عباس بر مانی نے چند روز قبل اپنی پہلی کتاب ” کیلاش کتھا “ محبت کے ساتھ میری نذر کی تو جی چاہا کہ اسے بتادوں کہ جب سے بعض قلم کاروں نے سفر نا ہے کو صفر نامہ بنایا ہے میں نے اس صنفِ نثر کا مطالعہ کرنا ہی چھوڑ دیا۔ تارز صاحب سے معذرت کے ساتھ اب تو صور تحال یہ بھی ہوتی ہے کہ اگر کوئی قلم کار اپنے بازو پر امام ضامن بندھوا کر مظفر گڑھ سے ملتان آئے تو واپسی پر ملتان کا سفر نامہ لکھنا ضروری سمجھتا ہے۔ دو چار سال بعد دوبارہ کسی سبب سے ملتان آئے تو سفرنانے کا ایک نسخہ ساتھ ہوتا ہے تا کہ ہمیں معلوم ہو سکے کہ اہل ملتان کون ہیں۔ یہاں کے گلی کوچے کیسے ہیں اور یہاں کی ثقافت کیا ہے۔ ؟
گزشتہ دنوں ایک ادیب نے اعلان کیا کہ اس کے سفر ناموں میں حسرتِ گناہ کا ذکر ہوتا ہے یا کثرتِ گناہ کا۔ ہم نے سوچا کہ سفر نامہ پڑھ کر مسافر کی حسرتوں اور کثرتوں سے لطف اندوز ہونے کا کیا فائدہ؟ مرد کی شان تو یہی ہے کہ وہ اپنے زور بازو پر یقین رکھتا ہے اور اپنی دنیا آپ پیدا کرتا ہے۔
عباس برمانی چونکہ دوست ہے اس لیے میں نے تمام تر تحفظات کے باوجود اس کی کتاب پڑھ ڈالی ۔ جانتا تھا کہ اگر نہ پڑھی تو اگلی چند ملاقاتوں کے دوران باتوں باتوں میں ہی سنا دی جائے گی۔ برمانی سے میری پہلی ملاقات گزشتہ برس انہی دنوں میں ہوئی۔جب مستنصر حسین تارڑ نے اس کے ساتھ کشتی کے سفر پر روانہ ہوتا تھا۔ پہلی ملاقات پر بھی معلوم ہوا کہ بر مانی چوٹی کا ڈاکٹر ہے۔ آج تک حیرت اس بات پر ہے کہ فاروق لغاری کے دیس سے تعلق رکھنے کے باوجود بر مانی دوستوں پر دار کیوں نہیں کرتا اور محسن کشی اس کی سرشت میں شامل کیوں نہیں ؟ ۔ ایک وجہ مجھ میں آتی ہےاور وہ یہ کہ برمانی تمن دار نہیں ہے۔
میں نے ” کیلاش کتھا “ کا مطالعہ سرسری انداز میں شروع کیا بالکل اسی طرح کہ جیسے کسی کتاب کا ناگزیر حالات میں مطالعہ کرتے ہیں کہ اگر نہ پڑھی تو دوست ناراض ہو جائے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کیلاش کتھا نے پہلے باب میں ہی میرا دامن تھام لیا۔ بہت کم سفرنا مے ایسے ہوتے ہیں جن میں مسافر اپنے قاری کو اپنے ساتھ لیکر چلتا ہے” کیلاش کتھا“بھی انہی چند سفر ناموں میں سے ایک ہے۔ میرے لئے اس سفرنامے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ عباس نے اسے صرف سفر کی کہانی اور منظر تا مے تک محدود نہیں رکھا بلکہ ایک روشن خیال لکھاری کی حیثیت سے اس نے ہر مقام پر سیاسی وسماجی شعور کا دامن تھا مے رکھا۔ سفر کے آغاز سے اختتام تک وہ جہاں بھی گیا روشن خیالی کا دیا اس کے ہاتھوں میں تھا۔ وہ اس بات پر حیران رہا کہ بہت سے خطوں میں سورج نکلنے کے باوجود اند ھیرا ختم کیوں نہیں ہوتا ؟ ۔ جب میں نے کیلاش کتھا پڑھنا شروع کی تو میں اسے محض ایک پھٹیک سمجھ رہا تھا لیکن اچھی کتاب کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ جب آپ اس کو پڑھ لیتے ہیں تو آپ کو ملال ہوتا ہے کہ یہ کتاب اتنی جلدی ختم کیوں ہوگئی۔ کیلاش کتھا کے ساتھ بھی یہی ہوا کتاب ختم ہوئی تو مجھے شدت کے ساتھ احساس ہوا کہ عباس برمانی نے اس کتھا کو بہت جلد سمیٹ لیا۔ عباس برمانی کے سفرنامے کی خوبی ہے کہ وہ سفر کی داستان بیان کرتے ہوئے بہت سی ان کہی کہانیاں بھی بیان کر دیتا ہے۔ وہ نام نہاد مسلمانوں کے چہروں سے نقاب الٹتا ہے۔ اسے افسوس ہوتا ہے کہ علمائے سُو محض اپنی دکان چمکانے کیلئے ایک دوسرے کے قتل کا فتوی کیوں جاری کر رہے ہیں ۔وہ دیکھتا ہے کہ کیسے کا فرستان کے مولوی ٰثو اب کمانے کیلئے کیلاش لڑکیوں کو اغوا کر کے ان سے شادیاں کرتے ہیں۔ ہر جگہ لوگوں کا استحصال ہوتا ہے۔ سفر کے دوران اسے مسلسل اپنی دھرتی یاد آتی ہے۔ وہ اپنے دوستوں کا ذکر کرتا ہے۔ مسلسل ایک فلیش بیک کی کیفیت اس کی کتھا میں حسن بھرتی ہے۔
حاضرین محترم اس سفرنامے کے مطالعے کے بعد میرے روشن خیال دوستوں میں ایک اور دوست کا اضافہ ہو گیا۔ مجھے یہ سفر نامہ پڑھ کر کچھ اس لئے بھی زیادہ خوشی ہوئی
که عباس برمانی میری طرح سوچتا ہے بہت سی ایسی باتیں جنہیں میں آج تک سوچتا رہا مگر کہہ نہیں سکا عباس برمانی نے کہہ دی ہیں۔ سفر نامہ بر مانی نے لکھا کتھا رسس میرا ہو گیا۔ میں کھلے بازوؤں کے ساتھ برمانی کا استقبال کرتا ہوں ۔ عباس ایک روشن خیال انسان ہے روشن خیال لوگ اگر جمہوریت کا قتل بھی کر دیں تو ہم جمہوریت پسند ہونے کے باوجودصدائے احتجاج بلند نہیں کرتے۔
( سال 2000 میں کیلاش کتھا کی تعارفی تقریب میں پڑھا گیا )

