تیرہویں صدی کے اوائل میں برطانوی امریکی کمپنی کے قیام اور انگریز نوآبادیاتی نمائندگان کی حکمت عملی سے تشکیل ہونے والی "عظیم ریاست امریکا” اپنی آزادی کے اڑھائی سو سال مکمل ہونے پر, ریاست کے 47 ویں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے راج میں اُن حالات سے نبرد آزما ہے۔ جن کی روایت جارج واشنگٹن سے صدر جو بائیڈن تک کے 46 صدور کی حکومتی پالیسی کا کبھی، اس انداز پر حصہ نہیں رہی، جس طرح آج کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ترجیحات کا معاملہ متعین کیا ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ امریکی ریاست اور امریکی عوام لگ بھگ نصف صدی پیچھے عین اسی طرح کی منصوبہ بندی سے عاری جنگ، ایسی ہی بے سر و پا خارجہ پالیسی، ناقابلِ برداشت جنگی اخراجات، افسوسناک فوجی اموات، شدید ریاستی معاشی بحران اور عوامی بے چینی اور غم و غصّے کا زمانہ دیکھ چکی ہے۔ تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ ایسا ہی منظرنامہ 1960 کی دہائی کے امریکا کا ہے جب ایسے ہی ایک امریکی صدر نے پورے امریکی ریاستی ڈھانچے، جنگی صلاحیت اور عسکری قیادت کو بے سر و پا میدان جنگ میں جھونک دیا تھا۔
لنڈن بی جانسن نے آج کے ایران امریکا جنگی پس منظر کی مانند بغیر کسی واضح مقصد اور عوامی تائید کے ویتنام پر جنگ مسلط کی۔ نصف صدی پیچھے کے واقعات امریکا کے برے حالات اور افسوس ناک ماضی قریب کی کیفیت کو واضح کر رہے ہیں اور یہ بھی بتا رہے ہیں کہ اس طرح سے شروع کی گئی جنگیں محض انسانی جانوں کے بے دریغ نقصان اور معاشی درجہ بندی کو تباہ کرنے کے علاؤہ اور کچھ نہیں کہ یہ سوائے بد نظمی اور نا سمجھی کے اور کچھ بھی نہیں۔ اس پر اُن جنگوں نے امریکی عوام کو دو دھڑوں میں تقسیم کیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ 20 ویں صدی کے نصف میں ویتنام جنگ اور 21 ویں صدی کے تیسرے عشرے میں ایران اسرائیل امریکا جنگ سے بلند ہونے والی آگ اور بہنے والا انسانی خون ایک ہی نسخے پر لکھی گئی دو مختلف دوائیں ہیں، جن دونوں سے شفا یابی کے بجائے "مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی” والی کیفیت بن گئی۔ ان دونوں جنگوں نے اپنی بے سٌمتی اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے امریکا کے داخلی ریاستی ڈھانچے کو بری طرح متاثر کیا, دونوں جنگوں نے امریکی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔
آج کی جنگ پورے امریکی معاشرے، امریکی مقننہ، امریکی تھنک ٹینک اور سیاست دانوں سمیت تمام نمائندہ افراد اور اداروں سے سوال پوچھ رہی ہے کہ کیا امریکا نے نصف صدی پہلے کے سبق کو بھلا دیا ہے؟ کیا امریکا آج پھر کسی عظیم المیے سے دوچار ہونے اور پھر اس سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے ؟ (کہیں شہزادہ چارلس بھی اپنی دو روز ادہر کی گفتگو میں امریکی ایوان کانگریس میں یہی سوال تو نہیں دوہرا رہے تھے)
جس جنگ نے ڈالر کو تنہا کیا اور ویتنام کے داخلی معاملات میں دخل اندازی کرنے والے امریکا کو شدید چوٹ پہنچائی، کیا امریکا اس جنگ سے جڑے تمام سوالات اور جوابات سے یکسر بیگانہ ہو چکا ہے؟ مگر سوال وہی ہے کہ شمالی اور جنوبی ویتنام کے آپسی اختلاف کو اپنے مفادات کی جنگ میں بدلنے والا امریکا آج بھی ایران میں اسلحے اور طاقت کے بے دریغ استعمال سے داخلی سطح پر توڑ پھوڑ کا خواہاں ہے تو ساتھ ہی ایران کے لامحدود آبی وسائل پر قابض ہونے کا شدید خواہش مند بھی۔ ظاہری طور پر امریکا کا مسئلہ ایران میں قایم بنیاد پرست نظام حیات اور نسقِ مملکت سے ہے جیسے امریکا سے ویتنام میں اشتراکیت کے پھول بوٹے برداشت نہیں ہوئے تھے مگر دونوں مرتبہ جو جو نقصان امریکی معاشرے نے اثھایا، جو زخم امریکی معیشت کو لگے، جو تابوت امریکی فوجیوں کے تیار ہوئے، آج ان کے بارے میں کون بات کرے گا اور کون امریکا کو داخلی انتشار کے وہ طویل برس یاد دلائے گا ؟
ویتنام جنگ دراصل وہ کمزور اور نحیف و نزار ممولہ تھا جس نے شہباز کے مضبوط جسم کو بھنبھوڑ کر رکھ دیا اور شہباز کے پنجوں میں جکڑے نظامِ زر کی موت بن گئی۔
خلیج ٹونکن کے مبینہ واقعے کی آڑ میں صدر لنڈن بی جانسن نے ویتنام میں امریکی افواج کی تعداد اس قدر بڑھا دی کہ اس واقعے سے محض چار برس بعد یعنی 1968 میں ویتنام میں امریکی فوج کے پانچ لاکھ سے زیادہ جوان پہنچ چکے تھے۔ جنگی جنون میں مبتلا صدر جانسن سمجھ ہی نہیں رہا تھا کہ اس سب کے بعد نہایت تیزی سے امریکی خزانے کی کیا حالت ہو رہی ہے اور اسے بہت جلد کن ریاستی حالتوں کا سامنا کرنا ہوگا۔
سال 2008 میں کانگریس کی طرف سے پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق ویتنام جنگ پر امریکا کا مجموعی خرچ 686 بلین ڈالر تھا جو افراط زر کے تخمینے کے بعد اسی سال یعنی 2008 میں 950 بلین ڈالر سے 1.1 ٹریلین ڈالر کے لگ بھگ بنتا ہے۔
دوسری طرف فوجی جوانوں کی اموات کی طرف نگاہ کی جائے تو قریب 59 ہزار فوجی اس جنگ میں ہلاک ہوئے، 1 ہزار 5 سو فوجی لاپتہ ہونے، جن کا آج تک کوئی سراغ نہیں ملا تو 1.5 لاکھ یعنی 1 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ فوجی شدید زخمی ہوئے، جن میں سے کئی جوانوں کے جسمانی اعضاء ضائع ہوئے تو بے شمار نے جسمانی اذیت کے ساتھ ذہنی اور نفسیاتی تکلیف کو تاحیات جھیلا۔
ویتنام جنگ کا ایک اور شدید دھچکا دوسری عظیم جنگ کے بعد ڈالر اور سونے کی باہمی قدر کا تعین تھا۔ طے یہ پایہ کہ ڈالر کو 35 ڈالر فی اونس سونے سے تبدیل کیا جا سکتا ہے لیکن ویتنام جنگ کے باعث امریکی حکومت کی طرف سے چھاپے گئے لاتعداد ڈالروں کی وجہ سے امریکی مرکزی بینک کے پاس سونے اور ڈالر کے ذخائر غیر متوازن ہوئے اور یوں ڈالر کی یہ خاصیت زمین بوس ہو گئی اور اگست 1971 کا "نکسن شاک” نے عالمی مالیاتی اداروں کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوا۔
اس جنگی افراتفری نے امریکی معیار زندگی تہہ و بالا کر دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے افراط زر کی شرح 13.5 فیصد تک پہنچ گئی۔ 300 بلین ڈالر کا قرض، امریکی ڈالر کی اس بے توقیری سے 466 بلین ڈالر سے تجاوز کر گیا۔ جنگ کے نتائج سے پریشان امریکی عوام سڑکوں پر نکل آئے اور 1969 میں واشنگٹن میں ریکارڈ 5 لاکھ لوگوں نے جنگ کے خلاف مارچ کیا۔ اس عوامی احتجاج نے امریکی تاریخ کا سب سے بڑا داخلی سیاسی، سماجی بحران پیدا کیا۔ مئی 1970 کو امریکی نیشنل گارڈ کی کینٹ اسٹیٹ یونیورسٹی میں فائرنگ سے چار نوجوان طلباء مارے گئے جن سے قومی سطح پر غم اور غصے کے جذبات مزید بھڑک اٹھے اور یوں یہ پورا زمانہ وہ ہولناک خواب ہے جو آج بھی امریکی عوام کو خوفزدہ کرتا ہے۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ امریکا نے ویتنام جنگ اور دوسروں کے معاملات میں مداخلت کرنے کی اپنی پرانی عادت سے چھٹکارا نہیں پایا اور اسی امریکی ریاستی مزاج نے آج پھر پورے امریکی معاشرے کو ہراساں اور غمگین کیا ہوا ہے۔
فروری 20 سو 26 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوست اور اسرائیلی مسلمان دشمن نیتن یاہو کی ہلہ شیری پر اس وقت ایران کے داخلی ساختے میں دخل اندازی کی کہ جب پہلے ہی امریکی معیشت خطرات کا شکار ہو رہی تھی۔
2008 کے شدید مالیاتی بحران سے نجات پاتی امریکی معیشت کے لیے ایران جنگ نہایت شدید اور جان لیوا جھٹکا ثابت ہو سکتی ہے۔
گذشتہ کچھ برسوں میں امریکی معیشت کے سکڑاؤ کا تجزیہ کیے جائے تو اس کی اوسط 2016 میں 4.7 فی صد، 2019 میں 3.5 فی صد جبکہ 2020 میں 19.2 فی صد دیکھی گئی ہے یعنی امریکا اپنی قومی دولت کے روز بروز کم ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔ 2022 میں امریکا میں 9 فی صد افراط زر ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ 2022 میں بیروزگاری کی اوسط 15 فی صد تک پہنچ چکی تھی۔ یہ افراطِ زر اور بیروزگاری کے اعداد و شمار امریکی ریاست کے شکست خوردہ داخلی نظام کی چغلی کر رہے ہیں۔
اس سب کے بعد 2025 امریکی معیشت کے لیے کچھ راحت کا باعث ہوا جب بیروزگاری کی شرح 4.3 فی صد، افراط زر کی مجموعی شرح 3.3 فی صد ریکارڈ کی گئی جبکہ ابھی بھی امریکی معیشت سانس توڑ قرضوں کی زنجیر میں جکڑی ہوئی ہے۔ سال 2025 کی رپورٹ کے مطابق امریکا پر عوامی قرضوں کا کل بوجھ 37.3 ٹریلین ہے جو کل امریکی جی ڈی پی کا 119 فی صد یعنی مجموعی قومی دولت سے زیادہ ہے۔ اس کے علاؤہ امریکا پر 9 ٹریلین ڈالر کے غیر ملکی قرضے ہیں۔ اس ذیل میں امریکا نے 1.2 ٹریلین ڈالر جاپان سے، 0.9 ٹریلین ڈالر برطانیہ سے، 0.7 ٹریلین ڈالر چین سے لیا ہوا ہے جس پر ریاست 881 بلین ڈالر سود کی مد میں سال 2024 میں ادا کر چکی ہے جبکہ یہی سود 2025 میں 1.1 ٹریلین ڈالر ہو سکتا ہے۔
اس خوفناک معاشی بحران میں مبتلا ریاست کا حکمران صدر ٹرمپ ایران کے عوام کی بھلائی کے "جعلی بخار” میں مبتلا ہو کر، رجیم چینج کا نعرہ لگاتے ہوئے، مشرق وسطیٰ میں قایم اور فعال اپنے فوجی اڈوں سے ایران پر جنگ مسلط کرتا ہے۔ اب تک کی جنگ پر یعنی پرسوں 30 اپریل تک کے جنگی اخراجات کو پینٹاگون 26 بلین ڈالر کے لگ بھگ بتاتا ہے۔ ان 26 میں سے 6 بلین ڈالر صرف چند میزائلوں کی تیاری اور استعمال پر خرچ کی مد میں صرف ہوئے۔ایران کی طرف سے تباہ شدہ
الدیفری (متحدہ عرب امارات) کی مرمت و بحالی پر قریب 5 بلین ڈالر خرچ ہوں گے۔ اس کے علاؤہ پانچ تباہ ہونے والے امریکی جنگی جہازوں کی قیمت 2 بلین ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ امریکی ماہرین دفاع کے مطابق اگر یہ جنگ ایک سال تک جاری رہی تو اس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ریاست کے 250 سے 300 بلین ڈالر خرچ کرنا ہوں گے۔
جہاں ویتنام جنگ نے امریکی معیشت کو افراط زر کی دلدل میں دھکیلا، وہیں ایران جنگ نے پہلے سے موجود مہنگائی کی آگ پر مزید تیل چھڑکا۔ ایران جنگ دنیا بھر میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنی ہے جس سے امریکا کا داخلی ساختہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ فروری میں امریکی افراط زر 3.7 فی صد تھا جو ایران جنگ کی وجہ سے اپریل میں 6 فی صد سے تجاوز کر گیا۔
جنگ کی وجہ سے امریکی معیشت نے 2 لاکھ 10 ہزار ملازمتوں کو کم کر کے محض 98 ہزار تک محدود کر دیا۔ جس سے بیروزگاری کی شرح 4 فی صد سے بڑھ گئی ہے۔ ویتنام جنگ کے ماحول کی طرح آج بھی امریکی سماج شدید توڑ پھوڑ اور شکست و ریخت کا شکار ہے۔ مارچ میں 150 امریکی شہروں میں 20 لاکھ سے زیادہ لوگ جنگ کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ سی این این کی طرف سے کیے گئے سروے کے مطابق 68 فی صد امریکی افراد ایران جنگ کے خلاف جبکہ محض 28 فی صد اس کے حق میں ہیں۔ اسی طرح 68 فی صد امریکی عوام اس جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ امریکی فوج کے 2 ہزار سے زیادہ فوجیوں نے "ایران جنگ کے خلاف خط” پر دست خط کیے جو امریکی فوج میں بڑی انقلابی تحریک کے واقع ہونے کی پیش گوئی ہے۔
دانشوروں کا کہنا ہے کہ تاریخ سائیکل کے پہیے کی طرح رواں دواں رہتی ہے اور یوں تاریخ کا یہ فسانہ خود کو دوہراتا رہتا ہے۔
اگر لوگ، اقوام، ریاستیں اور ادارے اگر تاریخ سے سبق نہ سیکھیں تو پہلے یہ تاریخ کی سر گزشت سانحہ ہو کر سامنے آتی ہے اور توجہ نہ ملنے پر مضحکہ خیز تماشے اور منظر نامے کی صورت میں دوبارہ پھوٹ پڑتی ہے۔
کمزور اور عسکری سطح پر امریکا سے کئی گنا پیچھے ہونے کے باوجود ویتنام نے امریکا کو بتایا کہ بغیر واضح مقصد, بامعنی منصوبہ بندی اور ضد پر شروع کی گئی جنگیں، انسانی ہلاکتوں کے علاؤہ کئی نسلوں کی معیشت کو زیر و زبر کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہوتی ہیں۔ آج ایران کی جنگ امریکی ماہرین کو توجہ دلا رہی ہے کہ "آج تو تمھارے پاس کھونے کے لیے سونے کے پہاڑ بھی نہیں ہیں” بلکہ آج کا امریکا قرض، بیروزگاری، مہنگائی اور افراطِ زر ایسے مگر مچھوں کے منہ میں تر نوالے کی مانند پھنسا ہوا ہے مگر امریکی فیصلہ ساز طاقتیں، جنگی جنون، توپوں کی چنگھاڑ اور منہ زور ایٹمی بربریت کے نشے میں مبتلا ہیں مگر وقت کے دو دھاری چاقو کی ایک دھار پر امریکی معیشت کی گردن ہے تو دوسری نوک سے امریکی فوج کا اندرونی ڈھانچہ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
تو سوال سیدھا ہے کہ خود کو مہذب، امن پرست اور اعلیٰ سطح پر باشعور کہنے والا امریکا دولت اور طاقت کی طلب میں نہایت شرمناک ماضی رکھتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے آبی وسائل پر قابض امریکا آج ایک طرف وینزویلا کی دولت کو دیکھ دیکھ کر رال ٹپکا رہا ہے تو دوسری طرف عراق، شام وغیرہ کی بربادی اور اس کے وسائل پر اپنے قبضے کے بعد بھی بھوک، بیروز گاری، داخلی انتشار، مہنگائی، افراطِ زر اور عوامی غصے ایسے عذاب سے جھوجھتا یہ زمینی ٹکڑا مزید دولت کی ہوس میں ایران کی طرف دوڑا چلا جا رہا ہے۔ گذشتہ 50 برسوں سے اوپر زمانے میں اس ملک نے 4 کروڑ سے زیادہ انسانوں کا قتل عام کیا ہے۔ جن میں بچے، بوڑھے، خواتین حتیٰ کہ سکول میں پڑھنے والی کم سن طالبات بھی شامل ہیں۔ اس کے ساتھب ساتھ امریکا نے تباہی و بربادی کو جس طرح مشرق وسطیٰ اور دیگر ممالک جیسے افغانستان وغیرہ پر مسلط کیا ہے، وہ سوائے بربریت، سفاکی اور دولت کی ہوس کے اور کچھ نہیں ہے۔ یہ واضح ہے کہ امریکا نے اپنی زبردست معاشی قوت اور جنگی دہشت سے خوفناک نتائج حاصل کیے ہیں اور پوری دنیا کو ڈرا کرگ رکھنے کے لیے منظم نظام ترتیب دیا ہے۔ اس نے جب چاہا ہے جس ملک کی عوام کو چاہا ہے بھوکا رکھا ہے، انہیں سخت اذیتیں دی ہیں اور ایسے حالات پیدا کیے ہیں جن سے تنگ آ کر لوگ بجنگ آمد کوں اور اپنی موجود حکومتوں کے خلاف صف آرا ہو جائیں اور امریکی مفادات کے حصول میں مدد فراہم کریں۔ کیسا عجیب مذاق ہے کہ دنیا میں انقلاب کے داعی یہ لوگ بظاہر اپنے خطوں میں نظام کو انقلاب کی غرض سے لپٹتے ہیں تاکہ وہ جدید نظم کو اپنا کر قومی سطح پر ترقی کریں مگر دراصل وہ امریکا کے آلہ کار ہوتے ہیں اور امریکی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اپنا وقت، اپنی دولت یہاں تک کہ اپنی جان داو پر لگاتے ہیں۔
دنیا بھر کے دانشوروں، سیاسی ثقافتی تجزیہ کاروں اور باشعور لوگوں کو دکھائی نہیں دیتا کہ امریکا وینزویلا میں کیا کر رہا ہے ؟ اس نے ایران میں کیا حالات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ؟ وہ روس کے خلاف یوکرین کے لوگوں اور حکومت کو کیسے استعمال کر رہا ہے ؟ اس نے صدام حسین، کرنل قذافی اور اسامہ بن لادن وغیرہ کو کس طرح اس انجام تک پہنچایا ہے جس کی خواہش امریکا نے بحثیت ریاست کی اور اس پر طرفہ تماشا یہ کہ کبھی امریکا نے اپنی خواہش کو عراقی عوام کا انقلاب بنا کر پیش کیا تو کبھی اپنے مقاصد کے حصول کے لیے قذافی کی اپنی قوم کو استعمال کیا۔ وہ لوگ جو انقلاب برپا کرتے پھرتے تھے وہی سب امریکی استعمار کی فولادی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہوتے ہیں مگر کیا دنیا بھر کے دانشور اتنا واضح سچ دیکھنے سے عاری ہیں ؟
یہ سب دیکھتے ہوئے میری نگاہ میں امریکا نہ تو عظیم ہے، نہ ہی تہذیب و ثقافت کا پیش کار اور نہ ہی امریکا کوئی با وقار ملک ہے بلکہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
فیس بک کمینٹ

