بہترین افسانہ نگار‘مترجم‘ شاعر‘ استاد اور ماہر نفسیات تھے۔ ان کے علمی اور ادبی کام پر لکھنا تو کسی نقاد کا کام ہے مگر ان تمام پہلوؤں میں کامن پہلو انسان دوستی تھی اور شاید یہ انسان دوستی ہی ان کے ادب اور فکر کی بنیاد تھی۔ وہ استاد کی طرح تربیت کرتے اور ماہر نفسیات کی طرح شخصیت کا تجزیہ کرتے اور آپ کی کمیوں اور کمزوریوں کو انسانی زندگی کا ایک پہلو قرار دیتے ہوئے اسے قبول کرتے۔ مجھے اور میرے بچوں کے ساتھ ان کا رویہ نہایت شفیق اور محبت بھرا تھا بالخصوص میری بیٹی بختاور کے ساتھ وہ بہت پیار کرتے تھے اور اس کی حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے۔ ان سے میں نے یہی سیکھا ہے کہ انسان کو اس کی تمام تر کوتاہیوں اور خوبیوں کے ساتھ قبول کرنا چاہیے۔
میں اکثر سوچتی ہوں کہ خالد صاحب میں ایسا بہت کچھ تھا جو انھیں دوسروں سے مختلف بنا دیتا تھا۔ خاص ہوتے ہوئے بھی انھوں نے خود کو ایک عام انسان کی طرح رکھا ہوا تھا۔ ایک ایسا عام انسان جسے کسی کلاس کا ڈرتھا اور نہ ہی اسٹیٹس کا خوف تھا۔ وہ ایک من موجی تھا جو کسی بھی وقت قہقہہ لگا سکتا تھا، دھمال ڈال سکتا تھا، گیت گا سکتا تھا‘ پرندوں اور جانوروں سے مکالمہ کر سکتا تھا‘ڈھابے پر بیٹھ کر گپ لگا سکتا تھا‘ رقص کر سکتا تھا‘ اپنی نظموں کو لہک لہک کر سنا سکتا تھا‘ محبت کر سکتا تھا اور اپنے کوپی کو خواب میں دیکھ سکتا تھا۔ وہ کیسا انسان تھا: وہ کہکشاؤں کا مرکز تھا یا پھر خود ایک کہکشاں۔
فیس بک کمینٹ

