وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے بجٹ سے پہلے رواں مالی سال کا قومی اقتصادی سروے پیش کیا ہے۔ یہ سروے دراصل سرکاری اعداد و شمار پر مشتمل دستاویز ہوتی ہے جس سے ماہرین مستقبل میں کسی ملک کی معاشی ترقی یا انحطاط کا اندازہ قائم کرتے ہیں۔ وزیر خزانہ نے اگرچہ سروے کے مثبت اشاریوں پر زور دیا ہے تاہم دیکھا جاسکتا ہے کہ حکومت قومی پیداوار اور ٹیکس میں اضافے کے اہداف حاصل نہیں ہوسکے۔
ملک کا زیادہ تر انحصار اب بھی بیرونی قرضوں پر ہے ۔ اس وقت جی ڈی پی کے تناسب سے قرضوں کی شرح 68 سے 65 فیصد پر آگئی۔ یہ ایک مثبت اشاریہ ہے ۔ اس کے ساتھ ہی وزیر خزانہ نے بتایا ہے کہ قرضوں کی ادائیگی میں 800 ارب روپے بچائے گئے ہیں۔ اس طرح ملکی معیشت کو خود انحصاری کی طرف لانے کے لیے چند اشارے موجود ہیں لیکن چوبیس کروڑ آبادی کے بڑے ملک کی معیشت کے حوالے سے یہ پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔ معاشی لحاظ سے دنیا میں جگہ بنانے والے ممالک عام طور سے سالانہ قومی پیداوار میں 6 سے 7 فیصد اضافہ کرتے ہیں۔ اس طرح ان ممالک میں آبادی میں اضافہ اور غربت کی وجہ سے پڑنے والا بوجھ اٹھانے کی سکت پیدا ہوتی ہے۔
تاہم پاکستان کے اقتصادی سروے کے مطابق سال رواں میں یہ شرح 2.7 فیصد تھی۔ یعنی حکومت نے تین فیصد سے زائد اضافے کا جو ہدف مقرر کیا تھا، اسے بھی حاصل نہیں کیا جاسکا۔ البتہ وزیر خزانہ نے اسے مثبت پہلو کے طور پر پیش کرنے کے لیے اسے عالمی اور ماضی کے تناظر میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ گلوبل جی ڈی پی نمو 2.8 فیصد ہے اس لیے ملکی معاشی بحالی کو عالمی منظرنامے میں دیکھا جائے گا۔ 2023 میں ہماری جی ڈی پی گروتھ منفی، 2024 میں 2.5 فیصد تھی جو اب 2.7 ہے۔ وزیر خزانہ کا خیال ہے کہ ملکی مجموعی پیداوار میں اضافہ ریکارڈ ہونا بھی مثبت ہے لیکن سب معاشی ماہرین اس تجزیے سے متفق نہیں ہوں گے۔
موجودہ حکومت درحقیقت اپریل 2022 میں تحریک انصاف کی حکومت کے بعد قائم ہونے والے پی ڈی ایم کی حکومت کا تسلسل ہے۔ اس میں انتخابی مدت میں عبوری طور سے نگران سیٹ اپ ضرور آیا تھا لیکن معاشی پالیسیوں میں تسلسل رہا تھا۔ یوں تین سال کی مسلسل کوششوں کے باوجود قومی پیداوار میں قابل ذکر اضافہ نہ ہونا معاشی منصوبہ بندی کی ناکامی کے طور پر دیکھا جائے گا۔ اگرچہ حکومتی ترجمان دعویٰ کرتے ہیں کہ موجودہ حالات میں قومی پیدا وار میں منفی کی بجائے مثبت رجحان ہی قابل تعریف ہونا چاہئے۔ اس بیان کو سیاسی لحاظ سے تو قبول کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے معاشی عوامل کا جائزہ لینا اور قومی پیدا وار میں اضافہ کے لیے زیادہ تندہی سے کام کرنے کی ضرورت ہوگی۔ کیوں کہ وزیر خزانہ خود ہی کہتے ہیں کہ جی ڈی پی میں اضافہ معاشی ترقی کی علامت ہے۔
دیکھا جاسکتا ہے کہ ملک کی زراعت مندی کا شکار رہی ہے اور اہداف کے مطابق پیداواری صلاحیت دکھانے کے قابل نہیں رہی حالانکہ زرعی شعبہ ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال معاشی شرح نمو کا ہدف 3.6 فیصد تھا جو 2.7 فیصد رہی۔ زرعی شعبے کی ترقی 2 فیصد ہدف کے مقابلے میں 0.6 فیصد تھی۔ خدمات کے شعبے کی ترقی 4.1 فیصد ہدف کے مقابلے میں 2.9 فیصد رہی۔ اقتصادی سروے کے مطابق رواں مالی سال بڑی فصلوں کی پیداوار میں 13.5 فیصد کمی ہوئی۔ کپاس کی پیداوار میں 30.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ دیگر فصلوں کی پیداوار میں 4.8 فیصد کا اضافہ ہوا۔ سبزیوں کی پیداوار میں 7.8 اور پھلوں کی پیداوارمیں 4.1 فیصد کا اضافہ ہوا۔ پاکستان میں کپاس بنیادی اور اہم ترین فصل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک زمانے میں پاکستان کپاس برآمد کرنے والے ممالک میں شامل تھا لیکن اب کپاس کی پیداوار ملکی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ضرورت پوری کرنے میں بھی ناکام ہے۔
کپاس کی پیداوار میں لگ بھگ 31 فیصد کمی ہی کی وجہ سے زرعی شعبہ پیداواری اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہؤا۔ حالانکہ زرعی پیدا وار بڑھانے کے لیے نت نئے سائنسی طریقے دریافت کیے جاچکے ہیں جنہیں دیگر ممالک کے علاوہ ہمسایہ ملک بھارت میں کامیابی سے استعمال کیا جارہا ہے۔ ملک میں کپاس کی پیدا وار میں کمی کی سب سے اہم وجہ کسانوں کی حوصلہ شکنی اور جدید طریقوں، عمدہ بیج اور کاشت کاری کے بہتر طریقوں کی عدم دستیابی ہے۔ اسی لیے کاشتکا ر گنا اور دیگر فصلیں اگا کر روزی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ملک کی اہم فصلوں کی پیداوار میں ساڑھے تیرہ فیصد کمی یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ حکومت زرعی شعبہ کی طرف توجہ مبذول کرنے، زرعی اصلاحات متعارف کرانے اور کسانوں کی حوصلہ افزائی کے منصوبے شروع کرنے میں ناکام رہی ہے۔ حالانکہ قومی پیداوار میں اضافہ کے لیے جتنی توجہ عوام سے محاصل وصول کرنے پر دی جارہی ہے، اتنی ہی محنت زرعی شعبہ کو ترقی دینے میں کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ کھانے پینے کی بنیادی اشیا سے لے کر صنعتی ضرورتوں کے لیے خام زرعی پیداوار درآمد کرنے کی بجائے ملک ہی میں پیدا ہوسکے۔
اقتصادی سروے میں سب سے مثبت پہلو افراط زر میں کمی ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ 2023 میں مہنگائی کی شرح 29 فیصد تک پہنچ چکی تھی جو اب کم ہوکر 4.6 فیصد پر آگئی ہے۔ مہنگائی میں کمی میں سب ے اہم کردار شرح سود میں کمی نے ادا کیا ہے۔ ملک میں پالیسی ریٹ ایک سال میں 22 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد پر آگیا ہے۔ اس طرح کاروباری حلقوں اور سرمایہ کاروں کو سرمایہ کی فراہمی میں سہولت ھاصل ہوئی ہے جس سے قومی پیداوار میں اضافہ ہونا چاہئے تھا۔ لیکن حالیہ اقتصادی سروے کے مطابق اس کے آثار دکھائی نہیں دیے۔ شاید مستقبل میں کوئی مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئے۔ حکومت البتہ شرح سود میں کمی اور معیشت میں استحکام کے باوجود ملکی سرمایہ داروں، تاجروں اور چھوٹا کاروبا رکرنے والے ٹریڈرز کو پوری طرح ٹیکس نیٹ میں لانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ اگرچہ وزیر خزانہ نے پیش رفت پر اطمینان ظاہر کیا ہے لیکن جب آمدنی کے اہداف پورے نہیں ہوتے تو انہیں اطمینان بخش نہیں سمجھا جاسکتا۔
وزیر خزانہ نے زرمبادلہ کے ذخائر کو ڈبل ڈیجٹ تک پہنچنے کی نوید دیتے ہوئے کہا کہ اس دورانیے میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر 9.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 11.4 ارب ڈالر ہوگئے ہیں۔ البتہ یہ اضافہ دوست ممالک کی طرف سے اسٹیٹ بنک میں رکھے گئے سرمایے کو برقرار رکھنے میں توسیع لینے کی وجہ سے دکھایا جاسکا ہے۔ اگر سعودی عرب، خلیجی ممالک اور چین کے فکس ڈیپازٹ کی رقوم منہا کردی جائیں تو ملک کا اپنا سرمایہ شاید قابل ذکر نہ ہو۔ یہ پہلو بھی معاشی احیا کی بجائے کسی نہ کسی طرح کام چلانے کی کوشش کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔ پاکستان کو اپنی قومی پیداوار اور آمدنی بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ ملکی آبادی اور معاشی حجم کے مطابق اسٹیٹ بنک کے پاس مناسب زرمبادلہ جمع ہوسکے۔ اقتصادی سروے کے مطابق سال رواں میں ملکی برآمدات 6.8 فیصد اضافے سے 27 ارب 30 کروڑ ڈالر ہوگئی تھیں۔ اگرچہ برآمدات میں تقریباً 7 فیصد اضافہ دکھایا گیا ہے لیکن ملک کے معاشی حجم اور مالی ضرورتوں کے حوالے سے یہ رقم بہت کم ہے۔ اس کے برعکس وزیر خزانہ نے امید ظاہر کی کہ مالی سال کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے ترسیلات زر 37 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔ حکومت پاکستان کو سمجھنا ہوگا کہ ترسیلات زر پر ہمیشہ بھروسا نہیں کیا جاسکتا۔ دیگر ممالک میں حالات کار تبدیل ہونے اور بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کی تعداد میں کمی بیشی ان وسائل کی فراہمی پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ ملکی ترقی کے لیے قومی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ بنیادی اہمیت کا حامل ہوگا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے معاشی استحکام کی خوشخبری سنائی ہے لیکن اقتصادی سروے کے مطابق متعدد مالی اہداف پورے نہیں ہوسکے۔ بھارت کے ساتھ حالیہ جنگ کی وجہ سے نئے بجٹ میں دفاعی اخراجات میں اضافہ کا امکان موجود ہے جس سے ملکی معیشت متاثر ہوگی اور غریب شہریوں کو یہ بار اٹھانا پڑے گا۔ وزیر خزانہ اس پہلو سے کوئی وضاحت پیش کرنے میں ناکام رہے۔ ملکی آبادی میں اضافہ ہورہا ہے اور پیداوار کے طریقے مسلسل روائتی سے ٹیکنالوجی میں تبدیل ہورہے ہیں۔ پاکستان میں اس چیلنج سے نمٹنے کا کوئی رجحان نہیں ہے۔ اقتصادی سروے یا وزیر خزانہ اس حوالے سے کوئی پالیسی پیش کرنے میں بھی ناکام رہے۔
سروے کے مطابق 56 ہزار نوجوانوں کو آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں تربیت دی جارہی ہے اور نوجوانوں کو مقامی اور بین الاقوامی جاب مارکیٹ کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔ پاکستان کی 24 کروڑ آبادی میں نصف سے زائد نوجوان ہیں جنہیں پیداوار کے جدید طریقوں سے روشناس کرانا ضروری ہے۔ ٹیکنالوجی میں چند ہزار افراد کی تربیت سے یہ قومی ضرورت پوری نہیں ہوسکتی۔
(بشکریہ:کاروان ناروے)
فیس بک کمینٹ

